وینس فلم فیسٹیول میں غزہ سنیما اکیڈمی کا باضابطہ آغاز کردیا گیا، جس کا مقصد غزہ میں فلمی تعلیم، تربیت اور فلم سازی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
ایزالدین شلاح اور مائی مصری کی مشترکہ کاوش سے قائم کی گئی غزہ سنیما اکیڈمی کو فلسطینی، عرب اور عالمی فلم سازوں اور فلمی صنعت سے وابستہ اہم شخصیات کی حمایت حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہالی ووڈ کے بڑے اداکار کس منفرد انداز میں غزہ کے لیے امداد جمع کر رہے ہیں؟
اس اقدام کی حمایت کرنے والوں میں فلسطینی اداکارہ و ہدایت کار ہایم عباس، امریکی مزاح نگار رامی یوسف اور فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ کی ہدایت کار کوثر بن ہانیہ شامل ہیں، جو وینس فلم فیسٹیول کی جیوری کی رکن بھی ہیں۔
اکیڈمی کے شریک بانی ایزلدین شلاح نے کہا کہ غزہ میں سنیما محض فن نہیں بلکہ یادداشت محفوظ رکھنے، اپنی تصویر خود پیش کرنے کے حق کے حصول اور نئی نسل کو اپنی کہانی بیان کرنے کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکیڈمی غزہ کے نوجوانوں اور خواتین کو سیکھنے، تخلیق کرنے اور اپنی فلمیں بنانے کا موقع فراہم کرنا چاہتی ہے تاکہ ان کی آوازیں اور تصاویر دنیا تک پہنچ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ جنگ پر دستاویزی فلم ’نازا‘ وینس فیسٹیول میں گولڈن لائن کی امیدوار
اکیڈمی کے آغاز کے بعد ایک مختصر فلم بھی پیش کی گئی، جس میں ایزلدین شلاح کو کلاس روم میں خواہش مند خواتین فلم سازوں کے ساتھ دکھایا گیا، جو اپنی کہانیوں کو بڑے پردے تک پہنچانے کے خواب بیان کرتی نظر آئیں۔
رواں برس وینس فلم فیسٹیول کے سرکاری انتخاب میں دو اہم فلسطینی فلمیں بھی شامل ہیں، جن میں احمد حسونہ کی ہدایت کاری میں بننے والی ’سٹیزن اسامہ‘ اور معیاد العیان کی ہدایت کاری میں بننے والی ’کانورسیشن ود دی سی‘ شامل ہیں۔














