مشکل حمل یا تکلیف دہ زچگی کے بعد بعض خواتین فلیش بیکس، ڈراؤنے خواب، بے چینی اور بار بار آنے والے پریشان کن خیالات کا شکار ہوسکتی ہیں لیکن بہت سی ماؤں کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ انہیں مدد کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین میں اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص میں برسوں کیوں لگ جاتے ہیں؟
بچے کی پیدائش عموماً زندگی کے سب سے خوشگوار لمحات میں شمار ہوتی ہے لیکن بعض خواتین کے لیے حمل، زچگی یا بچے کی پیدائش کا تجربہ اس قدر تکلیف دہ ہوسکتا ہے کہ اس کے اثرات کئی ماہ تک برقرار رہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کچھ خواتین میں بچے کی پیدائش کے بعد پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) کی علامات پیدا ہوسکتی ہیں مگر انہیں بروقت شناخت نہیں کیا جاتا۔
ایک حالیہ تحقیق میں اندازہ لگایا گیا کہ تقریباً ہر 20 میں سے ایک نئی ماں بچے کی پیدائش کے بعد پی ٹی ایس ڈی کا شکار ہوسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقی تعداد اس سے مختلف بھی ہوسکتی ہے کیونکہ بہت سی خواتین اپنی علامات کے بارے میں بات نہیں کرتیں یا انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کی کیفیت کسی ذہنی مسئلے سے متعلق ہوسکتی ہے۔
پی ٹی ایس ڈی صرف جنگ، حادثے یا کسی بڑے سانحے کے بعد ہی نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات مشکل حمل یا زچگی کا تجربہ بھی اس کا سبب بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: حاملہ خواتین کے دماغ میں نمایاں تبدیلیاں، تحقیق میں اہم انکشافات
اس کی علامات میں بار بار کسی تکلیف دہ واقعے کے مناظر یاد آنا، ڈراؤنے خواب، شدید بے چینی، خوف، مسلسل پریشان کن خیالات اور اس تجربے سے متعلق چیزوں سے بچنے کی کوشش شامل ہوسکتی ہے۔
ہر مشکل ڈیلیوری کے بعد پی ٹی ایس ڈی نہیں ہوتا
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی خاتون کا حمل یا زچگی مشکل ہونا لازمی طور پر اس بات کا مطلب نہیں کہ اسے پی ٹی ایس ڈی ہوجائے گا۔
تاہم اگر کسی خاتون کو حمل یا بچے کی پیدائش کے دوران شدید خوف، بے بسی یا صدمے کا سامنا کرنا پڑا ہو اور اس کے اثرات طویل عرصے تک اس کی روزمرہ زندگی، نیند یا بچے کی دیکھ بھال پر اثر انداز ہوتے رہیں تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
بعض خواتین بظاہر معمول کے مطابق زندگی گزار رہی ہوتی ہیں لیکن اندر ہی اندر شدید اضطراب یا خوف کا شکار ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستانی خواتین میں ای سگریٹ کا بڑھتا رجحان، اس کے نقصانات کیا ہیں؟
کچھ ماؤں کو بچے کے ساتھ کچھ برا ہوجانے کا مسلسل خوف رہتا ہے، وہ بچے کو کسی دوسرے فرد کے پاس چھوڑنے سے گھبراتی ہیں یا معمولی علامات کو بھی کسی بڑے خطرے کی علامت سمجھنے لگتی ہیں۔
علامات کو پہچاننا کیوں مشکل ہے؟
بچے کی پیدائش کے بعد جسمانی اور جذباتی تبدیلیوں کے باعث ماں کا تھکاوٹ، بے چینی یا جذباتی اتار چڑھاؤ کا شکار ہونا عام سمجھا جاتا ہے۔
اسی وجہ سے بعض اوقات زیادہ سنگین علامات بھی نظر انداز ہوجاتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی ماؤں سے صرف جسمانی صحت کے بارے میں نہیں بلکہ ان کی ذہنی کیفیت کے بارے میں بھی حساس انداز میں پوچھنا ضروری ہے۔
خاص طور پر وہ خواتین جو اپنے حمل یا زچگی کے تجربے کو تکلیف دہ قرار دیتی ہیں انہیں یہ موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنے خدشات اور جذبات کسی صحت کے ماہر کے ساتھ شیئر کرسکیں۔
’خواتین کو معلوم ہونا چاہیے کہ مدد کہاں سے مل سکتی ہے‘
ماہرین کے مطابق خواتین کو اپنی ذہنی صحت کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اگر بچے کی پیدائش کے بعد انہیں محسوس ہو کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے تو وہ بروقت مدد حاصل کرسکیں۔
یہ بھی پڑھیے: شدید گرمی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں متاثر کرتی ہے؟
صحت کے ماہرین کے لیے بھی ایسی واضح رہنمائی ضروری ہے جس کی مدد سے وہ علامات کی شدت، ممکنہ خطرات اور اس بات کا اندازہ کرسکیں کہ کس خاتون کو خصوصی ماہرین سے علاج کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ’ماں بننے کے بعد ایسا تو ہوتا ہے‘، کیونکہ بعض صورتوں میں معمولی سمجھی جانے والی علامات کسی سنجیدہ ذہنی کیفیت کی نشاندہی کرسکتی ہیں۔
مسلسل اور ہمدردانہ نگہداشت بھی اہم
ماہرین کے مطابق حمل سے لے کر بچے کی پیدائش اور اس کے بعد کے عرصے تک خواتین کو مختلف صحت کے ماہرین سے واسطہ پڑتا ہے۔
اگر دیکھ بھال بار بار مختلف افراد کے ہاتھوں میں منتقل ہوتی رہے اور ماں کو اپنی پریشانی تفصیل سے بیان کرنے کا مناسب موقع نہ ملے تو ذہنی مسائل کی نشاندہی مشکل ہوسکتی ہے۔
نئی ماؤں کے لیے ایسا ماحول ضروری ہے جہاں وہ بغیر کسی خوف یا شرمندگی کے اپنے خیالات اور جذبات کے بارے میں بات کرسکیں۔
ایک ماں کا اپنے بچے کے بارے میں ضرورت سے زیادہ خوف، مسلسل گھبراہٹ یا پریشان کن خیالات میں مبتلا ہونا محض ’زیادہ احتیاط‘ بھی نہیں ہوسکتا۔
مدد حاصل کرنا کمزوری نہیں
ماہرین زور دیتے ہیں کہ بچے کی پیدائش کے بعد ذہنی مشکلات کا سامنا کرنا ماں کی ناکامی یا کمزوری نہیں۔
اگر کسی خاتون کو بار بار تکلیف دہ یادیں آتی ہوں، ڈراؤنے خواب آتے ہوں، شدید بے چینی رہتی ہو، مسلسل خوف محسوس ہوتا ہو یا پریشان کن خیالات اس کی روزمرہ زندگی کو متاثر کررہے ہوں تو اسے اپنے ڈاکٹر یا کسی ذہنی صحت کے ماہر سے بات کرنی چاہیے۔
بروقت شناخت اور مناسب مدد سے ایسی کیفیت کو سنبھالنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: فیشن یا صحت؟ گرمیوں میں فلپ فلاپس پہننے سے پہلے یہ اہم باتیں ضرور جان لیں
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد ماں کی صحت صرف جسمانی صحت تک محدود نہیں بلکہ اس کی ذہنی کیفیت بھی اتنی ہی اہم ہے۔














