ٹیکنالوجی قوانین کی خلاف ورزی پر چینی شہریوں کے بیرون ملک سفر پر پابندی

منگل 15 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین نے اپنے شہریوں کے بیرون ملک سفر سے متعلق پابندیوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے صنعتی یا تکنیکی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے افراد کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چینی ریاستی کونسل کے مطابق ٹیکنالوجی کی درآمد و برآمد سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے شہریوں کو ملک سے باہر جانے سے روکا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وائٹ ہاؤس کا چینی اے آئی کمپنی پر امریکی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، پابندیوں کا عندیہ

نئے قواعد کے تحت بیرون ملک غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے والے چینی شہریوں کو وطن واپسی کی تاریخ سے 6 ماہ سے 3 سال تک ملک سے باہر جانے سے بھی منع کیا جا سکے گا۔

چین اور امریکا کے درمیان ٹیکنالوجی کے میدان میں مقابلہ گزشتہ کچھ عرصے سے شدت اختیار کر چکا ہے، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر مقامی طور پر تیار کیے گئے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ماڈلز کی صلاحیتیں چرانے کے الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں۔

چینی ریاستی کونسل کے مطابق نئے قواعد، جو پہلی بار جولائی میں جاری کیے گئے تھے اور منگل سے نافذ العمل ہوئے ہیں، کا مقصد قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقی کے مفادات کا تحفظ ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نئی سفری پابندیاں چینی حکام کو وسیع اختیارات فراہم کرتی ہیں۔

سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے ماہر تعلیم چونگ جیا ایان کا کہنا ہے کہ سلامتی اور مجرمانہ سرگرمیوں کی تعریف مبہم ہو سکتی ہے اور اسے باآسانی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کا چینی ہیکنگ نیٹ ورک کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ، حساس اداروں کو نشانہ بنانے کا انکشاف

ان کے مطابق دنیا کو اس قانون کے دائرہ کار کا اندازہ اس وقت ہوگا جب اس کے تحت عملی طور پر کارروائیاں سامنے آئیں گی۔

چونگ نے غیر ملکی شہریوں پر عائد کیے جانے والے بعض ایگزٹ بینز کا حوالہ بھی دیا، جن میں حالیہ عرصے میں امریکی شہری من زیِن کا معاملہ بھی شامل ہے۔

امریکی حکومت کے مطابق سیاسی تجزیہ کار من زیِن کو 3 جون کو چین کے صوبے یوننان میں چینی حکام نے حراست میں لیا اور انہیں غیر مناسب طور پر زیر حراست رکھا گیا۔

مزید پڑھیں: چینی ٹیکنالوجی کے خلاف واشنگٹن کا نیا محاذ، روبوٹس پر پابندی، بیجنگ کا سخت ردعمل

چین نے اگست میں امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ من زیِن پر چینی قانون کی خلاف ورزی کا شبہ ہے۔

چونگ کے مطابق من زیِن کا معاملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ چین کی جانب سے بیرون ملک جانے سے روکے جانے والے افراد کا دائرہ خاصا وسیع اور ممکنہ طور پر من مانی نوعیت کا ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب سنگاپور کی نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈیلن لوہ کے مطابق نئی سفری پابندیاں یہ پیغام دیتی ہیں کہ چین سلامتی یا قومی مفاد سے متعلق حساس شعبوں میں معلومات کے اخراج کو روکنے کے لیے کارروائی کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جرمن کمشنر برائے مذہبی آزادی کی وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف سے ملاقات

اے آئی سے پوری انسانیت کے خاتمے کا خدشہ، سابق گوگل ڈیپ مائنڈ محقق کا انتباہ

وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد پاکستان کے سفارتی میدان میں اہم تبدیلیاں

کبھی گرفتاری کا دعویٰ، کبھی سڑک پر احتجاج، سہیل آفریدی لاہور میں کیا کرتے رہے؟

بلوچستان کی ترقی کے اصل دشمن: ’بی ایل اے‘ کی خاران میں سڑک تباہ کرنے اور مشخیل میں لیتھیم پروجیکٹ پر حملے کی مذموم کوشش

ویڈیو

کھیل میں سیاست کی گنجائش نہیں، بھارتی ٹیم کا رویہ ناقابل قبول ہے، پاکستانی شہریوں کی رائے

جمہوریت ہی پاکستان کے لیے بہترین نظام ہے، یوم جمہوریہ پر ارکان پارلیمنٹ کی متفقہ رائے

پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو وفاق سے ملنے والے 22 ہزار ارب روپے عوام پر خرچ نہیں ہوئے، رکن صوبائی اسمبلی نجم مرزا

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘