اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملائیشیا جانے والے شہری کو آف لوڈ کرنے کے خلاف کیس میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
جسٹس ایاز شوکت نے شہریوں کو وجہ بتائے بغیر آف لوڈ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس شخص کو بھی آف لوڈ کیا جائے، اس کی وجہ تحریری طور پر بتائی جائے۔
درخواست گزار محمد سعید خان اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور دیگر ایف آئی اے حکام بھی عدالت میں موجود تھے۔
عدالت نے اس افسر کی عدم حاضری پر بھی برہمی کا اظہار کیا جس نے درخواست گزار کو آف لوڈ کیا تھا۔ جسٹس ایاز شوکت نے استفسار کیا کہ جس افسر نے شہری کو آف لوڈ کیا تھا وہ خود عدالت میں کیوں نہیں آیا؟
یہ بھی پڑھیں:ایئرپورٹس پر مسافروں کو آف لوڈ کرنے کا معاملہ، لاہور ہائیکورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا
اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل ایف آئی اے نے بتایا کہ مذکورہ افسر کے والد کو کارڈیک مسئلہ تھا، اس لیے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکے۔ جسٹس ایاز شوکت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر انہیں لازماً پیش ہونے کا کہیں اور ان کے والد کی بیماری کا سرٹیفکیٹ بھی ساتھ لائیں۔
دورانِ سماعت خاتون ایف آئی اے افسر کی جانب سے انویسٹمنٹ ویزا اور وزٹ ویزا کو ایک جیسا قرار دینے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس ایاز شوکت نے ریمارکس دیے کہ ’آپ نے رپورٹ میں کچھ اور لکھا ہوا ہے اور روسٹرم پر کچھ اور بتا رہی ہیں‘۔
عدالت نے ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ متعلقہ افسر اپنا بیانِ حلفی جمع کروائے اور جمع کرائی گئی رپورٹ میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کی جائے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل کو بھی اپنا بیانِ حلفی جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔
جسٹس ایاز شوکت نے استفسار کیا کہ ایئرپورٹ کے معاملات کون دیکھتا ہے؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر ایئرپورٹ کے تمام معاملات دیکھتے ہیں۔
عدالت نے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے کو منگل کو ذاتی حیثیت میں متعلقہ ریکارڈ کے ہمراہ پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے دیگر متعلقہ حکام کو بھی طلب کرلیا اور کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کردی۔














