بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں پی ایم ڈی سی (PMDC) کوئلہ کان میں زہریلی گیس کے دھماکے کے بعد امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں، تاہم حادثے میں 4 کان کنوں کی ہلاکت اور 5 کے زخمی ہونے کے بعد کانوں میں حفاظتی انتظامات اور سرکاری ریسکیو کے عمل پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
شاہرگ کوئلہ کان سانحے کے بعد صوبائی انتظامیہ اور متعلقہ حکام نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا اعلان کر دیا ہے تاکہ زہریلی گیس کے اخراج اور دھماکے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق تمام 4 جاں بحق کان کنوں کی لاشیں اور 5 شدید زخمیوں کو کان سے نکال لیا گیا ہے۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد تشویشناک حالت کے باعث کوئٹہ کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ہرنائی، کوئلے کی کان میں گیس دھماکہ، 4 کان کن جاں بحق، پاک فوج نے 5 مزدوروں کو بچا لیا
حکام نے تصدیق کی ہے کہ سانحے کا شکار ہونے والے تمام 9 کان کنوں کا تعلق خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے ہے۔
سرکاری دعوے بمقابلہ مزدوروں کے تحفظات
حادثے کا شکار ہونے والی کان کے دیگر مزدوروں اور مقامی آبادی نے انتظامیہ کی کارکردگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے مردان: کان کنی کے دوران حادثہ، 9 مزدور جاں بحق، 2 زخمی
مزدوروں کے مطابق دھماکے کے بعد سرکاری ریسکیو ٹیمیں بروقت موقع پر نہیں پہنچ سکیں، جس کی وجہ سے مقامی افراد اور ساتھی مزدوروں کو اپنی مدد آپ کے تحت اپنی مدد آپ کے تحت جانیں خطرے میں ڈال کر کان میں داخل ہونا پڑا اور متاثرین کو باہر نکالا گیا۔
حفاظتی تدابیر پر اٹھتے سوالات
اس حادثہ کے بعد بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں مائنز ایکٹ (Mines Act) کی خلاف ورزی اور ایمرجنسی ریسکیو کے ناقص نظام کا معاملہ ایک بار پھر سامنے آ گیا ہے۔ ماہرین اور لیبر تنظیموں کا کہنا ہے کہ گیس کی موجودگی کی نشاندہی کرنے والے جدید آلات اور بروقت امدادی نظام کی عدم موجودگی کے باعث مسلسل قیمتی انسائی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔














