میر رضا کی موت کا معمہ برقرار، 78 افراد سے پوچھ گچھ کے باوجود قتل کا سراغ نہیں ملا، کراچی پولیس چیف آزاد خان

بدھ 16 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا ہے کہ میر رضا کی موت کے معاملے میں اب تک 78 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، تاہم تفتیش کے باوجود کسی شخص سے قتل کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ میر رضا کی موت 28 جولائی کو ہوئی جبکہ ان کے والد نے 29 جولائی کو رپورٹ درج کرائی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق جائے وقوعہ سے گھاس پر خون، ایک پھول دان اور خون سے بھرا لفافہ ملا، جبکہ پولیس نے 30 بور پستول کا خول بھی برآمد کیا۔ کیس کی پہلی تحقیقاتی ٹیم یکم اگست اور دوسری 9 اگست کو تشکیل دی گئی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹر قرۃ العین مری نے کراچی پولیس چیف سے سوال کیا کہ کیا میر رضا نے موت سے قبل اپنا بینک اکاؤنٹ خالی کرکے رقم والدین کو منتقل کی اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی خود بند کردیے تھے؟ کیا وہ عام طور پر اپنی گاڑی استعمال کرتے تھے لیکن واقعے کے روز آن لائن گاڑی منگوا کر گئے؟ آزاد خان نے ان باتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میر رضا اس روز گھر سے پستول لے کر بھی گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:میر رضا قتل کیس: پولیس کی تحقیقات سے مطمئن نہیں، جے آئی ٹی تشکیل دلوا کر رہیں گے، مقتول کے والد میر حسین

پولیس چیف نے بتایا کہ میر رضا کے میڈیکو لیگل معائنے والے ڈاکٹر نے پولیس کو بیان دینے سے پہلے میڈیا پر اپنا مؤقف بیان کردیا تھا۔ سینیٹر قرۃ العین مری کے سوال پر آزاد خان نے تصدیق کی کہ ڈاکٹر سمعیہ نے ٹی وی پر بیان دیا تھا۔

آزاد خان نے کمیٹی کو بتایا کہ 29 جولائی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی سامنے سے لگنے کا ذکر تھا، جبکہ 8 اگست کی رپورٹ میں گولی پیچھے سے لگنے اور سینے سے باہر نکلنے کا بتایا گیا۔

کمیٹی کی چیئرپرسن نے کہا کہ امید ہے کہ معاملے میں کسی کو تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا، جبکہ سوشل میڈیا پر میر رضا کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ میر رضا کی شرٹ پر ہائیڈروکلورک ایسڈ کے کچھ نشانات ملے، جبکہ چہرے پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے۔ ان کے مطابق میر رضا 28 جولائی کو 3 بج کر 42 منٹ پر بہادرآباد میں سیکیورٹی گارڈ سے پستول لے کر روانہ ہوئے اور 3 بج کر 52 منٹ پر پستول واپس لاکر گھر پہنچے۔

یہ بھی پڑھیں:علی رضا عابدی کے بعد میر رضا قتل کیس میں بھی ایپل ڈیوائسز کی ڈی کوڈنگ معمہ بن گئی

انہوں نے بتایا کہ میر رضا نے 3 بج کر 57 منٹ پر آن لائن بائیک بک کی، جبکہ اپنی گاڑی کی چابی، گھڑی، گاڑی اور بٹوا گھر پر چھوڑا۔ وہ 4 بج کر 9 منٹ پر سفید گاڑی میں گھر سے نکلے اور 4 بج کر 28 منٹ پر منظور اسٹریٹ، گلستان جوہر میں اترے، جہاں ڈرائیور کو ادائیگی کی گئی۔ میر رضا کو 4 بج کر 38 منٹ پر نرسری کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا۔

پولیس چیف نے کہا کہ میر رضا کے والدین ان کی موت کو قتل قرار دے رہے ہیں، اسی لیے پولیس بھی کیس کی تفتیش قتل کے مقدمے کے طور پر کررہی ہے۔

ایڈیشنل آئی جی نے کمیٹی کو بتایا کہ میر رضا کو جولائی میں ساڑھے 4 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔ ان کے دونوں ہاتھوں پر پستول کے نشانات بھی ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اب تک 78 افراد کے بیانات ریکارڈ کرچکی ہے، تاہم کسی سے قتل کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے بتایا کہ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کا اجلاس 24 ستمبر کو کراچی میں ہوگا۔ اجلاس میں میر رضا کیس کی تحقیقاتی ٹیم کو بھی پیش ہوکر تفتیش سے متعلق بریفنگ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp