مقامی حکومتیں ہی مسائل کا واحد حل ہیں، اختیارات نہ دینا ہماری کوتاہی ہے، فرحت اللہ بابر

پیر 14 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صدر آصف علی زرداری کے سابق ترجمان اور سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ مقامی حکومتوں کو اختیارات نہ دینا ہماری کمزوری و کوتاہی ضرور ہے لیکن مسائل کا واحد حل بھی یہی ادارے ہیں جن کو مضبوط بنانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے نہیں، بااختیار انتظامی یونٹس اور بلدیاتی نظام کی جانب پیشرفت کا امکان ہے، تجزیہ کار

وی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبوں نے مرکز سے مالی اور انتظامی اختیارات تو لے لیے لیکن آرٹیکل 140 اے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط نہیں کیا جس کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کو اگر چھیڑا جائے گا تو تباہی کی طرف جائیں گے تاہم اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کی حد تک بات درست ہے۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ یہ جو ڈول ڈالا گیا ہے کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر کوئی شخص نقشے پر لکیریں کھینچ دے گا اور نئے صوبے بنا دے گا ایسا نہیں ہوسکتا۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے نیت اور ارادہ درست نظر نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ جمہوریت کو پسند نہیں کرتے اور وہ چاہتے ہیں کہ مرکز کو مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبوں کی ایک تاریخی شناخت ہے اور یہ وفاقی اکائیاں ہیں جنہوں نے پاکستان بنایا ہے لہٰذا ان کو ختم کریں گے تو فساد کھڑا ہوجائے گا۔

صدر زرداری کا یورپ میں طویل قیام افواہوں کا سبب کیوں بنا؟

صدر آصف علی زرداری کے یورپ میں طویل قیام کے حوالے سے سوال پر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہوسکتی کہ صدر زرداری کو یورپ کے دورے کے دوران صوبوں کو تقسیم نہ کرنے سے متعلق کوئی یقین دہانی کرائی گئی تھی جس کے بعد انہوں نے مشروط واپسی پر آمادگی ظاہر کی۔

مزید پڑھیے: نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، اراکین پارلیمنٹ کیا کہتے ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ یہ بڑا عجیب لگے گا کہ کوئی پاکستان کا صدر ہوتے ہوئے ناراض ہوکر ملک سے باہر چلا جائے۔ انہوں نے مزید کہا میں زرداری صاحب کو جانتا ہوں وہ ملک کے اندر رہ کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور کرسکتے ہیں۔

تاہم فرحت اللہ بابر کے مطابق لوگوں کو ایسی باتیں کرنے کا موقع اس لیے ملا کہ صدر زرداری اور پیپلز پارٹی والے نئے صوبوں کے اس شوشے سے بڑے خائف ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس شوشے کے پیچھے مقصد کچھ اور ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی وجہ سے لوگوں کو باتیں کرنے کا موقع ملا بلکہ بعض لوگوں نے تو یہ بھی کہا کہ وہ ناراض ہوکر بیٹھے ہوئے ہیں اور واپس نہیں آرہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کا نئے صوبوں کے حوالے سے ایک مؤقف ہے اور ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنا پڑے گا

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کرنی ہوگی جس کے لیے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی نے 18 سالوں میں سندھ تباہ کردیا، نئے صوبے ناگزیر ہوچکے ہیں، فوزیہ حمید

انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانے کا فیصلہ خود سیاسی جماعتوں کا تھا جسے آرٹیکل 140 اے کی صورت میں 18ویں ترمیم میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات پر سب لوگوں کا اتفاق ہے کہ روزمرہ کے تمام کام، مثال کے طور پر پانی، سیوریج اور امن و امان، ان تمام امور کا تعلق مقامی حکومتوں کے ساتھ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں نے مرکز سے مالی اور انتظامی اختیارات لے لیے لیکن آرٹیکل 140 اے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط نہیں کیا۔

صوبے کو اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ مقامی حکومت ختم کردے

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ صوبہ جب چاہتا ہے مقامی حکومتوں کو ختم کرکے بیوروکریسی کو لے آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: سندھ کے علاوہ جہاں بھی ضرورت ہو نئے صوبے بننے چاہییں، قمر زمان کائرہ

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 140 میں ترمیم کرکے صوبائی حکومتوں سے یہ اختیار واپس لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے صوبے بالکل نہ بنائے جائیں لیکن مقامی حکومتوں کو ضرور مضبوط کیا جائے۔

جنوبی پنجاب کی ایک تاریخی و ثقافتی تحریک پہلے سے موجود تھی

اس سوال کے جواب میں کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں تو صوبوں کی حمایت کرتی ہے لیکن سندھ میں احتراز کرتی ہے، فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پنجاب میں جنوبی پنجاب صوبے کی ایک تاریخی و ثقافتی تحریک پہلے سے موجود تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی نے خود جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کے لیے متفقہ قراردادیں منظور کی تھیں۔

کراچی کی حالت اتنی ابتر نہیں جتنی بتائی جاتی ہے

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ کراچی اگر اتنی ہی بری حالت میں ہے تو پورے ملک سے لوگ وہاں کیوں آتے ہیں؟ کچھ تو ہے نا کراچی میں۔ کراچی لوگوں کو ڈیلیور کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: 6 ماہ کے اندر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ، کیا نئی آئینی ترمیم آرہی ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کو تنقید کا نشانہ بنانا ہوتا ہے تو کراچی کو سامنے رکھ لیا جاتا ہے اور مین اسٹریم میڈیا کراچی میں ہونے والے واقعات کو زیادہ اچھالتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ میں نسل کشی کی رپورٹ سے لے کر نوبیل انعام تک، ناوی پلے کی جیت پر عالمی سیاست میں بھونچال

سیکیورٹی خدشات، راولپنڈی اور مری میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ

گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ کی موت پر وزیراعظم، وزیر داخلہ کے حکم پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی بازگشت، پولیس کی تیاری مکمل، اشتعال انگیزی کرنے والوں کی ویڈیوز ریکارڈ کرنے کی ہدایت

چین میں جراسک دور کے سب سے بڑے ممالیہ نما جانور کی دریافت، 160 ملین سال پرانا فوسل توجہ کا مرکز

ویڈیو

پی ٹی آئی کا مارچ لانگ نہیں، گول مارچ ہے، صوابی سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے، ارکان اسمبلی کی رائے

پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیا، صوبہ پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا گیا، عطا اللہ تارڑ

نیشنل ٹیکنالوجی پارک کا نام ’دانش آئی ٹی پارک‘ رکھ دیا گیا، ملک بھر میں توسیع کا اعلان

کالم / تجزیہ

لیٹر باکس سے ان باکس تک

مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

لانگ مارچ کی 12ویں برسی