امریکی فوج نے بحر کیریبین میں منشیات کی اسمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث ایک مشکوک کشتی پر حملہ کر کے 4 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے سمندری حدود میں جاری ان امریکی حملوں کو ‘ماورائے عدالت قتل’ قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی ملٹری کی سدرن کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ ہفتے کے روز بحر کیریبین میں ایک کشتی کو نشانہ بنایا گیا جو منشیات کی غیر قانونی ترسیل میں ملوث تھی۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے امریکی فوج کا کیریبین میں ایک اور کشتی پر حملہ، 3 مشتبہ منشیات اسمگلر ہلاک
امریکی فوج کے مطابق یہ تازہ ترین حملہ ان کارروائیوں کا سلسلہ ہے جو گزشتہ سال سے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مبینہ ’منشیات فروش دہشتگردوں‘ (Narco-terrorists) کے خلاف شروع کی گئی ہیں۔
سدرن کمانڈ کے بیان کے مطابق، ہفتے کو کی جانے والی اس کارروائی سے ٹھیک 10 دن قبل بھی بحر کیریبین میں اسی نوعیت کے ایک حملے میں 3 افراد مارے گئے تھے۔
ترجمان کے مطابق، اس امریکی مہم کے آغاز سے لے کر اب تک بحر کیریبین اور مشرقی بحر الکاہل میں مختلف شناوروں اور کشتیوں پر کیے جانے والے امریکی حملوں میں مجموعی طور پر 220 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بحرالکاہل میں امریکی فضائی حملہ، منشیات کی اسمگلنگ سے وابستہ کشتی پر 2 افراد مارے گئے
دوسری جانب، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے سمندر میں کشتیوں کو نشانہ بنانے کے اس امریکی سلسلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور ان تمام کارروائیوں اور ہلاکتوں کو ’ماورائے عدالت قتل‘ قرار دیا ہے۔













