ایک گلوب پر امریکا تھا ہی نہیں، ویانا کا عجائب گھر انسانی علم کی دلچسپ داستان کیسے سناتا ہے؟

پیر 31 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کو ہم آج ایک اسکرین پر چند لمحوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ انگلی کے ایک اشارے سے کسی بھی ملک، شہر یا سمندر تک پہنچا جاسکتا ہے لیکن کبھی انسان کے لیے پوری دنیا کا تصور ایک گولے پر بنے چند نقشوں، سمندروں اور نامعلوم خطوں تک محدود تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ابتدا میں انسان کس خطے میں مقیم تھا، قدیم کھوپڑی نے نئے راز کھول دیے

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں قائم ایک منفرد عجائب گھر اسی انسانی جستجو کی کہانی سناتا ہے۔ گلوب میوزیم دنیا کا واحد عوامی عجائب گھر ہے جو مکمل طور پر گلوبز یعنی دنیا اور آسمان کے قدیم کروی نقشوں کے لیے وقف ہے۔

ویانا کے 17ویں صدی کے تاریخی محل پالے مولارڈ میں قائم یہ عجائب گھر نہ صرف جغرافیہ کی تاریخ دکھاتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ مختلف ادوار میں انسان دنیا کے بارے میں کیا جانتا تھا، کیا نہیں جانتا تھا اور نامعلوم دنیا کو اپنے تخیل میں کس طرح بھرتا تھا۔

یہاں موجود 220 سے زیادہ نایاب اور قدیم گلوبز میں سے بیشتر سنہ 1850 سے پہلے کے بنے ہوئے ہیں۔ ان میں بڑے اور شاندار گلوبز سے لے کر چھوٹے، تہہ ہونے والے جیب میں رکھے جانے والے گلوبز تک شامل ہیں۔

عجائب گھر کے ڈائریکٹر نکولاس شوبرزبرگر کے مطابق گلوبز یہ دکھاتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ہمارے اپنے سیارے کے بارے میں انسانی تصور کیسے تبدیل ہوا اور دنیا میں کوئی دوسری جگہ ایسی نہیں جہاں اتنے مختلف گلوبز ایک ساتھ دیکھے جاسکیں۔

ایک خاموش دنیا جہاں وقت رک گیا ہے

ویانا کے مشہور اور مصروف سیاحتی مقامات کے درمیان یہ عجائب گھر بظاہر نسبتاً چھپی ہوئی جگہ محسوس ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے: برطانیہ میں آگ جلانے کے سب سے قدیم آثار دریافت، انسانی تاریخ کی ٹائم لائن بدل گئی

یہاں داخل ہونے والا شخص پہلے گولڈن کیبنٹ نامی ایک شاندار کمرے میں پہنچتا ہے جہاں کئی صدیوں پرانے دیواروں کے نقوش یونانی دیومالا کے مناظر پیش کرتے ہیں۔

اسی ماحول میں ایسے قدیم آلات بھی رکھے گئے ہیں جو زمین اور آسمانی اجسام کی حرکات کو سمجھنے میں مدد دیتے تھے۔ ان میں ٹیلیوریم شامل ہیں جو سورج کے گرد زمین کے مدار کو ظاہر کرتے ہیں جبکہ آرمِلری اسفیئرز حلقوں کے ایک ڈھانچے کے ذریعے آسمانی اجسام کی حرکت کو سمجھانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

اس کے بعد عجائب گھر کی 4 مرکزی گیلریوں میں داخل ہوتے ہی ماحول مزید خاموش ہوجاتا ہے۔

قدیم شیشے کے شوکیسز میں رکھے گلوبز کے درمیان چلتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کئی صدیوں سے وقت تھم گیا ہو۔

ایسے گلوبز جن پر دنیا ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی

ان قدیم گلوبز میں سے بعض ایسے ہیں جو آج کے انسان کو حیران کردیتے ہیں۔

ایک گلوب پر سمندر گہرے نیلے رنگ میں دکھائی دیتے ہیں اور یورپ، بحیرہ روم اور افریقا کے ساحلی علاقوں پر مختلف مقامات کے نام درج ہیں لیکن شمالی امریکا کا بڑا حصہ ابھی نامعلوم ہے۔

مزید پڑھیں: انسان کے مزاج کتنی اقسام کے، قدیم نظریہ کیا ہے؟

ایشیا کی شکل بھی موجودہ نقشے سے مختلف ہے جبکہ آسٹریلیا اور انٹارکٹیکا کی جگہ ایک ایسے فرضی جنوبی براعظم کو دکھایا گیا ہے جس کے بارے میں اُس وقت انسانوں کو مکمل معلومات نہیں تھیں۔

نامعلوم سمندروں میں بعض جگہوں پر جزائر کے بجائے سمندری عفریت بنے ہوئے ہیں۔

اس کے ساتھ موجود ایک آسمانی گلوب پر اُس زمانے کے فلکیاتی مشاہدات کے ساتھ یونانی دیومالا کے کردار دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں پرگاسس نامی اڑتا ہوا گھوڑا ہے تو کہیں پرسیوس اپنے ہاتھ میں میڈوسا کا کٹا ہوا سر لیے نظر آتا ہے۔

عجائب گھر کے ڈائریکٹر کے مطابق یہ اس مجموعے کے قدیم ترین گلوبز میں شامل ہیں۔

گلوبز انسانی سوچ کا آئینہ بھی ہیں

قدیم گلوبز کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ صرف جغرافیہ کی کتابیں نہیں بلکہ اپنے زمانے کے انسان کے عقائد اور تصورات کا ریکارڈ بھی ہیں۔

بعض گلوبز پر ایسے سمندر دکھائی دیتے ہیں جہاں نامعلوم دنیا کو ڈریگن اور دوسرے فرضی جانوروں سے آباد کردیا گیا تھا۔

کچھ گلوبز پر کیلیفورنیا کو ایک جزیرے کے طور پر دکھایا گیا ہے حالانکہ آج ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔

کچھ نقشوں پر نوآبادیاتی دور کے تعصبات بھی واضح نظر آتے ہیں۔ بعض جگہ مقامی آبادیوں کو انتہائی منفی اور توہین آمیز انداز میں پیش کیا گیا ہے جبکہ افریقی ساحلوں پر ہسپانوی اور پرتگالی جھنڈے بنے ہوئے ہیں جو اُس دور کے ’ملکیت‘ کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: قدیم دور کے انسانی ڈھانچوں میں پایا جانے والا وائرس آج بھی لوگوں کے پیچھے

شوبرزبرگر کے مطابق یہ گلوبز نوآبادیاتی سوچ کا حصہ بھی ہیں۔ وہ خوبصورت فن پارے ضرور ہیں لیکن انہیں اس دور کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے جس میں وہ بنائے گئے تھے۔

ان کے مطابق ہر گلوب اس بات کا ریکارڈ ہے کہ اُس وقت انسان کیا جانتا تھا لیکن اتنا ہی اہم یہ بھی ہے کہ وہ کیا نہیں جانتا تھا۔

چاند کا وہ حصہ جو انسان نے دیکھا ہی نہیں تھا

عجائب گھر میں موجود ایک گلوب اس بات کی غیر معمولی مثال ہے کہ انسانی علم کس طرح مرحلہ وار آگے بڑھا۔

یہ سنہ 1961 میں تیار کیا گیا چاند کا گلوب ہے۔

اس پر چاند کا وہ حصہ تفصیل سے نقشہ کیا گیا ہے جو اس وقت انسان دیکھ چکا تھا لیکن چاند کے دوسری جانب کا ایک حصہ بالکل سفید چھوڑ دیا گیا تھا۔

وجہ یہ تھی کہ اس وقت انسان نے چاند کے اس حصے کو دیکھا ہی نہیں تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی عجائب گھر میں 2 برس بعد تیار کیا گیا ایک نیا چاند کا گلوب بھی موجود ہے جس میں وہ خالی حصہ بھی شامل کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: سورج گرہن انسان کے دماغ اور رویے پر کیا اثر ڈالتا ہے؟ حیران کن سائنسی انکشافات

یوں صرف 2 گلوبز کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چند ہی برسوں میں انسانی علم کس قدر آگے بڑھ گیا۔

سال 1492 کا وہ گلوب جس پر امریکا موجود ہی نہیں

عجائب گھر کے داخلی حصے میں موجود ایک اور گلوب خاص توجہ کا مرکز ہے۔

یہ مارٹن بہائم کے سنہ 1492 میں مکمل کیے گئے مشہور گلوب کی نقل ہے۔ یہ وہی سال تھا جب کرسٹوفر کولمبس مغرب کی جانب سمندری سفر پر روانہ ہوا تھا۔

اس گلوب پر امریکا کا وجود ہی نہیں۔

یورپ اور ایشیا کے درمیان ایک وسیع سمندر پھیلا ہوا ہے کیونکہ اس وقت یورپی دنیا میں امریکا کے وجود کا علم نہیں تھا۔

مزید پڑھیے: 3 ہزار سال قبل یورپی باشندوں کی رنگت کیسی ہوتی تھی؟

یہ گلوب شاید اس بات کی سب سے طاقتور یاد دہانی ہے کہ آج کا ’دنیا کا نقشہ‘ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔

شوبرزبرگر کے مطابق گلوب کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہمارے سیارے کا ایک چھوٹے پیمانے کا ماڈل ہے جس پر دنیا کے بارے میں بے شمار کہانیاں بیان کی جاسکتی ہیں یعنی موسم، ارضیات، جغرافیہ، تجارتی راستے اور بہت کچھ۔

کبھی گلوب امیروں کی نشانی ہوا کرتے تھے

آج اسکولوں، دفاتر اور گھروں میں گلوب ایک عام چیز نظر آتا ہے لیکن ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔

ابتدائی دور میں گلوب انتہائی مہنگی اور پرتعیش اشیا میں شمار ہوتے تھے اور صرف بادشاہوں، اشرافیہ اور دولت مند تاجروں کی پہنچ میں تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ان کی تیاری آسان اور کم مہنگی ہوتی گئی۔ گلوب چھوٹے ہوئے، زیادہ عام ہوئے اور بالآخر اسکولوں، گھروں اور بچوں کے کمروں تک پہنچ گئے۔

یوں ایک ایسی چیز جو کبھی دولت اور مرتبے کی علامت تھی عام زندگی کا حصہ بن گئی۔

گوگل ارتھ کے دور میں بھی گلوب کیوں اہم ہے؟

آج ہمارے پاس گوگل ارتھ اور دیگر جدید ٹیکنالوجی موجود ہے۔ پوری دنیا کو ایک موبائل فون یا کمپیوٹر کی اسکرین پر دیکھا جاسکتا ہے۔

اس کے باوجود قدیم گلوبز میں ایک ایسی کشش ہے جو اسکرین پر موجود نقشوں میں شاید محسوس نہیں ہوتی۔

گلوب کو ہاتھ سے گھمایا جاسکتا ہے، اس پر انگلی رکھ کر کسی سمندر یا براعظم کو دیکھا جاسکتا ہے اور یہ سوچا جاسکتا ہے کہ صدیوں پہلے کسی شخص نے اسی گلوب کو گھماتے ہوئے دنیا کے کسی دور دراز حصے کا سفر کرنے کا خواب دیکھا ہوگا۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

شوبرزبرگر کے مطابق گلوب صرف ایک سائنسی آلہ نہیں بلکہ ایک ایسی چیز بھی ہے جو انسان کو دور دراز ملکوں کے بارے میں خواب بھی دکھاتی ہے۔

گلوبز روزمرہ زندگی اور ثقافت کا حصہ کیسے بنے؟

24 ستمبر 2026 سے گلوب میوزیم میں ایک نئی نمائش بھی شروع ہونے والی ہے جس کا موضوع ’روزمرہ زندگی، فن اور ثقافت میں گلوبز‘ ہے۔

اس نمائش میں دکھایا جائے گا کہ گلوب کس طرح ایک مہنگی اور بااثر طبقے کی علامت سے نکل کر عام گھروں اور روزمرہ زندگی کا حصہ بنا۔

نمائش میں فن، تعمیرات اور فلموں میں گلوب کے استعمال کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔

مثال کے طور پر فلمی دنیا میں چارلی چیپلن کی مشہور فلم ’دی گریٹ ڈکٹیٹر‘ میں ایک پھولنے والے گلوب کے ساتھ ان کا رقص بھی گلوب کی مقبول ثقافتی علامت بن چکا ہے۔

عجائب گھر کے ڈائریکٹر کے مطابق مقصد یہ دکھانا ہے کہ گلوب ہماری روزمرہ زندگی میں تقریباً ہر جگہ موجود رہا ہے۔

6 سال کی عمر میں شروع ہونے والا شوق

شوبرزبرگر کی اپنی گلوبز میں دلچسپی بھی بچپن سے شروع ہوئی۔

وہ چھوٹی عمر میں قدیم نقشوں اور گلوبز پر موجود جہازوں، سمندری عفریتوں اور فرضی مخلوقات سے بہت متاثر ہوئے۔

صرف 6 سال کی عمر میں انہوں نے اپنے دنیا کے نقشے بنانا شروع کردیے تھے۔

ان کے مطابق انسان یورپ میں بیٹھ کر بھی یہ سوچ سکتا ہے کہ دنیا کی دوسری جانب کیا ہوسکتا ہے اور شاید کوئی دوسری چیز تخیل کو گلوب جتنا متحرک نہیں کرتی۔

ویانا کی عمارتوں پر چُھپے ہوئے گلوبز

گلوب میوزیم کی کہانی صرف اس کی عمارت تک محدود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قدیم اناج واقعی زیادہ صحت مند ہیں؟ کوئنو اور اسپیلٹ کے بارے میں حیران کن حقیقت

ویانا کے مختلف حصوں میں تقریباً 50 گلوبز عمارتوں کی چھتوں اور بیرونی حصوں پر موجود ہیں۔ وہ اکثر عام نگاہ سے چھپے رہتے ہیں لیکن شہر میں چلتے ہوئے انہیں تلاش کیا جاسکتا ہے۔

عجائب گھر نے اپنی نئی نمائش میں ان گلوبز کو ایک ورچوئل نقشے پر بھی نشان زد کیا ہے تاکہ لوگ ویانا کی سیر کرتے ہوئے اوپر نگاہ اٹھائیں اور ان چھپی ہوئی علامتوں کو تلاش کریں۔

ایک گلوب، ایک زمانہ اور ایک دنیا

گلوب میوزیم میں آنے والا شخص شاید ابتدا میں یہ سمجھ کر داخل ہو کہ وہ صرف قدیم نقشے اور گلوبز دیکھنے جارہا ہے لیکن وہاں سے نکلتے وقت اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ دراصل انسانی علم اور تخیل کی تاریخ دیکھ کر آیا ہے۔

کسی گلوب پر سمندری عفریت اس بات کی علامت ہے کہ انسان اس وقت کیا نہیں جانتا تھا، کسی پر غلط نقشہ اس کی محدود معلومات کو ظاہر کرتا ہے، کسی پر نوآبادیاتی جھنڈے اُس زمانے کی طاقت اور سیاست کی کہانی سناتے ہیں اور چاند کا خالی حصہ بتاتا ہے کہ انسانی علم مسلسل آگے بڑھتا رہتا ہے۔

یہ گلوبز ہمیں یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ دنیا صرف وہ نہیں جو ہم آج جانتے ہیں۔ ہر دور میں انسان نے اپنے علم کی حدود کے مطابق دنیا کا ایک نیا تصور تخلیق کیا۔

اور شاید اسی لیے ویانا کا یہ خاموش اور بظاہر چھوٹا عجائب گھر دراصل ایک بہت بڑی کہانی سناتا ہے۔

مزید پڑھیے: کتے انسانوں کے دوست کتنے ہزار سال پہلے بنے؟

یہ انسان کی اس مسلسل کوشش کی کہانی ہے جس کے ذریعے اس نے اپنے گرد موجود دنیا کو سمجھنے، نقشے پر اتارنے اور پھر نئے سرے سے دریافت کرنے کی کوشش کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پشاور پولیس انٹرپول کے ذریعے بحرین سے واپس لائے گئے ملزم کی حفاظت نہ کرسکی، پشاور پہنچتے ہی حملے میں ہلاک، ممتازے کون تھا؟

اسمارٹ چشمے اور خواتین کی پرائیویسی: پاکستان میں ایک نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ نیا خطرہ؟

وزیرِاعظم شہباز شریف کی ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت، عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں

محبوبہ کو بھیجا گیا پرانا میسج والدہ کو مل گیا: گوگل نجی گفتگو نئے پیغامات کے ساتھ بھیجنے لگا، صارفین شرمندہ

سندھ طاس معاہدے پر ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی اہم سفارتی فتح ہے، وزیر توانائی اویس لغاری

ویڈیو

آبنائے ہرمز کے اعصابی مرکز لارک جزیرے پر امریکی حملہ، محدود کارروائی یا نئی جنگ کا آغاز؟

سرکاری و نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

پمز آتشزدگی: 1122 پر کال موصول ہوتے ہی ریسکیو فائر بریگیڈ کی گاڑی 6 منٹ میں اسپتال کیسے پہنچی؟

کالم / تجزیہ

پاکستان ہاکی کا زوال کیسے ختم ہوگا؟

سلام سسٹر رضیہ نورین!

قبض، گٹر اور انقلاب