کامن ویلتھ کانفرنس، ایاز صادق کی تقریر کے دوران بھارتی وفد کی مداخلت کی کوشش

بدھ 16 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں ہونے والی 69ویں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس کے دوران بھارتی مندوبین نے قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی تقریر میں مداخلت اور کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔

 اسپیکر ایاز صادق موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور موسمیاتی انصاف کے موضوع پر خطاب کر رہے تھے کہ بھارتی مندوبین نے بار بار مداخلت کی کوشش کی۔ ویڈیو میں بھارتی مندوبین کو مائیک حاصل کرنے اور کارروائی متاثر کرنے کی کوشش کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر خود آکر مجھ سے ملے، ایاز صادق نے ملاقات کی تفصیل بتا دی

اسپیکر ایاز صادق نے اپنی تقریر کے دوران کسی ملک کا نام لیے بغیر ‘پانی کی دہشتگردی’ کا معاملہ اٹھایا اور موسمیاتی تبدیلی، آبی وسائل اور موسمیاتی انصاف سے متعلق وسیع تر خدشات پر بات کی۔

بھارتی مندوبین کی جانب سے مائیک حاصل کرنے کی کوششوں سے اجلاس کا ماحول متاثر ہوا، جس پر میزبان اور جمیکا کے اسپیکر نے مداخلت کرتے ہوئے بھارتی مندوبین سے کہا کہ وہ خاموش رہیں یا ہال سے باہر چلے جائیں۔ دیگر شرکا نے بھی بھارتی مندوبین کو مشورہ دیا کہ وہ تحمل سے اسپیکر ایاز صادق کی تقریر سنیں۔

مداخلت کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور موسمیاتی انصاف پر گفتگو جاری رہی۔

’موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت کی پالیسیاں موثر عوامی شمولیت کے ساتھ تشکیل دی جانی چاہئیں‘

اپنے خطاب میں اسپیکر ایاز صادق نے کسی ملک یا وفد کا نام لیے بغیر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اصولی مؤقف پیش کیا اور عالمی برادری کی ذمہ داریوں پر زور دیا۔

انہوں نے دریاؤں میں پانی کے اچانک اضافے اور پانی روکنے سمیت مختلف معاملات اٹھائے، تاہم کسی ملک کا نام نہیں لیا۔

ایاز صادق نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت کی پالیسیاں موثر عوامی شمولیت کے ساتھ تشکیل دی جانی چاہئیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے والی پالیسیوں کی نگرانی کے لیے جمہوری اداروں کی نگرانی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی زندگی کے مختلف شعبوں، بشمول خوراک، پانی اور صحت کو متاثر کر رہی ہے اور پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈھاکہ میں غیر معمولی سفارتی لمحہ: پاکستان کے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ کی ملاقات

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے موسمیاتی انصاف اور جمہوری اداروں کی شمولیت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنجز پر پارلیمانی مکالمہ سنجیدہ، بامقصد اور تعمیری ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی پالیسیوں پر عملی طور پر عمل درآمد میں پارلیمان کا کردار اہم ہے اور عالمی سطح پر موسمیاتی مالی معاونت بھی پارلیمانی نگرانی کے دائرے میں ہونی چاہیے۔

ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمان پاکستان قانون سازی، بجٹ کی نگرانی اور قائمہ کمیٹیوں کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت کے عمل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے خواتین، نوجوانوں اور معاشرے کے دیگر طبقات کی شمولیت کو بھی ناگزیر قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے پارلیمانوں کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پارلیمانوں کو اختلافات کے بجائے تعاون اور بامعنی مکالمے کو فروغ دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرےگا، اسپیکر ایاز صادق، مسلح افواج کو خراج تحسین

اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ مضبوط اور متحرک معاشروں کے لیے مضبوط جمہوری ادارے ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت کا عمل صرف منصفانہ مالی معاونت اور جمہوری احتساب کے ذریعے ہی موثر ہوسکتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ بھی ایک متنازع معاملہ ہے۔ بھارت نے گزشتہ سال اپریل میں یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کیا تھا، جس کے بعد مئی 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان مختصر فوجی تنازع بھی ہوا۔

بھارت کے اقدام کے بعد پاکستان نے اپنے آبی حصے کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو ‘جنگی اقدام’ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ سندھ طاس معاہدے میں اسے یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوئی شق موجود نہیں۔

پاکستان نے بعد ازاں مؤقف اختیار کیا تھا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل کرنا 1969 کے ویانا کنونشن برائے قانون معاہدات کی خلاف ورزی ہے۔

رواں سال اگست میں ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت نے بھی بھارت کو پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری اور مقبوضہ کشمیر میں ایک پن بجلی منصوبے پر کام روکنے کا حکم دیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp