پاور ڈویژن نے ڈیٹیکشن بلنگ سسٹم میں بنیادی اصلاحات متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بجلی کے صارفین کو غیر ضروری مشکلات اور اضافی مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
جمعے کو جاری کردہ پاور ڈویژن کی ایک پریس ریلیز کے مطابق یہ اقدام وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری کی زیر قیادت پاور سیکٹر میں جاری وسیع تر اصلاحاتی عمل کا حصہ ہے جس کا مقصد صارفین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا اور ان کے حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنانا ہے۔
ماضی میں میٹر کی خرابی، فنی خرابیوں، یا بجلی کی کھپت کے درست ریکارڈ نہ ہو پانے کی صورت میں، متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت کھپت کا تخمینہ لگا کر ڈیٹیکشن بل جاری کیے جاتے تھے۔
تاہم بعض صورتوں میں تخمینہ شدہ کھپت اصل استعمال سے مطابقت نہیں رکھتی تھی جس کے نتیجے میں بلوں میں زیادتی اور صارفین کے لیے شکایات کے ازالے کا طویل عمل جنم لیتا تھا۔ اس نظام میں انسانی مداخلت کا امکان بھی شفافیت اور بے ضابطگیوں کے حوالے سے خدشات پیدا کرتا رہا۔
مزید پڑھیے: پاور سیکٹر ملازمین کے مفت یونٹس ختم، اویس لغاری کا عدالتی فیصلے کا خیرمقدم
بیان کے مطابق ان مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے پاور ڈویژن نے ڈیٹیکشن بلنگ سسٹم کو ڈیجیٹائز اور خودکار بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انسانی مداخلت اور غیر ضروری صوابدیدی اختیارات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
اس سلسلے میں تمام تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ نیپرا کے کنزیومر سروس مینوئل میں ضروری ترامیم شامل کریں اور دیگر متعلقہ اقدامات اٹھائیں۔
بیان میں کہا گیا کہ نئے نظام کے تحت ڈیٹیکشن بلنگ اور اس سے متعلقہ ریکوری کے عمل کی ہر ماہ نگرانی کی جائے گی تاکہ زائد بلنگ اور غیر معمولی رجحانات کی بروقت نشاندہی کی جا سکے اور فوری اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔
مزید پڑھیں: پاور سیکٹر ملازمین کے مفت یونٹس ختم، اویس لغاری کا عدالتی فیصلے کا خیرمقدم
وفاقی وزیر لغاری نے کہا کہ پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات کا بنیادی مقصد صارفین کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیٹیکشن بلنگ سسٹم میں اصلاحات صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں گی، بلنگ کے عمل میں شفافیت کو بہتر بنائیں گی، اور بجلی کے نظام پر عوامی اعتماد کو مزید مضبوط کریں گی۔














