بھارت کی سیاست ایک بار پھر کرکٹ کے میدان تک جا پہنچی، ایشیا کپ کی ٹرافی کی تقریب میں بھارتی ویمنز ٹیم نے محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہ کی، بھارتی ٹیم کے اس اقدام پر سوشل میڈیا صارفین پھٹ پڑے اور سوال اٹھا دیا کہ کھیل کو آخر کب تک سیاست کی نذر کیا جاتا رہے گا؟
صارفین کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے میدان کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھا جانا چاہیے اور کھیل کو سیاست کا اکھاڑا نہیں بنانا چاہیے۔
انڈین نے ایک بار پھر اپنی اوقات دکھا دی
وومین ٹیم انڈین نے ایشیا کپ جیتنے کے بعد محسن نقوی صدر ایشا کرکٹ سے ٹرافی لینے سے انکار pic.twitter.com/2o0Ot0vtjz— Pervaiz Sandhila (@chsandhilaa) September 13, 2026
علی اصغر بھٹی نے لکھا کہ ساکھ اس وقت داؤ پر لگ جاتی ہے جب بڑے ملک سیاسی اور تجارتی طاقت کے بل بوتے پر ضوابط کو پامال کرتے ہیں۔ کرکٹ بورڈز کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کھیل کی ساکھ بچانا چاہتے ہیں یا طاقتوروں کا دباؤ قبول کرنا چاہتے ہیں؟
"ساکھ اس وقت داؤ پر لگ جاتی ہے جب بڑے ملک سیاسی اور تجارتی طاقت کے بل بوتے پر ضوابط کو پامال کرتے ہیں۔"
کرکٹ بورڈز کو فیصلہ کرنا ہوگا: وہ کھیل کی ساکھ بچانا چاہتے ہیں یا طاقتوروں کا دباؤ قبول کرنا چاہتے ہیں؟ 🎯
#CricketDiplomacy #Neutrality #SportsEthics pic.twitter.com/WJSC3XTn8o— ali asghar bhatti (@asgharbic) September 14, 2026
صدیق ساجد لکھتے ہیں کہ اس غیر پیشہ وارانہ اور کھیلوں کی روح کے خلاف رویے پر بھارتی کرکٹ ٹیم پر مستقل پابندی لگائی جائے، انہوں نے کہا ذرا سوچیں اگر یہ کام پاکستانی کرکٹ ٹیم کرتی تو آئی سی سی اب تک ایکشن لے چکی ہوتی لیکن یہاں دوہرا معیار ہے۔
اس غیر پیشہ وارانہ اور کھیلوں کی روح کے خلاف رویے پر بھارتی کرکٹ ٹیم پر مستقل پابندی لگائی جائے ذرا سوچیں اگر یہ کام پاکستانی کرکٹ ٹیم کرتی تو آئی سی سی اب تک ایکشن لے چکی ہوتی لیکن یہاں دوہرا معیار ہے۔۔@ICC @TheRealPCBMedia @BCCI @BCCIWomen https://t.co/Vp2EzZNNLd
— Siddeeq Sajid (@S_SajidOfficial) September 14, 2026
پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ نے کہا کہ کھیل کو سیاست سے دور رکھنے کا درس دینے والے بھارت کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر سامنے آگیا۔ بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم نے ایشیا کپ جیتنے کے باوجود ACC چیف محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر دیا۔یہ محض ٹرافی کا معاملہ نہیں، کھیل کے وقار، رواداری اور اسپورٹس مین اسپرٹ کا سوال ہے۔ کھیل کے میدان میں بھی سیاست اور تعصب کی یہ روش قابلِ افسوس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ کھیل کو کھیل کی روح، احترام اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے ساتھ لیا ہے لیکن اگر کوئی فریق بار بار سیاسی نفرت کو کھیلوں تک لے آئے تو یہ اس کے اپنے رویے کو بے نقاب کرتا ہے۔
کھیل کو سیاست سے دور رکھنے کا درس دینے والے بھارت کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر سامنے آگیا۔ بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم نے ایشیا کپ جیتنے کے باوجود ACC چیف محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر دیا۔یہ محض ٹرافی کا معاملہ نہیں، کھیل کے وقار، رواداری اور اسپورٹس مین اسپرٹ کا سوال ہے۔… pic.twitter.com/T5SBF02YFv
— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) September 13, 2026
ایک اور سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ بھارت کی گندی سیاست ایک بار پھر سامنے آگئی۔
INDIA WITH DIRTY POLITICS AGAIN.
2025 – India’s men’s team refused to collect the trophy from ACC President Mohsin Naqvi.
2026 – India’s women’s team refused to collect the trophy from ACC President Mohsin Naqvi. pic.twitter.com/uhv9Px3Kkw
— Sheri. (@CallMeSheri1_) September 13, 2026
ایک سوشل میڈیا صارف نے ماضی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں لکھا کہ بھارتی ویمنز ٹیم نے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کیا، یوں محسن نقوی نے بھارتی ٹیم کو ’2-0‘ سے شکست دے دی۔
بریکینگ نیوز ۔ انڈین ویمنز ٹیم ٹرافی لینے سے انکار 🚨
انڈین ویمنز ٹیم ایشیاء کے فائنل جیت نے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ چیئرمین محسن نقوی کے ہاتھوں سے ٹرافی لینے سے انکار ۔
محسن نقوی نے انڈین ٹیم کو 2-0 سے شکست دے دیا 🤣 pic.twitter.com/m60UP4RxsV— نعیم مغل (@m_Naeem_Mughal1) September 13, 2026
سید فیضان نے سوال اٹھایا کہ بھارتی ہر بار یہ ڈرامہ کیوں کرتے ہیں؟
ویمنز ٹی ٹو ٹکٹی ایشیا کپ کی فاتح بھارتی ٹیم کا صد را پیشین کرکٹ کو نسل محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار انڈین ہر دفعہ یہ ڈرامہ کیوں کرتے ہین#Srivsindia #AsiaCup #mohsinnaqvi @BCCI @BCCIWomen pic.twitter.com/i6XDr9UPUt
— Syed Faizan (@faizanshahm) September 13, 2026
یاد رہے کہ بھارتی مردوں کی کرکٹ ٹیم کی جانب سے بھی ماضی میں ایسا ہی رویہ دیکھنے میں آیا تھا۔ ایشیا کپ 2025 کی اختتامی تقریب میں بھارتی ٹیم نے محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کی تھی، جس کے باعث ٹرافی دیے بغیر تقریب اختتام پذیر ہوگئی تھی۔بعد ازاں ایشین کرکٹ کونسل کی انتظامیہ ٹرافی واپس لے گئی تھی جبکہ بھارتی ٹیم اسٹیج پر کھڑی انتظار کرتی رہ گئی۔ اسی طرح دسمبر 2025 میں بھارتی انڈر 19 ٹیم نے بھی رنر اپ میڈلز محسن نقوی سے لینے سے گریز کیا تھا۔














