جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا جمہوریت پر حملہ، عوامی مینڈیٹ سے خوف کیوں؟

اتوار 2 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جوائنٹ ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جانب سے انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے اور شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزاد کشمیر کی جمہوریت پر براہِ راست حملہ قرار دیا گیا ہے۔

انتخابی عمل کے دوران شہریوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنا، پولنگ اسٹیشنوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنا اور ووٹرز کو دھمکانا کسی سیاسی جدوجہد کا حصہ نہیں بلکہ کھلی غنڈہ گردی ہے۔ تجزیہ کاروں اور سیاسی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جو گروہ خود کو عوام کا نمائندہ قرار دیتا ہے، اگر وہ خود ہی عوام کو ووٹ کے بنیادی حق سے روکے تو اس سے بڑا تضاد اور کیا ہو سکتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات: مظفرآباد ڈویژن کے 8 حلقوں میں پولنگ بلا تعطل جاری

جمہوری نظام میں اختلافِ رائے کا واحد راستہ بیلٹ باکس سے ہو کر گزرتا ہے، جبکہ دھونس، دھمکی اور خوف کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنا جمہوریت کی نفی ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی جماعت یا گروہ کو اپنی واقعی عوامی حمایت پر یقین ہو تو وہ انتخابات سے فرار اختیار نہیں کرتا، بلکہ ووٹ کے ذریعے اپنی طاقت ثابت کرتا ہے۔ انتخابی عمل میں رکاوٹ صرف وہی عناصر ڈالتے ہیں جنہیں عوامی فیصلے پر اعتماد نہ ہو۔

آزاد کشمیر کے عوام کو ان کے آئینی و جمہوری حق سے محروم کرنے کی ہر کوشش کو نا قابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ووٹ کا حق ہر شہری کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ انتخابی عمل میں مداخلت نہ صرف عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ آزاد کشمیر کے جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کی ایک مذموم سازش بھی ہے۔

جو عناصر عوام کو پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچنے سے روک رہے ہیں، وہ درحقیقت عوام کی آزادانہ آواز کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے، مگر انتخابات کو یرغمال بنانا، خوف و ہراس پھیلانا اور عوام کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنا کسی بھی مہذب معاشرے میں سراہا نہیں جا سکتا۔

تاریخ شاہد ہے کہ آزاد کشمیر کے غیور عوام نے ہمیشہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ووٹ کی طاقت سے کیا ہے، اور یہ جمہوری حق کسی کو چھیننے نہیں دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp