دنیا کی معروف ترین معاصر فنکاروں میں شمار ہونے والی جاپان کی یایوئی کوساما 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
ان کی کمپنی نے جمعرات کو ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 14 اگست کو وفات پا گئی تھیں، جس کے بعد دنیا بھر سے ان کے لیے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: مارول کی مشہور اداکارہ وائی چنگ ہو 82 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں
’پولکا ڈاٹ کوئین‘ کے نام سے شہرت رکھنے والی یایوئی کوساما نے ذہنی صحت کے مسائل اور بصری کیفیات کو اپنے فن میں ڈھالتے ہوئے رنگا رنگ فن پارے تخلیق کیے۔
ان کے فن کی نمایاں خصوصیات میں نقطوں، جال نما ڈیزائن اور لامحدودیت کی علامتوں کا استعمال شامل تھا۔

ان کی کمپنی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ کوساما نے اپنی پوری زندگی فن کی تخلیق کے لیے وقف کی اور ایک ایسی جدت پسند فنکارہ کے طور پر عالمی شہرت حاصل کی جس کے فن کا دائرہ بصری فن، پرفارمنس، افسانہ نگاری اور شاعری تک پھیلا ہوا تھا۔
بیان کے مطابق کوساما نے زندگی کے آخری ایام تک مصوری جاری رکھی اور اپنا برش کبھی ایک طرف نہیں رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: گیم آف تھرونز کے معروف اداکار مائیکل پیٹرک 35 برس کی عمر میں انتقال کرگئے
’وہ ہمیشہ کی محبت اور لازوال روح کی تلاش میں آخری وقت تک مصروف رہیں۔‘
1929 میں ایک خوشحال اور قدامت پسند خاندان میں پیدا ہونے والی کوساما نے محض 10 برس کی عمر میں اپنے منفرد فن پارے بنانا شروع کر دیے تھے۔

اپنی خودنوشت میں انہوں نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک میز پوش پر سرخ پھولوں کا نقش دیکھنے کے بعد انہیں وہی نقش چھت، کھڑکیوں اور ستونوں پر بھی دکھائی دینے لگا اور یوں محسوس ہوا جیسے پورا کمرہ اس نقش سے بھر گیا ہو۔
جاپان میں فنون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کوساما 1950 کی دہائی کے اواخر میں امریکا منتقل ہوگئیں۔ معروف امریکی فنکارہ جارجیا اوکیف کی مدد سے انہوں نے نیویارک کے جدت پسند فنون کے حلقوں میں اپنی جگہ بنائی۔
مزید پڑھیں: بکنگھم پیلس سے ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ تک، ڈولی پارٹن کی یاد میں دنیا بھر میں خراجِ عقیدت
جاپانی خاتون ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنے کے باوجود کوساما نے بڑے حجم کی جرات مندانہ پینٹنگز اور 1960 کی دہائی میں منعقد ہونے والے متنازع فنّی مظاہروں کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ ان مظاہروں میں جسم پر پینٹنگ اور پولکا ڈاٹس کا نمایاں استعمال کیا جاتا تھا۔
کوساما کے فن پارے لاکھوں ڈالر میں فروخت ہوتے رہے، انہوں نے فیشن لائن بھی متعارف کرائی، ’چرچ آف سیلف آبلیٹریشن‘ قائم کیا اور خود کو ’ہائی پریسٹِس آف پولکا ڈاٹس‘ قرار دیا۔

1970 کی دہائی میں جاپان واپسی کے بعد انہوں نے ٹوکیو کے ایک نفسیاتی اسپتال میں داخلہ لیا، جہاں وہ اپنی زندگی کے آخری حصے تک مقیم اور فن تخلیق کرتی رہیں۔
1980 کی دہائی کے بعد کوساما کی عالمی شہرت میں ایک مرتبہ پھر نمایاں اضافہ ہوا۔ ان کے مشہور ’انفینٹی رومز‘، کدو کے مجسمے، خصوصاً جاپان کے فنون سے مشہور جزیرے ناؤشیما میں نصب زرد پولکا ڈاٹ کدو، اور دیگر فن پارے آج بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔
The world lost legends this week. Dolly Parton and Yayoi Kusama. Her artwork brings such joy. A highlight of visiting Japan. She lived in a psychiatric hospital for decades for self care. Incredible. pic.twitter.com/Zb69kvudgX
— Paul Winston MD – Restoring Movement is the goal. (@drpaulwinston) August 27, 2026
دنیا بھر سے فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات اور مداحوں نے کوساما کو خراج عقیدت پیش کیا۔ ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک نے انہیں ایک حقیقی بصیرت رکھنے والی فنکارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دنیا کو بے حد وسیع تخیل کی طاقت دکھائی۔
ٹوکیو میں یایوئی کوساما میوزیم کے باہر موجود مداحوں نے بھی ان کے فن کو منفرد اور عام لوگوں کے لیے قابلِ فہم قرار دیا۔
ان کے مطابق کوساما نے شوخ رنگوں، منفرد ڈیزائن اور روزمرہ اشیا کو فن میں تبدیل کرکے اپنی دنیا کو انتہائی منفرد انداز میں پیش کیا۔














