سویڈن نے ان برطانوی شہریوں کو ملک بدر کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے جنہوں نے بریگزٹ کے بعد ملک میں قیام کی اجازت کے لیے دیر سے درخواست دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سوئیڈن کے مایہ ناز کھلاڑی بیورن بورگ اگلے ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے، نمائشی میچ کھیلنے کا امکان
گارجین کے مطابق وزیر داخلہ و مائیگریشن یوہان فورسیل نے بدھ کے روز کہا کہ سویڈن کی مائیگریشن ایجنسی نے بریگزٹ علیحدگی کے معاہدے کو درست طریقے سے نافذ کیا ہے۔
فورسیل نے کہا کہ مائیگریشن بورڈ نے علیحدگی کے معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کی ہے اور اس کا اندازہ یہ ہے کہ سویڈن نے اپنے وعدے پورے کیے ہیں اور یوروپی کمیشن بھی اس جائزہ سے اتفاق کرتا ہے۔
اس تنازعے میں ایک 78 سالہ برطانوی بیوہ جوائس تھامس کا کیس بھی شامل ہے جنہیں 21 سال تک سویڈن میں رہنے کے بعد ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔
سویڈن ان 13 یورپی یونین کے ممالک میں شامل تھا جہاں بریگزٹ کے بعد برطانوی رہائشیوں کو قانونی طور پر قیام کی اجازت کے لیے باقاعدہ درخواست دینا ضروری تھا۔
فورسیل نے کہا کہ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اصلاحات کے ذریعے اس عمل کو آسان بنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کے ساتھ تعلقات سویڈن کے لیے انتہائی اہم ہیں اور حکومت علیحدگی کے معاہدے کے درست نفاذ کو یقینی بناتی رہے گی۔
مزید پڑھیے: پاکستان نے پیٹرول موٹر سائیکلوں کو الیکٹرک بنانے کے لیے سوئیڈن سے مدد طلب کر لی
برطانوی دفترِ خارجہ نے بریگزٹ کے بعد قیام کی تاخیر سے جمع کرائی گئی درخواستوں کے حوالے سے سویڈن کے طریقہ کار پر بار بار تشویش کا اظہار کیا ہے۔














