خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں بجلی کے بل میں اضافے کی شکایت کے لیے پیسکو دفتر آنے والا ریٹائرڈ سرکاری ملازم مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگیا۔
پولیس کے مطابق نور حسن محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا سے ریٹائرڈ ہوا تھا اور ان کے ذمے بجلی کے بل کی مد میں مبینہ طور پر 50 ہزار روپے کا بل آیا تھا، جس پر وہ شکایت درج کرانے اور بل درست کرانے کی عرض سے چارسدہ کے پیسکو دفتر آیا تھا۔
متوفی کے بیٹے نے مقامی میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ان کے والد کی میٹر غلط ریڈنگ پر پیسکو حکام سے تکرار ہوئی۔ اور متعدد بار کوششوں کے باوجود بھی ان کے والد کے شکایت کی شنوائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ میٹر پر ریڈنگ نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم بجلی کا بل 50 ہزار روپے آیا تھا۔
Charsadda: Retired Employee Dies at PESCO Office Amid Dispute Over Electricity Bill
A retired education department employee died after suffering a cardiac arrest at a PESCO office in Charsadda, where he had reportedly gone to complain about a high electricity bill pic.twitter.com/TXigaWmapK
— Shahzad Khan (@i_shahzadkhan) September 3, 2026
مقتول کے بیٹے کے مطابق پیسکو آفس میں تکرار کے بعد ان کے والد کی حالت خراب ہو گئی جس سے بعد میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کر دی۔ ان کے بیٹے نے الزام لگایا ہے کہ ان کے والد کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد پیسکو حکام دفتر سے غائب ہو گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے والد کو دل کا دورہ پڑا تھا اور اسپتال منتقل کرتے کرتے وہ جاں بحق ہو گئے تھے۔
مقتول کے اہل خانہ نے پیسکو حکام کے خلاف کاروائی اور ایچ آئی آر کے لئے پولیس کو درخواست دی ہے۔
دوسری جانب پیسکو کے حکام نے متوفی کے اہلخانہ کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقتول نور حسن کے ساتھ دفتر میں کوئی بدتمیزی یا تکرار نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:بغیر سولر کے بجلی کا بل کم کرنے والی بیٹریاں، ایک نئی ٹیکنالوجی
ایس ڈی او کے مطابق نور حسن نے بجلی کے بل کے معاملے پر عدالت سے بھی رجوع کیا تھا، جس کے فیصلے کی روشنی میں ان کے بل کی تصحیح کرکے 50 ہزار روپے کے بجائے 12 ہزار روپے کردیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ نور حسن کی موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد واضح ہوگی۔














