کبھی ٹی وی اسکرین اور تھیٹر کے اسٹیج پر اپنی اداکاری سے لوگوں کو ہنسانے اور رلانے والی معروف فنکارہ مسکان ملک آج زندگی کی تلخ حقیقتوں کے درمیان کھلے آسمان تلے دودھ کی بوتلیں بیچ کر اپنے گھر کا چولہا جلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ کی باہمت خاتون کی کہانی
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی مسکان ملک طویل عرصے سے ٹی وی اور تھیٹر سے وابستہ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک وقت تھا جب بلوچستان میں تھیٹر اور ٹی وی کا کام عروج پر تھا اور فنکاروں کے لیے روزگار موجود تھا لیکن وقت کے ساتھ حالات بدل گئے اور فن کی دنیا بھی محدود ہوتی چلی گئی۔
ان کے مطابق بلوچستان میں تقریباً 25 سال تک سرکاری سطح پر تھیٹر کی سرگرمیاں بند رہیں جس سے فنکار شدید مشکلات کا شکار ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 برسوں میں چند فیسٹیول ضرور منعقد ہوئے لیکن وہ پہلے جیسے بھرپور اور بڑے پروگرام نہیں تھے۔
مسکان ملک کہتی ہیں کہ پنجاب، سندھ، کراچی اور لاہور میں فنکاروں کے لیے اب بھی کام کے مواقع موجود ہیں مگر بلوچستان میں صورتحال انتہائی خراب ہے۔
مزید پڑھیے: پست قامت لیکن حوصلے بڑے، کوئٹہ کی باہمت بلانستہ کی موٹیویشنل کہانی
ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں نہ ٹی وی میں کام ہے اور نہ تھیٹر میں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ فنکار کے لیے زندگی گزارنا بہت مشکل ہو گیا ہے خصوصاً اس فنکار کے لیے جس کے پاس اپنے فن کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ معاش نہیں۔
گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مسکان ملک نے ایوب اسٹیڈیم کے اندر اپنی مدد آپ کے تحت ایک چھوٹا سا اسٹال لگایا ہے جہاں وہ دودھ کی بوتلیں فروخت کرتی ہیں۔
وہ جذباتی انداز میں کہتی ہیں کہ ایک وقت تھا جب لوگ مجھے مسکان ملک کے نام سے جانتے تھے اور مجھے اپنے فن اور زندگی پر فخر تھا لیکن آج میں کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ کر بوتلیں بیچ رہی ہوں۔
مسکان ملک نے کہا کہ ایک عورت اور فنکارہ کے لیے یہ آسان نہیں لیکن میں اسے زوال نہیں بلکہ اپنے رب کی آزمائش سمجھتی ہوں۔
مزید پڑھیں: بے روزگاری کے باوجود ہمت نہ ہاری، فارمیسی گریجویٹ نے کوئٹہ میں برگر اور فرائز کا ٹھیلا لگا لیا
انہوں نے کہا کہ زندگی کے مشکل وقت نے انہیں لوگوں اور رشتوں کی حقیقت بھی دکھا دی۔میں سمجھتی تھی کہ پیسے سے زیادہ لوگ اور رشتے کام آتے ہیں، لیکن جب حالات بدلے تو بہت سے لوگوں کے رویے بھی بدل گئے۔
مسکان ملک نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے اپیل کی ہے کہ انہیں ایک چھوٹا سا کاروباری سیٹ اپ فراہم کیا جائے تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنی محنت کے ذریعے گھر چلا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ میں خیرات نہیں مانگ رہی بلکہ صرف اتنی مدد چاہتی ہوں کہ مجھے ایک چھوٹی سی جگہ اور کاروبار کا سیٹ اپ مل جائے باقی محنت میں خود کروں گی اور اپنے بچوں اور گھر کا خرچ خود چلاؤں گی۔
یہ بھی پڑھیے: گوادر: چائے کی خوشبو میں لپٹی خواتین کی خود مختاری، 3 پڑھی لکھی سہیلیوں کا کارنامہ
کبھی اسٹیج کی روشنیوں میں جگمگانے والی مسکان ملک آج بھی ہار ماننے کو تیار نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے وہ ڈراموں میں کردار ادا کیا کرتی تھیں اور آج حقیقی زندگی میں سب سے مشکل کردار نبھا رہی ہیں۔













