امریکا ایران تنازع، آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملوں کا تبادلہ

اتوار 6 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور دونوں ممالک کی افواج نے ایران کے قریب سمندری حدود میں متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی فوج نے ایران کے 3 آئل ٹینکرز پر حملے کیے، جبکہ ایران نے بھی 3 ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بحریہ کے 2 جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد امریکی افواج نے ایرانی تیل بردار 3 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں سے ایک جہاز ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب موجود تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا خارگ جزیرہ تباہ کرنے کا دعویٰ، لارک پر حملے کے بعد ایران امریکا کشیدگی بڑھ گئی

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ایران کو واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ اگر امریکی بحری جہازوں پر حملہ کیا گیا تو اس کے جواب میں ایران پر مزید معاشی نقصان عائد کیا جائے گا۔ ان کے بقول، ایرانی حملے کے جواب میں 3 ایرانی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی کارروائی کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی بحری جہازوں کے خلاف حملے مزید تیز کرنے کی دھمکی دی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحری فورس نے تین ٹینکرز کے علاوہ دیگر علاقوں میں امریکا سے منسلک 3 بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ غیر مجاز سمندری راستوں سے گزرنے یا کسی بھی مشکوک نقل و حرکت سے گریز کیا جائے، بصورت دیگر ایسے جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق خارگ جزیرے کے لنگر انداز علاقے میں موجود ایک ٹینکر پر 4 امریکی میزائل لگے۔

مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم ٹینکر کے عملے کو بحفاظت نکالا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی تصدیق کی کہ اس کارروائی میں کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔

یہ تازہ جھڑپیں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ ہیں، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری میں ایران پر حملے شروع کیے جانے کے بعد سے جاری تنازع نے عالمی توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا ہے اور عالمی منڈیوں میں تیل کی فراہمی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

خارگ جزیرے پر ٹرمپ کی دھمکیاں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے اور پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے فوجی کارروائی کا امکان بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔

31 اگست کو ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر پیغام کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی، جس میں خارگ جزیرے کو تباہ ہوتے دکھایا گیا تھا۔

ایرانی حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر خارگ جزیرے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ایران اوپیک کا تیسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے اور جنگ سے قبل اس کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات خارگ جزیرے کے ذریعے ہوتی تھیں۔

تاہم اپریل کے وسط سے امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایرانی تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔

امریکی صدر اس سے قبل بھی خارگ جزیرے پر حملے کی بات کر چکے ہیں، 11 جون کو ٹرمپ نے جزیرے پر قبضہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، تاہم چند روز بعد انہوں نے کہا کہ فی الحال وہاں فوجی کارروائی کا امکان موجود نہیں۔

مزید پڑھیں: ایران کی سمندری رسائی محدود رکھنے کا امریکی اعلان، ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رہنے کا امکان

ایران پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی اہمیت بھی مزید نمایاں ہوگئی ہے، جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 5ویں حصے کی تیل سپلائی اسی اہم سمندری گزرگاہ سے گزرتی تھی، تاہم ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کیے جانے کے بعد امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کر دی۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات عالمی تیل منڈی پر بھی نمایاں ہیں۔ جمعہ کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 96.28 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، جو 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp