امریکی خلائی ادارہ ناسا اپنی نئی نسل کی خلائی دوربین ’نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ‘ خلا میں بھیجنے کی تیاری کررہا ہے، جو کائنات کے تاریک مادے، تاریک توانائی، کششِ ثقل اور نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرے گی۔
تقریباً 4 ارب ڈالر کی لاگت سے تیار کی جانے والی یہ دوربین امریکی ریاست فلوریڈا میں واقع ناسا کے کینیڈی خلائی مرکز سے اسپیس ایکس کے فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کا سوئفٹ دوربین کو بچانے کا مشن ناکام، اب کیا ہوگا؟
ناسا کے حکام کے مطابق دوربین کی روانگی مقررہ وقت سے تقریباً 9 ماہ پہلے کی جا رہی ہے۔ دوربین وسیع پیمانے پر آسمان کا مشاہدہ کرنے اور انتہائی تیزی سے معلومات جمع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے سائنسدان کائنات کا پہلے سے کہیں زیادہ تفصیلی جائزہ لے سکیں گے۔
ناسا کے گوڈارڈ خلائی پرواز مرکز سے وابستہ رومن منصوبے کی سینئر سائنسدان جولی میک اینری کے مطابق دوربین کا بنیادی آلہ انتہائی حساسیت کے ساتھ آسمان کے وسیع علاقوں کا تیزی سے اور مؤثر انداز میں جائزہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
A Hybrid Approach: A Space-Based “Starshade” and Giant Earth-Based Telescopes 🔭
Astronomers need to detect the faint light of planets located next to blindingly bright stars—a feat that is nearly impossible from Earth without some clever workarounds. A NASA team is proposing a… pic.twitter.com/HL8O0dOYpJ
— Black Hole (@konstructivizm) August 25, 2026
انہوں نے بتایا کہ دوربین کا مرکزی مشاہداتی منصوبہ ایک سال سے زیادہ عرصے پر محیط ہوگا، جس کے دوران 2 ارب سے زائد کہکشاؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس سے سائنسدان یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ کائنات میں ستارے، کہکشائیں اور کہکشاؤں کے جھرمٹ کس طرح وجود میں آئے، بڑھے اور وقت کے ساتھ تبدیل ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: زمین کی کشش ثقل کچھ دیر رکنے کے دعوے، ناسا نے صورتحال واضح کردی
سائنسدان کائنات کے وقت کے ساتھ پھیلاؤ کی رفتار بھی جانچیں گے، ان مشاہدات سے تاریک مادے اور تاریک توانائی کی بنیادی نوعیت اور کائنات کی ساخت کو سمجھنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
کائنات میں عام مادے کے علاوہ تاریک مادہ اور تاریک توانائی بھی شامل ہیں۔ عام مادے میں ستارے اور گرد و غبار شامل ہیں، جبکہ تاریک مادے کی موجودگی کا اندازہ بنیادی طور پر اس کی کششِ ثقل کے اثرات سے لگایا جاتا ہے۔ موجودہ اندازوں کے مطابق کائنات کا تقریباً 27 فیصد حصہ تاریک مادے پر مشتمل ہے۔
رومن دوربین ہزاروں نئے سیاروں کی تلاش میں بھی مدد دے گی اور نظامِ شمسی سے باہر ایسے سیاروں کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی جو ہمارے نظامِ شمسی سے مشابہ ہوسکتے ہیں۔ اس کے ذریعے قریبی دوسرے ستاروں کے گرد موجود سیاروں کی براہِ راست تصویر کشی کے لیے نئی ٹیکنالوجی بھی آزمائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا نے مریخ کے قریب سے گزرنے والے خلائی جہاز کی حیرت انگیز ویڈیو جاری کردی
لانچ کے بعد راکٹ سے علیحدہ ہونے پر رومن دوربین ’لگرینج پوائنٹ 2‘ کی جانب روانہ ہوگی، جو زمین سے چاند کے فاصلے سے تقریباً 4 گنا زیادہ دور واقع ہے۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ رومن دوربین کے وسیع مشاہدات کائنات کی تشکیل، اس کے ارتقا اور اس میں موجود تاریک مادے و تاریک توانائی کے بارے میں کئی اہم سوالات کے جواب تلاش کرنے میں مدد دیں گے۔














