پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ صوبائی انسداد دہشتگردی قانون میں کی گئی ترمیم کوئی نیا قانون نہیں بلکہ پہلے سے موجود قانون میں ترمیم ہے، جس کا مقصد غیر معمولی سکیورٹی خطرات والے خصوصی مقدمات کو خصوصی انداز میں نمٹانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والا انسدادِ دہشتگردی ترمیمی بل کیا ہے؟
نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران انسداد دہشتگردی قانون میں ترمیم سے متعلق سوالات کے جواب دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اس قانون کا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں بیس گریڈ یا اس سے اوپر کے افسر اور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے درمیان براہ راست مشاورت ہوگی، جبکہ حکومت کا کام صرف سہولت کاری اور عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ قانون میں ‘فیس لیس عدالت’ کی اصطلاح موجود نہیں بلکہ ججز، وکلا، سرکاری وکلا، پولیس افسران، گواہوں اور دفاعی وکلا سمیت متعلقہ افراد کو تحفظ دینے کے لیے یہ ترمیم کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ قانون ہر مقدمے کے لیے نہیں بلکہ غیر معمولی نوعیت کے ان مقدمات کے لیے ہے جن میں سیکیورٹی خطرات کی تصدیق ہو۔ ایسے مقدمات میں متعلقہ افراد کو خصوصی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات کے مطابق دہشتگردی کے حساس مقدمات میں بعض گواہوں، ججز، پولیس افسران اور دیگر متعلقہ افراد کو دھمکیوں کا سامنا ہوتا ہے، اس لیے ان کی شناخت محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گواہوں کی شناخت چھپانے کے لیے آواز تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جاسکے گی۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ داخلہ پنجاب نے کالعدم و غیر رجسٹرڈ تنظیموں کی فہرست جاری کر دی
انہوں نے بتایا کہ حساس مقدمات میں ججز، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران، دفاعی وکلا اور گواہوں کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی۔ ایسے مقدمات میں گواہوں کے نام کے بجائے مخصوص شناخت یا نمبر استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی جبکہ عدالتی کارروائی اور مقدمے کا ریکارڈ بھی محفوظ رکھا جائے گا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ حساس مقدمات کی سماعت جیل سے رابطے کے ذریعے بھی ہوسکتی ہے جبکہ محفوظ مقامات پر عدالتی کارروائی کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ ایسی کارروائی کی صوتی اور تصویری ریکارڈنگ بھی محفوظ کی جاسکے گی۔
بیس گریڈ کے افسر سے متعلق سوال پر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ افسر حکومت مقرر کرے گی تاہم اس کی شناخت اور کوائف خفیہ رکھے جائیں گے اور صرف لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو اس کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نامزد افسر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کرے گا اور یہ طے کرنے میں کردار ادا کرے گا کہ کون سا مقدمہ یا مقدمات کی کون سی قسم غیر معمولی حفاظتی اقدامات کی متقاضی ہے۔
عظمیٰ بخاری سے سوال کیا گیا کہ اگر 20 گریڈ کا افسر حکومت سے مشاورت کرے گا تو کیا اس عمل میں حکومتی مداخلت کا امکان نہیں ہوگا؟ اس پر انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق حکومت کا کام عدالتی فیصلے پر عمل درآمد اور ضروری سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ ججز کو گاڑیاں، عدالتیں اور دیگر ضروری سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوگی، جبکہ مقدمے کے بارے میں فیصلہ عدالت کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں غنڈہ گردی کے خلاف گھیرا تنگ، نئی قانون سازی کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت نامزد اتھارٹی کو حکومت مقرر کرے گی، تاہم اس افسر کے کوائف خفیہ رکھے جائیں گے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو اس افسر کی شناخت سے آگاہ کیا جائے گا۔
دہشت گردی کے قوانین کے ماضی میں سیاسی مقدمات کے لیے استعمال ہونے سے متعلق سوال پر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ہر معاملے کو سیاسی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہے، کالعدم تنظیمیں اور دیگر مسلح گروہ موجود ہیں، پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور گواہوں کو بھی گواہی سے روکنے کے لیے دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایسے حالات میں ججز، گواہوں اور پولیس افسران کی حفاظت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر حساس مقدمات میں متعلقہ افراد کو تحفظ فراہم نہ کیا جائے تو دہشت گردی کے مقدمات کی پیروی متاثر ہوسکتی ہے۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ترمیم کا مقصد کسی سیاسی جماعت یا سیاسی مخالف کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بلوچستان میں بھی غیر معمولی سکیورٹی والے مقدمات کے لیے اسی نوعیت کے اقدامات کی ضرورت پر بات کی گئی تھی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی کرنے والے پولیس افسران، گواہوں اور دیگر متعلقہ افراد کو کالعدم تنظیموں کی جانب سے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے، اس لیے ایسے مقدمات میں شناخت اور سکیورٹی کو محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ان مقدمات سے متعلق براہ راست کوئی کردار نہیں اور ان کا اصول ہے کہ قانون کے مطابق معاملات چلائے جائیں۔ ان کے مطابق حکومت کا بنیادی کردار عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد اور عدالتی نظام کو ضروری سہولت فراہم کرنا ہے۔














