پلندری میں ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے خلاف عوامی ردعمل، ہزاروں افراد کا امن مارچ، ’فساد نامنظور‘ کے نعرے

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

پلندری میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں، تاجروں، وکلا، سول سوسائٹی، ٹرانسپورٹرز، طلبہ، ایکس سروس مین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے عوامی اتحاد فورم سدھنوتی کے زیر اہتمام امن مارچ کرکے جاری کشیدگی، راستوں کی بندش اور بدامنی کے خلاف واضح ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ شرکا نے ’انتشار نامنظور‘، ’فساد نامنظور‘، ’بدامنی نامنظور‘ اور ’ہم کیا چاہتے ہیں، امن‘ کے نعرے لگاتے ہوئے معمولات زندگی کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

ایک روز قبل ہونے والا امن مارچ بعد ازاں جلسہ عام کی شکل اختیار کرگیا، جس میں شرکا نے کہا کہ عوامی مطالبات اور اختلاف رائے اپنی جگہ لیکن ایسے احتجاجی طریقے جن سے عام شہریوں کی زندگی، کاروبار، تعلیم اور آمدورفت متاثر ہو، انہیں قبول نہیں کیا جاسکتا۔

راولاکوٹ اور پونچھ ڈویژن میں جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں پلندری کا یہ مظاہرہ عوامی سطح پر بڑھتی بے چینی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ مظاہرے میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ساتھ معاشرے کے متعدد طبقات کی شرکت نے امن اور معمولات زندگی کی بحالی کے مطالبے کو نمایاں کیا۔

یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: ’ تحریک ریاست کو انتشار کی طرف لے جارہی ہے‘،جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے اہم رہنما کی علیحدگی

شرکا کا کہنا تھا کہ راستوں کی بندش کے باعث مزدوروں، تاجروں، طلبہ اور مریضوں سمیت عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق عوامی حقوق کی جدوجہد ایسی نہیں ہونی چاہیے جس کی قیمت خود عوام کو ادا کرنا پڑے۔

امن مارچ میں راولاکوٹ اور سدھنوتی کی 7 نشستوں پر انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ حالیہ انتخابات بھی خطے میں بدامنی اور سکیورٹی خدشات کے باعث مختلف مراحل میں ہوئے ہیں۔

پلندری کے امن مارچ نے ایکشن کمیٹی کی احتجاجی سیاست کے مقابلے میں ایک مختلف عوامی بیانیہ سامنے لایا ہے، جس میں تصادم کے بجائے امن، راستوں کی بندش کے بجائے آمدورفت کی بحالی اور مسلسل محاذ آرائی کے بجائے معمولات زندگی کی واپسی پر زور دیا گیا۔

مظاہرین نے واضح کیا کہ عوامی حقوق کے مطالبات اپنی جگہ، تاہم خطے میں بدامنی، انتشار اور شہری زندگی کو مفلوج کرنے والے اقدامات کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp