وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے سانحے پر تنقید کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے خود کو احتساب کے لیے پیش کردیا۔
پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں آج لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ سانحے کے بعد وفاقی وزیر صحت اور متعلقہ حکام کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ ملک بھر میں شہریوں کی جانب سے واقعے پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: پمز اسپتال میں قیامت خیز آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق، وزیراعظم نے وفاقی سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا
دریں اثنا پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیئر رہنما سینیٹر شیری رحمان نے بھی وفاقی وزیر صحت سے سانحے پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔
اسلام آباد میں پمز کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کسی بھی غلطی کا ذمہ دار جو بھی پایا گیا اسے نہیں بخشا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے خود کو احتساب کے لیے پیش کردیا ہے، وزیراعظم میرے باس ہیں اور وہ میرے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں صبح 6 بج کر 38 منٹ پر ایئر کنڈیشنر کے قریب چنگاری نظر آئی، جس کے ایک منٹ بعد لوگ وہاں سے بھاگتے ہوئے دکھائی دیے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آکسیجن کی موجودگی نے آگ کو مزید شدت دی، تاہم کوئی بھی معلومات چھپائی نہیں جائیں گی۔
وفاقی وزیر صحت کو اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران شہریوں کے احتجاج کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انہیں وہاں سے روانہ ہونا پڑا۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کا دروازہ بند تھا اور لوگوں کو اندر داخل ہونے کے لیے کھڑکیاں توڑنا پڑیں۔
شیری رحمان نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق ڈاکٹرز موجود نہیں تھے، نومولود بچوں کی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔
مزید پڑھیں: پمز میں فائر سیفٹی خامیوں کی نشاندہی، ڈاکٹرز اور عملے کو فائر سیفٹی ٹریننگ بھی نہ مل سکی
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی واقعے کو سیاسی رنگ دینے نہیں آئی بلکہ یہ سوال کرنا ہماری ذمہ داری ہے کہ آخر یہاں کیا ہوا، ذمہ دار وزیر کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر حسین بخاری نے کہاکہ واقعے پر وزارتِ صحت کو جوابدہ ہونا چاہیے، صرف ایک سیکریٹری کو ہٹا دینا کافی نہیں ہوگا۔














