کبھی فریال گوہر پر تشدد نہیں کیا، الزامات جھوٹے ہونے کے باوجود عدالت نہیں جاؤں گا، جمال شاہ

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف اداکار، ہدایتکار، مصنف اور سابق نگران وفاقی وزیر جمال شاہ نے اپنی سابق اہلیہ فریال گوہر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے تعلق کے دوران کبھی ان کے ساتھ زیادتی یا تشدد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فریال گوہر کی جانب سے سامنے آنے والی باتوں نے انہیں شدید مایوس اور پریشان کیا تاہم وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

یہ بھی پڑھیں: ’یہ سچ نہیں‘، فریال گوہر کے گھریلو تشدد کے الزامات پر اداکار جمال شاہ نے خاموشی توڑ دی

وی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں جمال شاہ نے کہا کہ فریال گوہر کے الزامات کے بعد انہوں نے حتی الامکان خاموش رہنے کی کوشش کی کیونکہ ان کے خیال میں وہ جو بھی کہیں گے اس سے مزید باتیں نکلیں گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ اور فریال گوہر ابتدا میں فکری ہم آہنگی کی وجہ سے قریب آئے تھے لیکن بعد میں انہیں محسوس ہوا کہ دونوں کے مزاج مختلف ہیں جس کے بعد انہوں نے خود کو اس تعلق سے الگ کر لیا۔

فریال گوہر کے الزامات پر بات کرتے ہوئے جمال شاہ نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر ’ان کا لفظ میرے لفظ کے مقابلے میں‘ والی صورت حال ہے۔ تاہم انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ انہوں نے کبھی اپنے تعلق میں کوئی زیادتی نہیں کی۔

جمال شاہ نے کہا کہ وہ ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں ان کی والدہ اور بہنیں ان کے لیے انتہائی محترم اور عزیز رہی ہیں اور خواتین کے حوالے سے ان کا رویہ کبھی بھی عورت مخالف نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ الزامات سن کر وہ کافی دیر تک حیران اور پریشان رہے۔ ان کے مطابق ملک میں ایک مخصوص سیاسی جماعت سے وابستہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہیں وہ ’زومبیز‘ کہتے ہیں اور ان لوگوں نے ان الزامات کو کئی گنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مختلف نوعیت کی پوسٹس اور گالیاں سامنے آئیں۔

انٹرویو کے دوران جب ان سے کہا گیا کہ تشدد سے متعلق بنیادی الزام تو ان کی سابق اہلیہ نے خود لگایا تھا تو جمال شاہ نے کہا کہ الزامات کو بعد میں کئی گنا بڑھا کر اور ان کے بقول انتہائی نامناسب انداز میں مسلسل پھیلایا گیا یہاں تک کہ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ بن گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد بعض خیر خواہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ معاملے کی وضاحت کریں جس پر انہوں نے عوامی طور پر کہا کہ ان کی جانب سے ایسا کچھ نہیں ہوا۔

حمل اور تشدد سے متعلق الزامات پر جمال شاہ کا جواب

جمال شاہ نے انٹرویو میں فریال گوہر سے منسوب اس دعوے کا بھی ذکر کیا جس میں حمل کے دوران بیلٹ سے مارنے اور حمل ضائع ہونے کی بات کی گئی تھی۔

انہوں نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 1985 میں حمل ضرور ٹھہرا تھا۔ ان کے مطابق اس وقت منیزہ ہاشمی ان دونوں کا ایک میگزین کے لیے انٹرویو کرنا چاہتی تھیں اور جب وہ وہاں گئے تو ایک جرمن شیفرڈ کتے نے فریال گوہر پر حملہ کیا اور انہیں کاٹ لیا۔

جمال شاہ نے اس واقعے کو اس وقت کے حمل سے متعلق پیش آنے والی صورت حال سے جوڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد وہ سنہ 1986 سے 1988 تک دو سال کے لیے لندن چلے گئے تھے اور اس دوران انہوں نے فیملی پلان کرنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔

مزید پڑھیے: آرٹ فار لائف،آرٹ فار غزہ آرٹسٹ کیمپ: اداکار جمال شاہ کا فلسطینیوں کی مدد کا منفرد انداز

انہوں نے کہا کہ جڑواں بچوں سے متعلق باتیں سن کر بھی وہ حیران ہوئے کیونکہ ان کے خاندان میں جڑواں بچوں کی مثالیں موجود ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بڑی بہن اور بھائی جڑواں ہیں جبکہ ان کے ایک بھائی کے بچے بھی جڑواں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں جڑواں بچوں کی خبر پر انہیں زیادہ خوش اور پرجوش ہونا چاہیے تھا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر وہ الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں تو کیا قانونی کارروائی یا ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے پر غور کریں گے، جمال شاہ نے کہا کہ وہ اپنا مؤقف سادہ انداز میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دے چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ عدالتوں کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتے۔ ان کے بقول اگر وہ ہتک عزت کا مقدمہ کریں اور جیت بھی جائیں اور انہیں رقم بھی مل جائے تو اس دوران متاثر ہونے والی عزت واپس نہیں آسکتی۔

جمال شاہ نے کہا کہ عدالت انہیں وہ عزت واپس نہیں لوٹا سکتی جو اس تنازع کے دوران متاثر ہوئی۔

سابق اہلیہ کے ساتھ دوبارہ پروگرام اور بائیوپک کی پیشکش کا ذکر

جمال شاہ نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل انہیں اسی چینل کے ایک پروگرام میں بلایا گیا تھا جہاں فریال گوہر بھی موجود تھیں۔ ان کے مطابق وہ پروگرام انتہائی مثبت ماحول میں ہوا اور فریال گوہر کا رویہ بھی مکمل طور پر مثبت تھا۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ نگراں وفاقی وزیر تھے تو فریال گوہر پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے ایک پروگرام کرتی تھیں اور انہوں نے متعدد مرتبہ ان سے انٹرویو کی درخواست کی۔ جمال شاہ کے مطابق انہوں نے وہ انٹرویو دیا اور وہ بہت اچھے انداز میں ہوا جس میں کسی قسم کی تلخی سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے درمیان ایسی کوئی مستقل تلخی موجود نہیں تھی کیونکہ وہ سنہ 1989 میں بہت مہذب اور دوستانہ طریقے سے علیحدہ ہو گئے تھے۔

جمال شاہ نے سوال اٹھایا کہ سنہ 1989 سے اب تک تقریباً 36 یا 37 سال گزرنے کے باوجود انہوں نے کبھی میڈیا یا کسی اور جگہ فریال گوہر کے بارے میں کوئی منفی بات نہیں کی تو پھر اتنے عرصے بعد یہ بات کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اسی چینل کی جانب سے ایک موقعے پر انہیں پیشکش کی گئی تھی کہ ان کی زندگی پر ایک بائیوپک یا طویل سیریل بنایا جائے جس میں وہ اور ان کی اہلیہ اداکاری کریں اور اس منصوبے کے لیے وہ اپنی رضامندی دیں۔

جمال شاہ کے مطابق انہوں نے جواب دیا کہ وہ اس وقت تک کوئی وعدہ نہیں کرسکتے جب تک اسکرپٹ نہ دیکھ لیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں وہ یہ منصوبہ کرنا نہیں چاہتے تھے اور بعد میں انہوں نے اس سے انکار بھی کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ واقعات کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ تمام چیزیں اس مجوزہ سیریل کے ممکنہ مناظر کے لیے مواد بن سکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ سب کچھ ممکن ہے خود بخود ہوا ہو اور وہ اس حوالے سے کسی حتمی نتیجے پر نہیں جانا چاہتے۔

انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ سنگین بات کر رہے ہیں کہ ایک چینل نے انہیں ڈرامے کی پیشکش کی ان کے انکار کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا اور کیا یہ سب منصوبہ بندی کا حصہ ہوسکتا ہے تو جمال شاہ نے کہا کہ وہ اس حد تک نہیں جانا چاہتے اور یہ بہت ممکن ہے کہ معاملہ خود بخود سامنے آیا ہو۔ تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ متعلقہ لوگ سیریل بنانا چاہتے تھے اور وہ اس میں کام نہیں کرنا چاہتے تھے۔

فریال گوہر سے علیحدگی کی وجہ کیا تھی؟

جمال شاہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ فریال گوہر کے ان کی والدہ اور خاندان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ انہوں نے کہا کہ فریال ان کی والدہ کی بہت عزت کرتی تھیں اور ان کی والدہ بھی ایک شفیق خاتون تھیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے فریال گوہر کا مکمل انٹرویو نہیں سنا بلکہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے پوسٹرز اور بیانات دیکھے۔ ان کے مطابق وہ ذاتی طور پر اس بات سے بہت مایوس ہوئے کہ اتنے عرصے بعد ایسی باتوں کی کیا ضرورت تھی۔

جمال شاہ نے کہا کہ کسی بھی تعلق میں پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں لیکن علیحدگی کے بعد فریقین کو ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی علیحدگی کے بعد انہوں نے کبھی فریال گوہر کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔

اپنی موجودہ ازدواجی زندگی کے بارے میں جمال شاہ نے بتایا کہ انہوں نے سنہ 2005 میں دوسری شادی کی اور اب وہ ایک اچھی اور پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کو ایک بالغ سوچ رکھنے والی اور بڑے دل کی خاتون قرار دیا اور کہا کہ ان کے تین بچے ہیں۔

فریال گوہر سے علیحدگی کی وجہ بیان کرتے ہوئے جمال شاہ نے کہا کہ دونوں کے مزاج مختلف تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خود بہت کم گو ہیں جبکہ فریال بہت زیادہ بات کرتی ہیں۔ فریال بہت زیادہ منظم اور نظم و ضبط کی پابند تھیں جبکہ وہ خود اتنے منظم نہیں تھے۔

جمال شاہ کے مطابق ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بحث مباحثے میں پڑنے والے شخص نہیں ہیں اور اگر کسی موقعے پر بدمزگی پیدا ہو تو وہ وہاں سے نکل جانا پسند کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تعلق کے دوران انہیں ایک وقت پر گھٹن محسوس ہونے لگی تھی۔

جمال شاہ نے کہا کہ انہوں نے اور فریال گوہر نے یہ تعلق پوری سمجھ بوجھ سے قائم کیا تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ بہت سی چیزوں پر دونوں ایک جیسا سوچتے ہیں۔

ان کے مطابق فریال گوہر بھی روشن خیال تھیں اور وہ خود بھی چاہتے تھے کہ معاشرہ زیادہ منصفانہ، مساوی اور برابری پر مبنی ہو اور غریب لوگوں کی بہتری کے لیے کچھ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ فریال گوہر بھی یہی چاہتی تھیں اور اس حوالے سے بہت فعال تھیں لیکن بعض اوقات مزاج نہ ملنے جیسی چھوٹی باتیں بھی بہت بڑی خلیج پیدا کردیتی ہیں۔

الزامات سے متعلق سوال پر جمال شاہ نے ایک مرتبہ پھر دوٹوک انداز میں کہا کہ انہوں نے کبھی فریال گوہر کے ساتھ زیادتی نہیں کی اور نہ کبھی ایسا کرنے کا سوچا۔

انہوں نے کہا کہ دہائیاں گزرنے کے باوجود پاکستانی میڈیا، اخبارات یا رسائل میں ان کی جانب سے فریال گوہر کے خلاف ایک لفظ نہیں ملے گا۔ ان کے مطابق دوسری طرف سے باتیں سامنے آتی رہیں اور لوگ انہیں بھی مختلف باتیں پہنچاتے رہے لیکن انہوں نے ہمیشہ خاموشی اختیار کی۔

جمال شاہ نے کہا کہ موجودہ تنازع کے بعد فریال گوہر سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہوا اور اب وہ زندگی میں ان سے بات نہیں کرنا چاہیں گے۔ ان کے بقول اگر راستے میں کہیں ملاقات بھی ہوگئی تو شاید وہ رکنے کے بجائے دوسری طرف چلے جائیں گے۔

پاکستان میں آرٹ اور تخلیقی صلاحیتوں کی صورت حال

انٹرویو کے آغاز میں پاکستان میں آرٹ، کلچر، لکھاریوں اور فنکاروں کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے جمال شاہ نے کہا کہ آرٹ انسان کی بنیادی ضرورت ہے خواہ بات قدیم معاشروں کی ہو، غاروں میں رہنے والے انسانوں کی ہو یا پھر موجودہ دور کی۔

انہوں نے کہا کہ آرٹ ہمیشہ انسان کی ضرورت رہا ہے کیونکہ یہ اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔ انسان آرٹ کے ذریعے اپنے خدشات، امیدوں، جدوجہد اور دیگر کیفیات کا اظہار کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کے لیے سب کو مل بیٹھنا ہوگا، جمال شاہ

ان کے مطابق اس اظہار کا مقصد لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا، ایک دوسرے کو جاننا اور پہچاننا اور زندگی اور اردگرد کے ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا ہے۔

جمال شاہ نے کہا کہ ہر وہ معاشرہ جو تخلیقی صلاحیتوں کو اہمیت دیتا ہے وہاں آرٹ فروغ پاتا ہے جبکہ سخت حالات میں آرٹ کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔

فیض احمد فیض، احمد فراز اور حبیب جالب جیسے شعرا کا ذکر کیے جانے پر انہوں نے کہا کہ انور مسعود جیسے لوگ بھی موجود ہیں اور ہر دور میں زندگی کو بہتر بنانے کی جستجو رکھنے والے لوگ موجود ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے لوگ صدیوں میں کبھی کبھار پیدا ہوتے ہیں لیکن اگر اپنے گرد و پیش پر نظر ڈالی جائے تو آج بھی بہت سے نئے اور پختہ دانشور، شاعر اور ادیب موجود ہیں جن کی قدر کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی ڈراما کامیاب لیکن فلم کیوں ناکام؟

پاکستانی ڈرامے اور فلم کے درمیان کامیابی کے فرق پر جمال شاہ نے کہا کہ اس کا تعلق بڑی حد تک مالی وسائل سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈراما چونکہ ٹیلی ویژن کی پیداوار ہے اس لیے اس کے اخراجات فلم کی نسبت کم ہوتے ہیں۔ ٹیلی ویژن پر طویل داستان گوئی بھی ممکن ہوتی ہے۔

ان کے مطابق ٹیلی ویژن ڈراما معاشرے کی عکاسی زیادہ بہتر انداز میں کرسکتا ہے اور اسے بنانا بھی نسبتاً آسان ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کہانیاں بے شمار ہیں لیکن پاکستانی ٹیلی ویژن نے ابھی تک معاشرے میں موجود بہت سی حقیقی، مستند اور متعلقہ کہانیوں کو چھوا تک نہیں۔

جمال شاہ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی ڈراما بہت بہتر ہے اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی بنیادی طاقت فلم سے حاصل نہیں کرتا۔

انہوں نے بھارتی ٹیلی ویژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ٹیلی ویژن اپنے سینما سے زیادہ متاثر ہے کیونکہ بھارت کا سنیما کلچر بہت طاقتور ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں کسی وجہ سے ایسا مضبوط سنیما کلچر نہیں بن سکا۔ ان کے مطابق ماضی میں توجہ مکمل طور پر پی ٹی وی پر تھی جبکہ بعد میں آنے والے ٹیلی ویژن چینلز بھی بڑی تعداد میں ڈرامے بنا رہے ہیں اور ان کے خیال میں اچھا کام کر رہے ہیں۔

پاکستان کی میوزک انڈسٹری کیوں مضبوط نہ ہوسکی؟

پاکستان اور بھارت کی موسیقی کی صنعت کے فرق پر بات کرتے ہوئے جمال شاہ نے کہا کہ پاکستان میں میوزک کے بارے میں یہ رویہ بھی موجود رہا ہے کہ اسے خدا نخواستہ حرام تصور کیا جائے اور ان کے خیال میں اس سوچ نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو جس سطح پر موسیقی کو فروغ دینا چاہیے تھا وہ ایسا نہیں کرسکیں۔

انہوں نے ماضی کے ریڈیو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک زمانے میں ریڈیو ایک ایسا ادارہ تھا جس نے پاکستان میں بڑے بڑے فنکار پیدا کیے۔؎

جمال شاہ نے کہا کہ پاکستان میں انتہائی جاندار ٹیلنٹ موجود ہے اور طفیل نیازی سمیت مختلف فنکاروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پرانے اور نئے دونوں ادوار میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں۔

ان کے مطابق اصل ضرورت ایسے پلیٹ فارمز اور جگہوں کی ہے جہاں اس ٹیلنٹ کو اظہار کا موقع مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر موسیقی براہ راست ہزاروں لوگوں کے سامنے پیش نہیں ہوگی تو اس میں وہ حرارت اور توانائی پیدا نہیں ہوگی جو ایک مضبوط موسیقی کی صنعت کے لیے ضروری ہے۔

جمال شاہ نے پاکستان کی میوزک انڈسٹری کو بہت کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود اس کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور وہ بھارت سے کم نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں موسیقی کے لیے ماحول زیادہ مثبت ہے جس کی ایک وجہ مذہبی اور ثقافتی ماحول ہے جبکہ دوسری وجہ وہاں موجود بہت بڑی انڈسٹری ہے۔

ان کے مطابق اس صنعت نے ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں ٹیلنٹ خود بخود نکھرتا اور متاثر ہوتا رہتا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں موسیقار پریشان حال پھرتے ہیں اور نئے ٹیلنٹ کے سامنے ایسی مثالیں بہت کم موجود ہوتی ہیں جن سے وہ متاثر ہوسکے اور اپنے مستقبل کا راستہ دیکھ سکے۔

حکومت فنکاروں کے لیے کیا کرسکتی ہے؟

فنکاروں کی جانب سے حکومتوں کے رویے پر شکایات اور بطور نگران وزیر اپنے تجربے کے بارے میں جمال شاہ نے کہا کہ حکومت اس صورت حال کی قصوروار ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چند ماہ کی اپنی وزارت کے دوران انہوں نے بھرپور کوشش کی کیونکہ وہ خود اسی شعبے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے لیے کچھ معاملات درست کرنے کی کوشش کرنا ممکن تھا۔

جمال شاہ نے کہا کہ انہوں نے کچھ طریقہ کار متعارف کرانے کی کوشش کی اور ان کے لیے سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ پاکستان کے نوجوان اور بچے اپنی شناخت سے بڑی حد تک بیگانہ ہوکر زندگی گزار رہے اور بڑے ہورہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: وفاقی وزیر ثقافت جمال شاہ کی فردوس جمال اور استاد بشیر کی عیادت

ان کے مطابق بچوں کی شناخت کا مسئلہ بہت اہم ہے، اسی لیے انہوں نے پاکستان کی مختلف زبانوں میں موجود لوک کہانیوں، نغموں اور لوریوں پر توجہ مرکوز کی۔

ان کی کوشش تھی کہ ایک ایسا پلیٹ فارم بنایا جائے جہاں پاکستان کی تمام زبانوں کے مستند لوک ورثے کو اکٹھا کرکے خوبصورت انداز میں اینیمیٹ اور ریکارڈ کیا جائے اور بچوں کے لیے تیار کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ان کہانیوں اور لوک ورثے سے بچوں کی شناخت وابستہ ہے اور ان کا منصوبہ تھا کہ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے یہ مواد ملک کے تمام گھروں تک پہنچایا جائے۔

جمال شاہ کے مطابق یہ منصوبہ مشکل نہیں تھا اور دستیاب فنڈز میں بآسانی مکمل کیا جاسکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک کانفرنس بھی بلائی، ماہرین کو مدعو کیا اور متعلقہ معاملات کی نشاندہی کی گئی۔

انہوں نے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس، لوک ورثہ اور ادب و ثقافت سے متعلق دیگر اداروں کو بھی کہا کہ اپنے دستیاب فنڈز استعمال کرتے ہوئے مشترکہ طور پر ان کہانیوں کو پروڈیوس کریں۔

جمال شاہ نے کہا کہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب اعلیٰ سطح پر بیوروکریسی میں موجود بعض افراد نے متعلقہ اداروں کے سربراہان کو مستقبل میں احتساب، پیشیوں اور دیگر مسائل کا خدشہ دلا کر پریشان کرنا شروع کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود کہ وہ ایسا وزیر تھے جو اس شعبے کو جانتے تھے اور انہیں معلوم تھا کہ یہ کام کیسے ہوسکتا ہے وہ متعلقہ لوگوں سے یہ کام نہیں کروا سکے۔ جمال شاہ نے اسے اپنی بطور وزیر ناکامی بھی تسلیم کیا۔

سلک روڈ کلچرل سینٹر کا مقصد

سلک روڈ کلچرل سینٹر کے بارے میں جمال شاہ نے بتایا کہ سرسید میموریل ٹرسٹ کی عمارت میں ایک آڈیٹوریم اور دیگر جگہیں موجود تھیں جنہیں انہوں نے طویل مدتی انتظام کے تحت حاصل کیا۔

ان کے مطابق ان جگہوں کو دوبارہ بہتر بنا کر ایک ثقافتی مرکز بنانے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اسے سلک روڈ کلچرل سینٹر اس لیے کہا گیا کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اگلے 10 برسوں میں یہ خطہ ممکنہ طور پر دنیا کا نمبر ون خطہ بن سکتا ہے۔

جمال شاہ نے کہا کہ اس خطے کے پاس وسائل، آبادی، ورثہ اور ثقافت سمیت سب کچھ موجود ہے، اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ یہ دنیا کا نمایاں ترین خطہ نہ بن سکے۔

انہوں نے کہا کہ اسی پیش بندی کے تحت انہوں نے سوچا کہ ان تمام ممالک کے ساتھ ثقافتی رابطہ اور تبادلہ ہونا چاہیے جن کا ثقافتی ورثہ پاکستان سے ملتا جلتا ہے۔

ان کے مطابق سلک روڈ کلچرل سینٹر کا دوسرا بنیادی مقصد اسلام آباد جیسے شہر میں ایک غیر سرکاری ثقافتی مرکز قائم کرنا ہے جو حکومت کی پابندیوں سے آزاد ہو۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

نئے صوبے بننے چاہئیں لیکن پہلے نظام درست کیا جائے

ملک میں نئے اور چھوٹے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث پر جمال شاہ نے کہا کہ اس معاملے کا تعلق ان کے خیال میں نگراں حکومت کے دور سے بھی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت بعض وزرا اور افراد اکثر کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں ایسی کابینہ پہلے کبھی نہیں بنی اور اسے چلتے رہنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کے لیے سب کو مل بیٹھنا ہوگا، جمال شاہ

 

جمال شاہ کے مطابق وہ اس وقت بھی کہتے تھے کہ نگراں حکومت کو ایک مخصوص مدت کے لیے ذمہ داری دی گئی ہے اور اسے اسی مینڈیٹ تک محدود رہنا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ چھوٹے صوبوں کے معاملے کے پیچھے بھی وہی لوگ موجود ہیں جو کسی نہ کسی طرح اقتدار کی مسند پر بیٹھنا چاہتے ہیں۔

جمال شاہ نے کہا کہ مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے امکانات زیادہ ہیں، وہ نسبتاً کم عمر بھی ہیں اور ان کے بقول کام بھی کر رہے ہیں، اس لیے بعض افراد کو محسوس ہوتا ہے کہ اگر یہ لوگ موجود رہے تو وہ اپنی زندگی میں نہ وزیراعلیٰ بن سکیں گے اور نہ وزیراعظم۔

ان کے مطابق اسی وجہ سے بعض لوگ موجودہ اکائیوں کو توڑنے اور بکھیرنے کے حامی ہیں تاکہ انہیں بھی سیاسی جگہ مل سکے۔

جمال شاہ نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے حامی نظام کی بیماری کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس حد تک بات درست ہے کہ نظام واقعی بیمار ہے لیکن ان کے مطابق اس نظام کو بیمار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے نظام کو ٹھیک، شفاف اور منصفانہ بنانا چاہیے۔

جمال شاہ کے مطابق صوبوں کی ضرورت ہے اور ضرورت پڑنے پر نئے صوبے بننے چاہییں لیکن اس سے پہلے نظام کی بیماری دور کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط کرنا چاہیے اور اگر انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت ہو تو وہ بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ اگر صوبوں کی ضرورت پڑے تو وہ بھی آئینی اور قانونی طریقے سے بنائے جائیں۔

ان کے مطابق یہ فیصلے عوامی نمائندوں کے ذریعے ہونے چاہئیں اور ان نمائندوں کے فیصلوں میں عوامی خواہشات کی عکاسی ہونی چاہیے۔

جمال شاہ نے انتخابات کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ انتخابات ہمیشہ منصفانہ رہے ہیں اور بعض اوقات لوگ عجیب و غریب طریقوں سے اقتدار میں آکر بیٹھ جاتے ہیں لیکن ایک بار وہ منتخب اداروں میں موجود ہوں تو ان کی ذمہ داری اور حیثیت کا احترام کیا جانا چاہیے تاکہ وہ عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلے کرسکیں۔

32 صوبے بنے تو اخراجات کہاں سے آئیں گے؟

جمال شاہ نے بڑے پیمانے پر نئے صوبے بنانے کی تجویز پر مالی تحفظات کا اظہار بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ فرض کریں پاکستان میں 32 صوبے بن جاتے ہیں تو 32 وزرائے اعلیٰ، 32 گورنرز، بڑی تعداد میں وزرا، ان کی مراعات، مختلف سہولیات اور پورا نیا انفراسٹرکچر درکار ہوگا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان تمام اخراجات کے لیے رقم کہاں سے آئے گی اور کہا کہ ان کے خیال میں اس شکل میں یہ منصوبہ قابل عمل نہیں۔

انٹرویو کے دوران یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ اگر 32 صوبے ہوں اور ہر صوبے سے 4 سینیٹرز ہوں تو سینیٹرز کی تعداد بھی بہت زیادہ ہوجائے گی۔

اس پر گفتگو میں یہ امکان بھی زیر بحث آیا کہ ایسی صورت میں قومی اسمبلی کی ضرورت اور قانون سازی کے موجودہ دوہرے ڈھانچے پر بھی سوال اٹھ سکتا ہے اور سینیٹ کو ہی قانون ساز ایوان بنانے جیسے تصورات سامنے آسکتے ہیں، جہاں تمام صوبوں کی نمائندگی برابر ہو۔

جمال شاہ نے کہا کہ صوبوں کی تعداد بڑھانے سے حکومتی اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بے تحاشا حکومتی اخراجات کا اثر دفاعی اخراجات پر بھی پڑسکتا ہے اور ایسی صورت میں دفاع کے لیے دستیاب وسائل کم ہوسکتے ہیں۔

ان کے مطابق بہتر راستہ یہ ہے کہ پہلے نظام کو درست کیا جائے اور صوبوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے بات چیت کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں نئے صوبوں کی گنجائش موجود ہو وہاں بات آگے بڑھائی جاسکتی ہے، لیکن بعض علاقوں میں لوگ اس حوالے سے بہت حساس ہیں اور انہیں بلاوجہ نہیں چھیڑنا چاہیے۔

جمال شاہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایسے حساس معاملات کو خصوصاً نہیں چھیڑنا چاہیے کیونکہ ملک مختلف اطراف سے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر سیاسی جماعتوں کو ناراض کرنے کے بجائے ان کی عزت کی جانی چاہیے اور تمام معاملات پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیے۔

جمال شاہ نے ملک کی سیاسی صورت حال کی ذمہ داری سیاستدانوں پر بھی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں سب سے زیادہ قصور سیاستدانوں کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاستدان چھوٹے چھوٹے اختلافات کو ذاتی مفادات کی وجہ سے سمندر جتنی خلیج میں تبدیل کردیتے ہیں۔

مزید پڑھیے: سب سے زیادہ دیکھے جانے والے 10 پاکستانی ڈرامے کون سے ہیں؟

جمال شاہ کے مطابق سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ معاملات سنبھالنے کے لیے دوسروں کو آنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp