حکومت پنجاب نے محکمہ داخلہ کے ذریعے صوبے بھر میں امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے 13 ستمبر سے 17 ستمبر تک کے لیے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 (6) کے تحت فوری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ افغان سر زمین سے ہونے والی دہشتگردی، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرے، پاکستان
اس سلسلے میں محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
دفعہ 144 کے نفاذ کی وجوہات
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے موصول ہونے والی انتہائی حساس رپورٹس کے مطابق کالعدم دہشتگرد تنظیمیں عوامی اجتماعات اور ریلیوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
اجتماعات، دھرنوں اور مظاہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد ممکنہ دہشتگردانہ حملوں کا آسان ہدف بن سکتی تھی جس کے پیشِ نظر سیکیورٹی اداروں نے فوری حفاظتی اقدامات کی درخواست کی۔
صوبے میں کسی بھی عوامی مقام، شاہراہ یا کھلی جگہ پر 5 یا اس سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے، جلوس نکالنے، جلسے، دھرنے یا مظاہرے کرنے پر مکمل پابندی ہو گی۔
عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: انسداد دہشتگردی قانون میں ترمیم، عظمیٰ بخاری نے پنجاب حکومت کا مؤقف واضح کردیا
مزید برآن غیر قانونی اجتماعات، ریلیوں یا مظاہروں میں شرکت کے لیے لوگوں کو اکسانے یا ترغیب دینے پر بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔
استثنیٰ اور رعایتیں
اس پابندی کا اطلاق مساجد و دیگر عبادت گاہوں، نمازِ جنازہ، تدفین اور شادی بیاہ کی تقریبات پر نہیں ہوگا۔
عدالتیں، حکومتی ادارے اور باضابطہ انتظامی اجازت نامے (این او سی) کے حصول کے بعد منعقد ہونے والی تقریبات بھی اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
ڈیوٹی پر مامور قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلیجنس ایجنسیوں اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر ان ضوابط کا اطلاق نہیں ہو گا۔
مزید پڑھیں: پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والا انسدادِ دہشتگردی ترمیمی بل کیا ہے؟
ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے اور ان اقدامات کا بنیادی مقصد ممکنہ ناخوشگوار واقعات کو روکنا اور صوبے میں امن و سکون برقرار رکھنا ہے۔














