وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پمز واقعے پر وزیراعظم نے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی ہے، اس کے علاوہ کوئی دوسری کمیٹی نہیں ہے۔ کمیٹی گزشتہ رات سے متحرک ہے اور اسے 48 گھنٹوں میں اپنی رپورٹ پیش کرنا ہے، جبکہ کمیٹی کے ضابطہ کار بھی واضح ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کل شام تک آ جائے گی اور کمیٹی کی سفارشات پر من و عن عمل کیا جائے گا۔ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے اور واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمات قائم ہونے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ پمز کے بعد گائنی کے پیچیدہ کیسز راولپنڈی اور دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ پمز واقعے کی اصل حقیقت تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔ وہ خود بھی اس حوالے سے حتمی رپورٹ کے منتظر ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مختلف رپورٹس میں اصل حقیقت کیا سامنے آتی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے پمز کی عمارت میں آگ بجھانے کے انتظامات کے حوالے سے بتایا کہ اسپتال کی عمارت پرانی ہے اور اس کے ڈھانچے میں خودکار آگ بجھانے کا نظام نصب نہیں کیا جاسکتا۔
وفاقی وزیر صحت کے مطابق انجینئرز کا کہنا ہے کہ عمارت کے موجودہ ڈھانچے میں خودکار آگ بجھانے کا نظام نصب کرنا ممکن نہیں، اسی لیے وہاں آگ بجھانے والے سلنڈر رکھے گئے تھے۔ ان کے مطابق 36 میں سے 24 سلنڈر استعمال کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کے مطابق آگ کو اسی کمرے تک محدود رکھا گیا اور باقی حصے میں آگ نہیں پھیلی، جبکہ دیگر مریضوں کو اسی منزل سے باہر نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ پمز کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر
مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ ان تمام دعوؤں کا حتمی تعین تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہی ہوگا۔
پمز واقعے کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس میں فائر سیفٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ واقعے کے بعد فائر بریگیڈ کی رپورٹ میں بھی حفاظتی انتظامات اور ایمرجنسی راستوں سے متعلق خامیوں کی نشاندہی سامنے آئی ہے۔
مصطفیٰ کمال سے جب پمز میں انتظامی غفلت اور مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پمز میں مسائل موجود ہیں اور مختلف شعبوں کی یونینز بھی اثر انداز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وارڈز کی الگ یونینز، نرسوں کی الگ یونین، ڈاکٹروں کی الگ یونین اور دیگر انتظامی گروہ موجود ہیں۔ ان کے بقول پمز کا نظام درست کرنا آسان نہیں، تاہم حکومت اس معاملے پر کام کر رہی ہے۔
‘اگر مستعفی ہوکر کراچی چلا گیا تو پیپلز پارٹی کی زندگی اور خراب ہوجائے گی’
پیپلز پارٹی کی جانب سے استعفے کے مطالبے پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا پورا ایجنڈا ہی یہی ہے اور اسے نئے انتظامی یونٹس کی بات بھی بہت زیادہ ناگوار گزرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘کاش میں بتا سکتا کہ مستعفی ہونے والے معاملے میں کیا کیا اور کیا نہیں ہوا۔ اگر میں مستعفی ہوکر کراچی چلا گیا تو پیپلز پارٹی کی زندگی اور خراب ہوجائے گی۔’
مصطفیٰ کمال نے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 18 سال سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور جب بھی وہ کراچی جاتے ہیں تو وہاں پیپلز پارٹی کی ناقص طرز حکمرانی کی بات ہوتی ہے۔ ‘ان کی جان نہیں چھوٹنے والی۔’
پمز سانحے کے بعد پیپلز پارٹی کے مختلف رہنماؤں کی جانب سے بھی وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔
پمز کی انتظامی یونٹس میں تقسیم
وفاقی وزیر صحت نے پمز کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 4 ماہ میں حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اسپتال کے انتظامی معاملات میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی خراب نظام یا فرد کو ہٹایا جائے تو اس کی جگہ بہتر متبادل کہاں سے لایا جائے۔ ان کے مطابق بعض اوقات فیصلہ یہ کرنا پڑتا ہے کہ کم خراب شخص کو ذمہ داری دی جائے یا زیادہ خراب شخص کو۔
صحت کے شعبے میں اصلاحات اور نئے اسپتال
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت صحت کے شعبے میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہی ہے اور ان کا مقصد سرکار کو اسپتال چلانے کے کاروبار سے نکال کر عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم صحت کارڈ کئی سال سے غیر فعال تھا، تاہم انہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اس معاملے کو دوبارہ فعال کرایا اور وزیراعظم کی منظوری سے اس کے لیے رقم حاصل کی گئی۔
وفاقی وزیر کے مطابق گزشتہ 14 ماہ کے دوران اسلام آباد میں 2 ہزار 441 بستروں کا اضافہ کیا گیا جبکہ 18 نئے اسپتال بھی شامل کیے گئے۔
اسلام آباد کے نجی اسپتالوں کی نگرانی
مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد کے نجی اسپتالوں اور طبی مراکز کے حوالے سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق 2 جون 2025 کی سفارشات میں بتایا گیا تھا کہ اسلام آباد میں بعض نجی اسپتالوں کے لائسنس اور صحت کے شعبے کی نگرانی کے نظام میں مسائل موجود ہیں۔ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کا بورڈ اور لائسنسنگ کا عمل بھی مؤثر انداز میں فعال نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے کلینکس اور زچہ و بچہ مراکز بھی مناسب ضابطہ کار اور نگرانی کے بغیر کام کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت کے مطابق اسلام آباد میں 16 بنیادی مراکز صحت، 3 دیہی مراکز صحت اور چند کمیونٹی ہیلتھ مراکز موجود ہیں، تاہم ان میں سے صرف 4 بنیادی مراکز صحت میں ڈاکٹر تعینات ہیں۔
اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی میں تبدیلیاں
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے انتظامی معاملات میں بھی انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد انہیں ایک ایسا سربراہ ملا جس کی کارکردگی سے وہ مطمئن نہیں تھے۔ کئی ماہ کے بعد انہوں نے اسے تبدیل کیا اور ڈاکٹرنعیم کو ذمہ داری سونپی، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مختصر عرصے میں اتھارٹی کی کارکردگی میں نمایاں بہتری پیدا کی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ تقریباً 15 روز قبل انہیں بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا، جس پر انہوں نے اعتراض کیا اور وزیراعظم سے معاملہ اٹھایا۔
ان کے مطابق وزیراعظم نے وفاقی وزیر عطا تارڑ کو ہدایت کی کہ وہ ان کے ساتھ بیٹھ کر اس معاملے کو حل کریں اور ایک ہفتے کے اندر اس حوالے سے پیش رفت کی جائے۔
گل پلازا سانحے کا حوالہ
گفتگو کے دوران مصطفیٰ کمال سے جنوری 2026 میں گل پلازا سانحے کے حوالے سے ان کے سابقہ مؤقف کا بھی حوالہ دیا گیا، جب انہوں نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔
اس پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ گل پلازا کے معاملے میں بھی ان کا مؤقف یہی تھا کہ تحقیقات سے صرف کسی ایک واقعے کے ذمہ داروں کا تعین نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے نظام کی خامیوں کا بھی پتا چلنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پمز کی تحقیقاتی رپورٹ سے یہ محسوس ہوا کہ تمام حقائق سامنے نہیں آئے یا رپورٹ میں کسی اہم پہلو کا تعین نہیں کیا گیا تو عدالتی کمیشن بنایا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر 24 یا 48 گھنٹوں میں سامنے آنے والی رپورٹ سے معلوم ہو کہ حقیقت کچھ اور ہے اور رپورٹ میں کچھ اور لکھا گیا ہے تو حکومت کے پاس عدالتی کمیشن بنانے کا اختیار موجود ہے۔
پمز کے واقعے پر سیاسی دباؤ
پمز سانحے کے بعد وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ذمہ داروں کے تعین اور احتساب کا مطالبہ کیا، جبکہ شیری رحمان اور نیئر بخاری سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی وفاقی وزارت صحت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے تاہم کہا کہ وہ وزیراعظم کے فیصلے کے پابند ہیں اور تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر کسی فرد کی مجرمانہ غفلت ثابت ہوئی تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے اور کسی کو بھی ذمہ داری سے فرار کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔














