اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ سنٹر کی نرسری میں 26 اگست کی رات پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔
یاد رہے کہ تحقیقاتی اور ابتدائی دستیاب تفصیلات کے مطابق نرسری میں اے سی کے قریب برقی کیبل میں خرابی (شارٹ سرکٹ) کے باعث آگ بھڑکی، جس کے نتیجے میں وہاں زیر علاج 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے۔
اس ہنگامی اور جان لیوا صورتحال میں جب دھواں پورے یونٹ میں پھیل چکا تھا، فرنٹ لائن پر موجود عملے (بشمول اسٹاف نرس رضیہ نورین اور دیگر عملہ) نے اپنی جان پر کھیل کر ایک نومولود بچی کو بحفاظت ریسکیو کرنے کی جرأت مندانہ کوشش کی۔ ابتدائی گھنٹوں میں اس بچی کا زندہ نکلنا ہی واحد معجزاتی امداد سمجھا جا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:سانحۂ پمز میں ایک اور افسر قصوروار قرار، 9 افراد ملازمت سے فارغ
تاہم اب کئی روز گزرنے کے بعد اسپتال اور میڈیا حلقوں میں یہ افسوسناک اطلاعات گردش کر رہی ہے کہ وہ واحد ریسکیو کی جانے والی بچی بھی زخموں، دھوئیں کے اثرات یا زیر علاج رہتے ہوئے دم توڑ گئی ہے۔ اگرچہ یہ اطلاعات تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
خبر کی تصدیق کے حوالے سے جب وی نیوز نے بچی کے گھر والوں سے رابطہ کیا۔ تو بچی کے والد جہانزیب اختر کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ گردش کرنے والی تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔ ہمارے بچی الحمداللہ بالکل ٹھیک اور صحتمند ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی ’حیا فاطمہ‘ بالکل خیر خیرت سے اپنے گھر میں موجود ہے۔ لہذا سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں پر یقین نہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ اس واقعے نے سرکاری اسپتالوں کے نوزائیدہ یونٹس میں فائر سیفٹی آڈٹ، سپرنکلرز کے فعال ہونے اور ہنگامی انخلا کے ایس او پیز کے فقدان کو بھی کٹہرے میں لاکھڑا کیا۔














