اسٹاک ایکسچینج مندی کا شکار، انڈیکس 800 پوائنٹس تک گر گیا

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر مندی کا رجحان دیکھا گیا، جہاں ٹریڈنگ کے ابتدائی منٹوں میں انڈیکس تقریباً 800 پوائنٹس تک گر گیا۔

پیر کو صبح 10 بج کر 15 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 772.50 پوائنٹس یعنی 0.44 فیصد کمی کے بعد 174,556.32 پوائنٹس کی سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا، ایران کشیدگی کے اثرات، پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید مندی سے دوچار

مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ مختلف اہم شعبوں میں نمایاں رہا، جن میں آٹو موبائل اسمبلی، سیمنٹ، کمرشل بینک، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) اور ریفائنریز شامل ہیں۔

اٹک ریفائنری، حب پاور کمپنی، پاکستان اسٹیٹ آئل، فاطمہ فرٹیلائزر، میزان بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک جیسے انڈیکس پر نمایاں اثر رکھنے والے متعدد حصص بھی منفی زون میں کاروبار کرتے رہے۔

گزشتہ ہفتے بھی مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی

گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی اتار چڑھاؤ برقرار رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس مجموعی طور پر 1.3 فیصد کمی کے بعد 175,328.81 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

مارکیٹ میں مندی کی بڑی وجوہات میں امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ ہونے والی فوجی جھڑپوں کے باعث پیدا ہونے والی جغرافیائی سیاسی بے یقینی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ شامل تھا۔

سرمایہ کاروں کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیرونی کھاتوں پر پڑنے والے ممکنہ دباؤ سے بھی تشویش رہی۔

عالمی منڈیوں میں ملا جلا رجحان

دوسری جانب پیر کو ایشیائی حصص کی مارکیٹوں میں مجموعی طور پر تیزی دیکھی گئی، امریکا کے مضبوط روزگار کے اعداد و شمار کو عالمی معاشی نمو کے لیے مثبت قرار دیا گیا، تاہم اس رپورٹ کے باعث شرح سود میں اضافے کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا، جس کی وجہ خلیج میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات بتائے گئے ہیں۔

ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے باہر ایک محدود زون کے قیام کا اعلان آئندہ دنوں میں کرے گا۔ اس سے قبل امریکی فورسز نے تین ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا تھا، جبکہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور نے امریکی بحریہ کے دو جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا۔

مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ کے اہم شعبے منفی زون میں، انڈیکس میں 454 پوائنٹس کی کمی

عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.2 فیصد اضافے کے بعد 96.45 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ گزشتہ ہفتے اس کی قیمت میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ امریکی خام تیل کی قیمت بھی 0.4 فیصد بڑھ کر 91.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث رواں ہفتے امریکا کے صارف قیمتوں کے اہم اعداد و شمار پر سرمایہ کاروں کی نظریں مرکوز ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ سرمایہ کاری کے لیے بہترین جگہ کیوں ہے؟

یورپی منڈیوں میں بھی شرح سود سے متعلق سخت پالیسی کے خدشات کے باعث محتاط رویہ دیکھا گیا۔ یورو اسٹاکس 50 اور جرمن ڈیکس کے فیوچرز میں 0.1 فیصد کمی ہوئی، جبکہ برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای فیوچرز میں نمایاں تبدیلی نہیں ہوئی۔

امریکا میں تعطیل کے باعث وال اسٹریٹ پر کاروباری سرگرمیاں محدود رہیں، جبکہ ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک کے فیوچرز میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔

ایشیا میں جاپان کا نکیئی انڈیکس 2 فیصد بحال ہوا، جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں 3 فیصد تیزی دیکھی گئی۔ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی انڈیکس میں بھی 0.9 فیصد اضافہ ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp