اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں متنازع ’ای ون‘ یہودی آباد کاری کے منصوبے کے تحت مزید 2,167 نئے رہائشی مکانات کا ٹینڈر جاری کر دیا ہے، جس سے منصوبے کی کل تعداد 3,401 ہو گئی ہے۔
حقوقی تنظیموں کے مطابق اس قدم کا مقصد مقبوضہ زمین کو 2 حصوں میں تقسیم کر کے آزاد فلسطینی ریاست کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔
فلسطینی جغرافیے کو تقسیم کرنے کا منصوبہ
اسرائیلی حقوق العباد کی تنظیم ’عیر عامیم‘کے مطابق نئے ٹینڈرز اگست کے آخر میں جاری کیے گئے 1,234 مکانات کے ٹینڈرز کے علاوہ ہے۔
اس منصوبے کی عملی تکمیل سے مقبوضہ مغربی کنارہ 2 حصوں میں بٹ جائے گا اور مشرقی یروشلم سے اس کا زمینی رابطہ منقطع ہو جائے گا، جس سے آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل ناممکن ہو کر رہ جائے گی۔
شدید مذمت اور سخت گیر مؤقف
فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نے اس فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیرِ مالیات بتسلیل سموٹریچ نے اعلان کیا ہے کہ یہ منصوبہ فلسطینی ریاست کے قیام کی تمام امیدوں کو ’دفن‘ کر دے گا۔
انتخابات سے قبل زمینی حقائق بدلنے کی کوشش
ٹینڈرز پر بولی دینے کی تاریخ 25 اکتوبر مقرر کی گئی ہے، جو اسرائیل کے آئندہ پارلیمانی انتخابات سے صرف 2 دن پہلے ہے۔
عیر عامیم کا کہنا ہے کہ بولی کی اس تاریخ کا انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیلی حکومت انتخابات سے پہلے ہی زمین پر ناقابلِ واپسی حقائق قائم کرنے کے لیے سخت پرعزم ہے۔
بین الاقوامی ردعمل
برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے گزشتہ ہفتے ہی مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی آمدنی اور برآمدات پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
مزید پڑھیں:عمران خان کی رہائی کے لیے 2 ہفتے کی ڈیڈلائن دیتا ہوں، علی امین گنڈا پور کا جلسہ عام سے خطاب
برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے خبردار کیا ہے کہ ای ون منصوبہ ایک پائیدار اور آزاد فلسطینی ریاست کے وجود کو شدید خطرے میں ڈالتا ہے۔
اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری ان تمام بستیوں کو غیر قانونی سمجھتی ہے، تاہم اسرائیل اس بین الاقوامی موقف کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔












