ہم اسکول سے نکل آئے لیکن اسکول ہم سے نہیں نکلتا، سائنس کیا کہتی ہے؟

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کبھی سردیوں کی کسی ٹھنڈی صبح کھڑکی سے آتی دھوپ اچانک آپ کو کئی دہائیاں پیچھے لے جاتی ہے۔ شاید ذہن میں اسکول کی وہی پرانی عمارت ابھر آئے، صبح سویرے پہننے والی گرم یونیفارم، ہاتھوں میں کتابیں، اسمبلی کے لیے قطار میں کھڑے بچے، کھیل کے میدان میں دوستوں کے ساتھ گزرا وقت یا چھٹی کی گھنٹی کا بے صبری سے انتظار۔

یہ بھی پڑھیں: فلوپی ڈسکس اور ان میں چھپی بھولی بسری یادیں، کیا وہ خزانہ بچا لیا جائے گا؟

حیرت کی بات یہ ہے کہ انسان عمر کے کسی بھی حصے میں پہنچ جائے اسکول کے زمانے کی بعض یادیں اس کے ذہن میں غیر معمولی طور پر تازہ رہ سکتی ہیں۔ کبھی کوئی خوشبو، پرانا گانا، سرد ہوا، دھوپ یا حتیٰ کہ کسی خاص قسم کی آواز بھی ماضی کا وہ دروازہ کھول دیتی ہے جس کے پیچھے برسوں پرانا اسکول اور بچپن اب بھی موجود ہوتا ہے۔

نفسیاتی تحقیق کے مطابق اس کیفیت کو محض ماضی کو یاد کرنا نہیں کہا جا سکتا۔ اسے نوسٹیلجیا کہا جاتا ہے یعنی ماضی سے جڑی ایسی جذباتی کیفیت جس میں انسان کو گزرے ہوئے وقت کی کمی بھی محسوس ہوتی ہے اور اس سے ایک خوشگوار تعلق بھی محسوس ہوتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ نوسٹیلجیا عموماً مثبت جذبات، سماجی تعلق اور زندگی میں معنی کے احساس کو بڑھا سکتا ہے۔

اسکول کی یادیں اتنی خاص کیوں ہوتی ہیں؟

اسکول ہماری زندگی کا وہ دور ہوتا ہے جب روزمرہ زندگی ایک مخصوص ترتیب میں گزرتی ہے۔

ہر صبح ایک ہی وقت پر اٹھنا، یونیفارم پہننا، اسکول جانا، مخصوص دوستوں سے ملنا، ایک ہی کلاس روم میں بیٹھنا، اساتذہ کی آواز سننا، وقفے میں کھانا کھانا اور پھر چھٹی کے بعد گھر واپس آنا یہ معمول برسوں تک ہماری زندگی کا حصہ رہتا ہے۔

مزید پڑھیے: کیا سردیاں رومانس کا موسم لے آتی ہیں، اس دوران رومانٹک موڈ کے پیچھے کیا سائنس ہے؟

اس دوران بننے والی دوستیوں اور تجربات کا تعلق بھی ہماری شخصیت کی تشکیل سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کی زندگی میں جب انسان خود کو مصروفیات، ذمہ داریوں اور بدلتے ہوئے رشتوں کے درمیان پاتا ہے تو ذہن کبھی کبھار اس دور کی طرف واپس جاتا ہے جب زندگی نسبتاً سادہ محسوس ہوتی تھی۔

محققین کے مطابق نوسٹیلجیا ماضی اور حال کے درمیان ایک جذباتی پل بناتا ہے۔ یہ انسان کو یہ احساس دلا سکتا ہے کہ ماضی کا شخص اور آج کا شخص ایک ہی زندگی کا حصہ ہیں۔

سردیوں میں اسکول کیوں زیادہ یاد آتا ہے؟

یہ سوال خاص طور پر دلچسپ ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کے لیے سردیوں کا موسم خود نوسٹیلجیا پیدا کرنے والا محسوس ہوتا ہے۔

سرد ہوا، دھند، کمزور دھوپ، گرم کپڑے، چائے اور صبح کی خاموشی جیسے مناظر بعض لوگوں کو اپنے بچپن کی طرف لے جاتے ہیں۔ اگر بچپن کی یادوں میں سردیوں کا اسکول بھی شامل ہو تو موسم اور یاد ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔

سائنسی تحقیق میں بھی سردی اور نوسٹیلجیا کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔ ایک تجربے میں لوگوں نے نسبتاً گرم دنوں کے مقابلے میں سرد دنوں میں زیادہ نوسٹیلجیا محسوس کیا جبکہ دوسرے تجربات میں سرد ماحول اور سرد موسم سے پیدا ہونے والی کیفیت کے ساتھ پرانی یادوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

ایک اور تحقیق میں خراب یا ناموافق موسم کو بھی نوسٹیلجیا سے جوڑا گیا۔ محققین کے مطابق مشکل موسم بعض اوقات انسان کو ماضی کی خوشگوار یادوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جیسے ماضی کی کوئی محفوظ اور مانوس جگہ ذہنی سکون فراہم کر رہی ہو۔

شاید اسی لیے سردیوں کی ایک عام سی صبح کبھی کبھی انسان کو اچانک اس زمانے میں واپس لے جاتی ہے جب وہ اسکول جانے کے لیے گرم کپڑے پہن کر گھر سے نکلا کرتا تھا۔

صرف تصویر نہیں، خوشبو بھی ماضی واپس لاسکتی ہے

کسی پرانی اسکول کی عمارت کو دیکھنا یادیں تازہ کرسکتا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اوقات تصویر سے زیادہ طاقتور محرک خوشبو ہوسکتی ہے۔

پرانے کاغذ، لکڑی، چاک، بارش کے بعد مٹی کی خوشبو، سردیوں میں جلنے والے ایندھن یا کسی مخصوص کھانے کی خوشبو انسان کو اچانک بچپن کی کسی جگہ یا واقعے تک پہنچا سکتی ہے۔

تحقیق میں پایا گیا ہے کہ خوشبو سے متحرک ہونے والی خود نوشت یادیں بعض اوقات انسان کو ماضی میں واپس پہنچنے کا زیادہ مضبوط احساس دیتی ہیں۔ خاص طور پر خوشبو سے پیدا ہونے والی کچھ یادیں ابتدائی بچپن سے وابستہ ہوتی ہیں۔

یعنی ممکن ہے آپ کو آج اچانک کسی جگہ سے وہی خوشبو آئے جو کبھی اسکول کے قریب آتی تھی اور چند لمحوں کے لیے آپ کی عمر، آپ کی ذمہ داریاں اور موجودہ زندگی جیسے کہیں پیچھے رہ جائیں۔

ہم ماضی کو یاد کرکے دراصل کیا ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں؟

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انسان صرف پرانے دن یاد کر رہا ہے لیکن ماہرین کے مطابق نوسٹیلجیا کا تعلق اس سے کہیں زیادہ گہرا ہوسکتا ہے۔

نفسیاتی تحقیق کے مطابق نوسٹیلجیا انسان میں اپنائیت اور تعلق کا احساس بڑھا سکتا ہے۔ پرانی یادیں ہمیں ان لوگوں، جگہوں اور تجربات سے دوبارہ جوڑتی ہیں جو ہماری زندگی کا حصہ رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کسی پرانے اسکول کے دوست سے برسوں بعد ملاقات یا اسکول کی پرانی تصویر دیکھنا صرف خوشی نہیں دیتا بلکہ بعض اوقات ایک عجیب سی اداسی بھی ساتھ لاتا ہے۔

انسان جانتا ہے کہ وہ وقت واپس نہیں آسکتا۔

لیکن چند لمحوں کے لیے اسے دوبارہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔

’کاش میں دوبارہ اسکول جاسکتا‘ کا احساس

بہت سے لوگ عمر بڑھنے کے ساتھ کبھی نہ کبھی یہ ضرور سوچتے ہیں کہ کاش ایک دن کے لیے دوبارہ اسکول جاسکتا۔

وہی یونیفارم، وہی کلاس روم، وہی دوست، وہی میدان اور وہی چھٹی کی گھنٹی۔

لیکن شاید انسان حقیقت میں اسکول واپس جانے کی خواہش نہیں کر رہا ہوتا۔ وہ اس احساس میں واپس جانا چاہتا ہے جو اس وقت اس کی زندگی کا حصہ تھا۔

وہ وقت جب مستقبل ابھی بہت دور تھا، چھوٹی خوشیاں بڑی محسوس ہوتی تھیں، دوستوں کے ساتھ ایک گھنٹہ پورا دن لگتا تھا اور آنے والے کل کی فکر آج کی خوشی پر حاوی نہیں ہوتی تھی۔

نفسیات کے ماہرین کے مطابق نوسٹیلجیا انسان کو اپنے ماضی اور حال کے درمیان تسلسل محسوس کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یعنی انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ آج وہ جہاں ہے اس کے پیچھے اس کا وہی پرانا وجود بھی موجود ہے۔

کیا نوسٹیلجیا صرف اداسی ہے؟

ضروری نہیں۔ نوسٹیلجیا میں خوشی اور اداسی دونوں شامل ہوسکتے ہیں۔ آپ کسی خوبصورت یاد کو سوچ کر مسکرا سکتے ہیں اور اسی لمحے یہ محسوس کرکے اداس بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ وقت دوبارہ نہیں آئے گا۔

اسی لیے ماضی کی یادیں بسا اوقات اتنی طاقتور محسوس ہوتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق نوسٹیلجیا مجموعی طور پر مثبت جذبات سے جڑا ہوا ہے اور انسان کے سماجی تعلق، خود اعتمادی اور زندگی میں معنی کے احساس کو تقویت دے سکتا ہے۔

حتیٰ کہ کچھ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ تنہائی کے دوران نوسٹیلجیا بڑھ سکتا ہے اور پرانی یادیں انسان کو دوبارہ تعلق اور سماجی حمایت کا احساس دلا سکتی ہیں۔

شاید اسی لیے پرانے اسکول کبھی واقعی پرانے نہیں ہوتے

وقت گزرنے کے ساتھ اسکول کی عمارت بدل سکتی ہے، کلاس روم ختم ہوسکتے ہیں، کھیل کا میدان کسی نئی عمارت میں تبدیل ہوسکتا ہے اور وہ دوست بھی دنیا کے مختلف حصوں میں بکھر سکتے ہیں لیکن ذہن میں محفوظ اسکول اکثر ویسا ہی رہتا ہے۔

وہاں وہی درخت ہوتے ہیں، وہی راستے ہوتے ہیں، وہی دوست ہوتے ہیں اور شاید ہم خود بھی اسی عمر میں موجود ہوتے ہیں۔

اسی لیے کسی سرد صبح جب دھوپ کچھ ویسی ہی ہو جیسی بچپن میں ہوتی تھی، جب ہوا میں وہی خنکی محسوس ہو یا کسی پرانے گانے کی دھن اچانک سنائی دے تو ذہن برسوں کا فاصلہ چند لمحوں میں طے کرلیتا ہے۔

مزید پڑھیں: ’او وی خوب دیہاڑے سَن‘، خوشیاں لانے والی سردیاں اور بارشیں اب غزہ والوں کے دل کیوں دہلا دیتی ہیں؟

اور شاید یہی نوسٹیلجیا کی سب سے خوبصورت بات ہے کہ ہم ماضی میں واپس نہیں جاسکتے لیکن ہماری یادیں کبھی کبھی ہمیں وہاں دوبارہ لے جاتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp