ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چیٹ بوٹس سے خصوصاً 5 ذاتی باتیں ہرگز شیئر نہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: نوسرباز آپ کی آواز چرا سکتے ہیں لیکن ایک راز نہیں جان سکتے، جانیے اے آئی فراڈ سے بچنے کا مؤثر طریقہ
ایلون یونیورسٹی کے امیجننگ دی ڈیجیٹل فیوچر سینٹر کے سروے میں سامنے آیا ہے کہ امریکا میں نصف آبادی اب چیٹ جی پی ٹی، جیمنائی اور کلاؤڈ جیسے اے آئی ٹولز کو باقاعدگی سے استعمال کر رہی ہے تاہم اکثر اکثر صارفین کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ ان کی یہ بات چیت کبھی بھی نجی نہیں رہتی۔
اسٹینفورڈ کے انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن سینٹرڈ اے آئی نے چھ بڑے چیٹ بوٹ ڈویلپرز، اوپن اے آئی، گوگل، اینتھروپک، ایمازون، میٹا اور مائیکروسافٹ کی پرائیویسی پالیسیوں کا جائزہ لیا اور پایا کہ یہ تمام کمپنیاں بطور ڈیفالٹ صارفین کی گفتگو کو اپنے ماڈلز کی ٹریننگ کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ بعض کمپنیاں تو یہ ڈیٹا غیر معینہ مدت تک محفوظ رکھتی ہیں۔
ماہرین نے 5 ایسی چیزوں کی نشاندہی کی ہے جو کبھی بھی چیٹ بوٹ کو نہیں بتانی چاہییں۔
ذاتی شناختی معلومات
آپ کا پورا نام، گھر کا پتا، فون نمبر، شناختی کارڈ یا پاسپورٹ نمبر، یہ سب کچھ لاگ ہو سکتا ہے اور شناخت کی چوری یا فراڈ کا دروازہ کھول سکتا ہے۔
انفارمیشن سیکیورٹی ماہر جارج الکورا کا کہنا ہے کہ اپ لوڈ کی جانے والی فائلز میں بھی یہی خطرہ ہوتا ہے اس لیے ریزیومے کو اے آئی سے ایڈٹ کرانے سے پہلے اس سے شناختی تفصیلات ہٹا دیں۔
انتہائی ذاتی اور نجی باتیں
چیٹ بوٹ سے بات چیت کا انداز گوگل سرچ سے زیادہ کسی انسان سے بات کرنے جیسا لگتا ہے جس کی وجہ سے لوگ زیادہ ذاتی باتیں شیئر کر دیتے ہیں۔ لیکن یہ پرائیویسی کا احساس گمراہ کن ہے ان بات چیت کو کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں اور یہ بعد میں ثبوت کے طور پر بھی سامنے آ سکتی ہیں۔
طبی معلومات
سنہ2024 کے کے ایف ایف پول کے مطابق ہر 6 میں سے ایک بالغ شخص ہر ماہ ہیلتھ ایڈوائس کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس سے رجوع کرتا ہے۔ ایموری یونیورسٹی کے ڈاکٹر روی پاریکھ کے مطابق ڈاکٹر کے کلینک کے برعکس عام چیٹ بوٹس ایچ آئی پی اے اے جیسے قوانین کے پابند نہیں ہوتے اس لیے صحت سے متعلق کوئی بھی معلومات شیئر کرنے سے پہلے اس سے اپنی شناخت ہٹا دیں۔
خفیہ دفتری مواد
اندرونی رپورٹس، کلائنٹس کا ڈیٹا، سورس کوڈ جیسی اہم معلومات کبھی بھی پرومپٹ میں نہ ڈالیں۔ الکورا کا کہنا ہے کہ مضبوط سیکیورٹی کے باوجود ایک بھی حساس ان پٹ ریگولیٹری یا معاہدے کی خلاف ورزی شمار ہو سکتا ہے۔
مالیاتی ریکارڈ
پے سلپس، بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات، کریڈٹ کارڈ نمبرز اور ٹیکس ریٹرنز کو چیٹ سے مکمل طور پر دور رکھیں۔ مالیاتی امور کے ماہر آدم ہیز خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ ڈیٹا لیک ہو جائے تو اسے بلیک میلنگ یا آپ کے اور آپ کے خاندان کے خلاف ٹارگٹڈ فراڈ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اگر آپ پہلے ہی زیادہ معلومات شیئر کر چکے ہوں تو کیا کریں؟
سائبر سیکیورٹی ماہر جارج کامائیڈ کا کہنا ہے کہ ایک بار معلومات ماڈل کے ٹریننگ ڈیٹا میں شامل ہو جائے تو اسے واپس نکالنا ممکن نہیں۔
چیٹ ہسٹری ڈیلیٹ کرنے سے یہ عمل واپس نہیں ہوگا لیکن اگر آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو اس سے خطرہ کم ضرور ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی کے نئے ماڈل ’ایسٹرا‘ میں خطرناک سیکیورٹی خدشات کا انکشاف، ڈیولپنگ کام عارضی معطل
اس بات سے ماہر کی مراد یہ ہے کہ ہسٹری ڈیلیٹ کرنے سے آپ کمپنی کے پاس گیا ہوا ڈیٹا تو واپس نہیں لا سکتے لیکن اگر کل کو آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو ہیکر کو آپ کی پرانی چیٹس میں سے کچھ نہیں ملے گا کیوں کہ آپ ہسٹری تو کم از کم ڈیلیٹ کرچکے ہوں گے۔ یعنی مزید کسی نقصان سے بچ جائیں گے۔














