میٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ کی جانب سے کمپنی کو زیادہ سے زیادہ اے آئی پر انحصار کرنے والی تنظیم میں تبدیل کرنے کا منصوبہ توقعات کے مطابق کامیاب نہ ہوسکا۔ کمپنی نے ایک اندرونی منصوبے کے تحت بعض ٹیموں کے حجم میں 60 فیصد تک کمی پر غور کیا تھا تاہم ملازمین کی شدید مخالفت، حوصلے میں کمی اور اے آئی ایجنٹس کی غیرمتوقع کارکردگی کے باعث منصوبے کو محدود یا ترک کرنا پڑا۔
رائٹرز کے مطابق، پروجیکٹ او ٹی (Project OT) کے نام سے تیار کیے گئے اس منصوبے کا مقصد میٹا کو ایک ’اے آئی نیٹو‘ کمپنی میں تبدیل کرنا تھا، جہاں روزمرہ کے متعدد کام انسانی ملازمین کے بجائے خودکار اے آئی ایجنٹس انجام دیتے اور چھوٹی، ماہر ٹیمیں ان کی نگرانی کرتیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟
منصوبے کے تحت مختلف ٹیموں کے حجم میں دو مراحل کے دوران نمایاں کمی پر غور کیا گیا تھا۔ میٹا نے مئی میں ملازمین کی تعداد میں تقریباً 10 فیصد کمی کی تاہم نومبر میں برطرفیوں کے دوسرے مرحلے کو بعد میں منسوخ کردیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کو ملازمین کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اندرونی جائزوں سے یہ بھی سامنے آیا کہ اے آئی ایجنٹس مطلوبہ پیداواری فوائد فراہم نہیں کر رہے تھے۔ بعض صورتوں میں اے آئی پر مبنی نظام نے کام کے عمل میں رکاوٹیں اور تکنیکی مسائل بھی پیدا کیے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا پیٹ بھرنے کے لیے کتابیں جلا کر تلف کی جانے لگیں؟ علمی ذخائر کو ٹیکنالوجی سے نیا خطرہ
میٹا نے اے آئی ٹیکنالوجی کی تیاری، ڈیٹا سینٹرز اور کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے تاہم کمپنی کے اندر اے آئی ایجنٹس کو بڑے پیمانے پر انسانی کام کا متبادل بنانے کی کوششیں توقع کے مطابق نتائج نہ دے سکیں۔
مارک زکربرگ نے بعد میں اے آئی کے حوالے سے اپنے مؤقف میں بھی تبدیلی کی اور انسانی ملازمین کی جگہ اے آئی لانے کے بجائے اے آئی کو چھوٹی اور زیادہ پیداواری ٹیموں کو بااختیار بنانے کے لیے استعمال کرنے پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے ہاتھوں انسانیت کے خاتمے کے کتنے فیصد امکانات ہیں، ماہرین کے اندازے
زکربرگ کے مطابق اے آئی ایجنٹس کی ترقی ان کی توقعات کے مطابق تیزی سے نہیں ہوئی تاہم انہیں امید ہے کہ آنے والے مہینوں میں یہ ٹیکنالوجی مزید مؤثر ثابت ہوگی۔
میٹا کی جانب سے منصوبے میں مشکلات کے باوجود اے آئی سے متعلق سرمایہ کاری جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی اپنی مستقبل کی حکمت عملی میں مصنوعی ذہانت کو مرکزی حیثیت دینے کے ارادے سے پیچھے نہیں ہٹی۔














