پنجاب اسمبلی میں اقلیتی قیدیوں کی سزا میں مذہبی تعلیم کی بنیاد پر رعایت کی قرارداد کثرت رائے سے منظور

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب اسمبلی میں اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کے لیے مذہبی تعلیم اور امتحانات کے انتظام اور کامیابی کی صورت میں قانون کے مطابق سزا میں رعایت دینے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب نے معاون خصوصی شعیب مرزا اور ڈی سی لاہور کو سی ایم میرٹ بیج سے نواز دیا

یہ قرارداد حکومتی رکن راحیلہ خادم کی جانب سے پیش کی گئی۔

قرارداد کے متن کے مطابق ‘پنجاب پریزن رولز 1978’ کے رول 215 کے تحت قیدیوں کو مذہبی تعلیم حاصل کرنے پر قانون کے مطابق قید کی مدت (سزا) میں رعایت دی جاتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 سے سال 2025 کے دوران 2,558 مسلم قیدیوں نے دینی تعلیم حاصل کر کے اس قانونی سہولت اور رعایت سے فائدہ اٹھایا ہے۔

مزید پڑھیے: پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

قرارداد میں زور دیا گیا ہے کہ اقلیتی قیدیوں کے لیے بھی اس نظام پر مؤثر عمل درآمد کی سخت ضرورت ہے۔ عیسائی، ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو بھی ان کے اپنے مذہبی نصاب کے مطابق تعلیم حاصل کرنے، امتحانات میں شرکت کرنے اور کامیابی کی بنیاد پر قانون کے مطابق سزا میں رعایت حاصل کرنے کے یکساں اور برابر مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp