صرف 3 منٹ کی تیز رفتار ورزش جسم میں کس قدر تبدیلیاں پیدا کرتی ہے؟

منگل 18 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

راک فیلر یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ صرف تین منٹ کی انتہائی تیز رفتار اسپرنٹ ورزش نے جسم میں تقریباً 200 سے زائد میٹابولائٹس اور بڑی تعداد میں پروٹینز میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کیں۔ محققین کے مطابق مختصر مگر شدید ورزش جسم میں ایسے سگنلز پیدا کرتی ہے جو طویل دورانیے کی درمیانی شدت والی ورزش سے مختلف ہوتے ہیں۔

تحقیق میں مختلف چھوٹے انسانی گروپس کو شامل کیا گیا، جنہوں نے یا تو اسپرنٹ انٹرول ورزش کی یا درمیانی شدت کی ورزش کی۔ اسپرنٹ پروٹوکول میں 30،30 سیکنڈ کے 6 آل آؤٹ اسپرنٹس شامل تھے، یعنی انتہائی شدید ورزش کا مجموعی دورانیہ صرف 3 منٹ تھا، جبکہ دوسرے گروپ نے سائیکل یا ٹریڈمل پر 90 منٹ تک درمیانی شدت کی ورزش کی۔ محققین نے ورزش سے پہلے، فوراً بعد اور کئی گھنٹے بعد خون کے نمونے لے کر تقریباً 3 ہزار پروٹینز اور سیکڑوں میٹابولائٹس کا تجزیہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے چین میں ورزش کا رجحان بڑھ گیا، صحت اور فٹنس کو ایک ساتھ فروغ دینے کی مہم تیز

نتائج نے ظاہر کیا کہ اسپرنٹ ورزش کے فوراً بعد تقریباً 25 فیصد پروٹینز میں تبدیلی آئی، جبکہ 90 منٹ کی درمیانی شدت کی سائیکلنگ کے بعد اسی مرحلے پر ایک چوتھائی فیصد سے بھی کم پروٹینز متاثر ہوئے۔ شدید ورزش نے 200 سے زائد میٹابولائٹس میں تبدیلی پیدا کی اور خون کی شریانوں کی نشوونما، ٹشوز کی ازسرنو تشکیل، میٹابولزم اور ہارمونز سے متعلق سگنلز میں تیزی سے اضافہ کیا۔ ان میں بعض مالیکیولز ’ایگزرکائنز‘ کہلاتے ہیں جو ورزش کے دوران خارج ہو کر جسم کے مختلف اعضا کے درمیان رابطے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

محققین نے ورزش کے بعد حاصل کیے گئے خون کے نمونوں کو انسانی چربی کے خلیوں پر بھی آزمایا۔ ان خلیوں میں توانائی کے استعمال، ہارمونل سگنلز اور غذائی اجزا کو محسوس کرنے سے متعلق جینز کی سرگرمی تبدیل ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید ورزش کے دوران خارج ہونے والے مالیکیولز جسم پر وسیع اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ تحقیق کے نتائج کو برطانیہ کے بائیوبینک میں شامل 53 ہزار سے زائد افراد کے صحت کے ڈیٹا سے ملایا گیا تو ورزش سے متحرک ہونے والے متعدد پروٹینز موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس سمیت قلبی و میٹابولک بیماریوں کے کم خطرے سے منسلک پائے گئے۔ تاہم محققین نے واضح کیا کہ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ روزانہ صرف تین منٹ اسپرنٹ کرنے سے عمر بڑھنے کا عمل سست ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیے کرینہ کپور کی نئی ورزش سوشل میڈیا پر وائرل، اس کے فائدے کیا ہیں؟

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ طویل اور درمیانی شدت کی ورزش کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس ورزش کے کئی گھنٹے بعد فیٹی ایسڈز اور جگر سے بننے والے بعض پروٹینز میں اضافہ دیکھا گیا، جو طویل عرصے تک توانائی کے استعمال سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بہترین حکمت عملی دونوں اقسام کی ورزش کو معمول کا حصہ بنانا ہوسکتی ہے؛ ہفتے میں ایک یا 2 مختصر مگر شدید ورزشیں قلبی اور میٹابولک نظام کو مضبوط چیلنج دے سکتی ہیں، جبکہ کم شدت کی ورزش برداشت، دل کی صحت اور جسمانی بحالی کے لیے اہم ہے۔ اسپرنٹ لازماً دوڑ کی صورت میں ہی نہیں، بلکہ سائیکل، روئنگ مشین یا چڑھائی پر تیز ورزش کے ذریعے بھی کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ فرد اپنی جسمانی استعداد کے مطابق اسے محفوظ انداز میں انجام دے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp