اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے قطر پر حملے اور بمباری پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے دوران اسرائیل نے قطر کو نشانہ بنایا، جبکہ انہوں نے غزہ کے لیے قطر سے بھیجی گئی لاکھوں ڈالر کی امداد کا بھی دفاع کیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے اسرائیلی نیوز چینل ’i24 نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں قطر کو ’دشمن ریاست‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی پالیسی کسی دوسرے ملک کے دباؤ کے تحت نہیں چلتی۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران قطر پر حملہ اور بمباری کی اور قطر نے بھی اسرائیل کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ پر جارحیت، حماس کا نیتن یاہو پر جنگ بندی مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام
نیتن یاہو کا یہ بیان قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی حملے کے تقریباً ایک سال بعد سامنے آیا ہے۔ 9 ستمبر 2025 کو ہونے والے حملے میں حماس کے 5 ارکان اور قطری سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ یہ حملہ حماس کے رہنماؤں کے ایک اجلاس کے دوران کیا گیا تھا، جس میں امریکا کی حمایت سے غزہ میں جنگ بندی کی تجویز پر بات چیت جاری تھی۔
قطر نے اس حملے کو عالمی قوانین اور ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی تھی، جبکہ ایران، پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت متعدد ممالک نے بھی اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی حملے کو قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
QATAR WINS? 🇶🇦🇮🇱🇵🇸🔥Netanyahu says, Qatar is a 'Hostile' state in the region amid #Qatar continued its humanitarian aid to Gaza and Palestinians in 2026, delivers millions worth funds and charities such as the Qatar Fund for Development, Qatar Charity, and the Qatar Red Crescent.… pic.twitter.com/Tb3VfZr8Nz
— RKM (@rkmtimes) September 6, 2026
دوسری جانب نیتن یاہو نے غزہ کو بھیجی جانے والی قطری مالی امداد سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم انسانی امداد کے لیے تھی اور اسے اسرائیلی خفیہ اداروں موساد اور شن بیت کی سفارش پر منتقل کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق غزہ میں داخل ہونے والی مجموعی رقم میں قطری فنڈز کا حصہ صرف 2 فیصد تھا۔۔
نیتن یاہو کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل میں 27 اکتوبر کو عام انتخابات ہونے والے ہیں اور غزہ جنگ، معیشت اور ایران کے ساتھ کشیدگی انتخابی مہم کے اہم موضوعات بن چکے ہیں۔













