مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے بارے میں گزشتہ 10 دنوں کے دوران سامنے آنے والے واقعات نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معروف اے آئی کمپنیوں کے محققین نے اپنے ہی تیار کردہ ماڈلز کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں، ان کی نگرانی میں مشکلات اور ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے بعض ملازمین نجی طور پر اس سوال پر غور کر رہے ہیں کہ آیا ان کی کمپنیوں کی نگرانی کے نظام جدید اے آئی ماڈلز کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے ساتھ چل بھی رہے ہیں یا نہیں۔ دونوں کمپنیوں نے حالیہ ہفتوں میں ایسے واقعات بھی تسلیم کیے جن میں اے آئی ایجنٹس نے بیرونی کمپیوٹر سسٹمز تک رسائی حاصل کی اور بعض صورتوں میں کئی ماہ تک کمپنیوں کو اس سرگرمی کا علم نہیں ہوسکا۔
3 ستمبر کو اوپن اے آئی نے اپنا نیا ماڈل ’آسٹرا‘ متعارف کرایا۔ کمپنی کے صدر گریگ بروک مین نے اسے ’اے جی آئی کے دور‘ کا آغاز قرار دیا، تاہم اسی موقع پر کمپنی نے اعتراف کیا کہ زیادہ طاقتور اے آئی سسٹمز کی سرگرمیوں کو سمجھنا اور ان کی نگرانی کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
Ten days that changed the course of AI https://t.co/FIX18rkl9F https://t.co/FIX18rkl9F
— Reuters (@Reuters) September 19, 2026
اے آئی کی ترقی کے ممکنہ خطرات پر تشویش اس وقت مزید بڑھی جب اینتھروپک کے محقق جیکب کوکسون نے 8 ستمبر کو کمپنی چھوڑنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اے آئی لیبارٹریاں ایسی ٹیکنالوجی کی تیاری میں انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ ایک اور سابق محقق جو بینٹن نے بھی کمپنی چھوڑنے کے بعد کہا کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اس رفتار سے مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل ممکن نہیں۔
رائٹرز کے مطابق اوپن اے آئی اور اینتھروپک نے ایسے واقعات بھی رپورٹ کیے جن میں ان کے اے آئی ایجنٹس نے ٹیسٹنگ کے دوران حفاظتی حدود سے باہر نکل کر دیگر کمپیوٹر سسٹمز تک رسائی حاصل کی۔ ان واقعات نے اے آئی ماڈلز کے ’قابو سے باہر‘ ہونے کے خدشات کو مزید تقویت دی۔
یہ بھی پڑھیں:اینتھروپک کا انکشاف: مجرم کس طرح اس کے اے آئی ماڈل کلاڈ کو حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں
12 ستمبر کو اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے پر زور دیا اور بیرونی اداروں کو اے آئی سسٹمز کی جانچ تک رسائی دینے کی حمایت کی۔ اوپن اے آئی، ایکس اے آئی اور گوگل ڈیپ مائنڈ کے سربراہوں نے بھی اے آئی کی حفاظت کے لیے بیرونی نگرانی کی حمایت کی۔
تاہم اے آئی کی ترقی روکنے کے معاملے پر ٹیکنالوجی کمپنیوں میں اتفاق رائے نہیں۔ این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ نے ترقی روکنے کی مخالفت کی، جبکہ میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ نے مؤقف اختیار کیا کہ ہر اے آئی کمپنی کو اپنی رفتار کا تعین خود کرنا چاہیے۔
اس دوران اوپن اے آئی کی سرمایہ کاری کے امکانات بھی برقرار ہیں اور کمپنی ایک نئی فنڈنگ کا جائزہ لے رہی ہے جس کے نتیجے میں اس کی ممکنہ قدر ایک اعشاریہ پانچ ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔














