نیند کی کمی پوری کرنے کا درست طریقہ کیا ہے؟

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صرف 2 گھنٹے اضافی نیند بھی خراب رات کے بعض منفی اثرات کو کم کرسکتی ہے تاہم جلدی سونے اور دیر تک سونے کے معاملے میں بھی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: نیند کو ’پرفیکٹ‘ بنانے کی کوشش کہیں اسے مزید خراب نہ کردے؟

ہم مں سے تقریباً سب ہی کو کبھی نہ کبھی ایسی صبح کا سامنا ہوتا ہے جب رات اچھی نیند نہ آنے کے باعث آنکھیں بوجھل، جسم تھکا ہوا اور ذہن سست محسوس ہوتا ہے۔

ایسے میں ہم خود کو تسلی دیتے ہیں کہ کوئی بات نہیں ہفتے کے آخر میں نیند پوری کرلیں گے۔

کچھ لوگوں کے لیے یہ کبھی کبھار پیش آنے والی صورت حال ہوتی ہے جبکہ بعض افراد کے لیے یہ معمول بن چکا ہے۔ امریکا میں تقریباً 8 ہزار بالغ افراد پر کیے گئے ایک جائزے سے معلوم ہوا کہ لگ بھگ نصف افراد ہفتے کے اختتام پر معمول سے زیادہ دیر تک سوتے ہیں۔ حیرت کی بات نہیں کہ مختلف عمر کے افراد میں نوعمر افراد عموماً ہفتے کے آخر میں سب سے زیادہ دیر تک سوتے ہیں۔

ہفتے کے دوران مناسب نیند نہ لینے والوں کے لیے اضافی نیند لینا خاص طور پر پرکشش محسوس ہوسکتا ہے۔ عام طور پر بالغ افراد کو روزانہ تقریباً 7 سے 9 گھنٹے جبکہ نوعمروں کو 8 سے 10 گھنٹے نیند لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے لیکن عملی زندگی میں ایسا ہر روز ممکن نہیں ہوتا۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہفتے کے دوران نیند پوری نہ ہو تو کیا ہفتے کے آخر میں زیادہ دیر تک سونا چاہیے اور کیا اس طرح نیند کی کمی کے منفی اثرات کو کسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے؟

زیادہ دیر تک سونے کا نقصان کیا ہے؟

یہ سمجھنے کے لیے کہ زیادہ دیر تک سونے کے کچھ نقصانات کیوں ہوسکتے ہیں ہمیں نیند کو کنٹرول کرنے والے 2 اہم نظاموں کو سمجھنا ہوگا۔

مزید پڑھیے: کیا الارم کے بغیر جاگنا ممکن ہے؟ نیند کی اندرونی گھڑی درست کرنے کا طریقہ

پہلا نظام نیند کا قدرتی دباؤ ہے۔ اسے ایک ایسے ٹینک کی طرح سمجھا جاسکتا ہے جو جاگتے رہنے کے ساتھ ساتھ بھرتا جاتا ہے۔ جتنا زیادہ وقت ہم جاگتے ہیں اتنا ہی نیند کا دباؤ بڑھتا ہے اور ہمیں سونے کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔

دوسرا نظام جسمانی حیاتیاتی گھڑی ہے جو روزانہ روشنی اور اندھیرے، درجہ حرارت میں تبدیلی، کھانے کے اوقات اور جسمانی سرگرمیوں سے متاثر ہوتی ہے۔

یہ دونوں نظام مل کر ہمیں مناسب وقت پر نیند آنے میں مدد دیتے ہیں۔

لیکن جب ہم نیند کی کمی پوری کرنے کے لیے معمول سے بہت پہلے سونے یا صبح دیر تک سونے لگتے ہیں تو یہ دونوں نظام متاثر ہوسکتے ہیں۔

مثلاً صبح اضافی نیند لینے سے دن کے بعد کے حصے میں نیند کا دباؤ کم ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں رات کو معمول کے وقت نیند نہیں آتی۔ دوسری جانب صبح دیر سے اٹھنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ روشنی حاصل کرنے سمیت ہماری روزمرہ سرگرمیوں کے اوقات بدل جاتے ہیں جو جسمانی گھڑی کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔

نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ ہم اتوار کی صبح دیر تک سوئیں، اتوار کی رات دیر سے نیند آئے اور پھر پیر کی صبح 6 بجے الارم بجنے پر دوبارہ مناسب نیند پوری نہ ہو۔

یونیورسٹی آف اوریگن کی نیند کی تجربہ گاہ کی ڈائریکٹر اور نیند کی ماہر نفسیات میلیندا کیسمینٹ کے مطابق یہ صورتحال ایسی ہے جیسے انسان ہر ہفتے اپنی حیاتیاتی گھڑی کو مختلف وقت کے خطے میں منتقل کررہا ہو۔

تاہم ماہرین کے مطابق نیند کی کمی پوری کرنے کے لیے اضافی نیند لینا ہمیشہ نقصان دہ نہیں ہوتا۔ بعض حالات میں یہ جسم کے لیے فائدہ مند بھی ہوسکتا ہے۔

خراب رات کے بعد اضافی نیند کے فوائد

نیند کی کمی ہماری صحت اور ذہنی کارکردگی کو کس حد تک متاثر کرتی ہے اس حوالے سے تحقیق اب بھی جاری ہے۔ تاہم محتاط اور قابو میں کیے گئے تجربات سے واضح ہوا ہے کہ انتہائی کم نیند والی ایک رات بھی جسم پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

کم از کم ان میں سے بعض اثرات کو اضافی نیند کے ذریعے کم بلکہ بعض صورتوں میں تقریباً ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیے: اپنی عمر سے زیادہ بوڑھا محسوس کرتے ہیں؟ وجہ ناقص نیند بھی ہو سکتی ہے، تحقیق

ایک تحقیق میں ایسے افراد کا جائزہ لیا گیا جنہوں نے ایک رات صرف 2 گھنٹے نیند لی۔ ان افراد کے جسم میں مخصوص اقسام کے سفید خون کے خلیات کی تعداد بڑھ گئی جو جسم میں دباؤ کے ردعمل کی علامت ہوسکتی ہے۔

اس کے بعد کچھ افراد کو اگلی رات 8 گھنٹے سونے کا موقع دیا گیا لیکن ان کے خون کے خلیات کی تعداد مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ تاہم جن افراد کو دوسری رات 10 گھنٹے تک سونے کا موقع دیا گیا ان میں یہ سطح تقریباً معمول پر پہنچ گئی۔

ایک اور تجربے میں 11 ایسے مردوں کا جائزہ لیا گیا جو عام طور پر ہر رات 8 گھنٹے سوتے تھے لیکن انہیں مسلسل 6 راتوں تک صرف 4 گھنٹے سونے دیا گیا۔

اتنی کم نیند ہی ان کے جسم کی خون میں موجود شکر کو استعمال کرنے کی صلاحیت اور انسولین کے ردعمل کو متاثر کرنے کے لیے کافی تھی۔ اگر یہ تبدیلیاں طویل عرصے تک برقرار رہیں تو ذیابیطس کی قسم دوم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

تاہم اس کے بعد انہیں 6 راتوں تک 12 گھنٹے تک سونے کا موقع دیا گیا تو ان کے جسم کے یہ پیمانے دوبارہ معمول کی سطح پر آگئے۔

دیگر تجربات سے بھی معلوم ہوا ہے کہ پوری رات جاگنے کے بعد اضافی نیند لینے سے ذہنی کارکردگی بحال ہوسکتی ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہفتے کے آخر میں زیادہ سونا نیند کی کمی کے ہر نقصان کو ختم کرسکتا ہے خاص طور پر اس صورت میں جب کئی ہفتوں یا مہینوں تک نیند مسلسل کم ہو۔

خاص طور پر توجہ مرکوز رکھنے، فوری ردعمل دینے اور جگہوں یا سمتوں کا درست اندازہ لگانے کی صلاحیت طویل عرصے تک کم نیند سے متاثر ہوسکتی ہے اور صرف ہفتے کے آخر میں اضافی نیند لینے سے یہ اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔

یہ بھی پڑھیے: رات کی ڈیوٹی صحت پر کتنی بھاری پڑتی ہے؟ سائنسدانوں نے بہتر نیند کا نیا طریقہ بتا دیا

دن کے وقت مختصر نیند یعنی قیلولہ بھی کم نیند لینے والے افراد کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے تاہم اس کا مطالعہ عموماً رات کی نیند پوری کرنے سے الگ کیا جاتا ہے۔

کیا اضافی نیند زندگی بھی بچا سکتی ہے؟

اب سوال یہ ہے کہ تجربہ گاہ میں سامنے آنے والے نتائج حقیقی زندگی میں بھی درست ثابت ہوتے ہیں یا نہیں؟

سویڈن میں ہونے والی ایک تحقیق میں 40 ہزار سے زیادہ بالغ افراد کا 13 برس تک جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے مطابق 65 برس سے کم عمر افراد میں جو لوگ ہر رات 6 سے 7 گھنٹے سوتے تھے ان میں موت کا خطرہ سب سے کم تھا۔ اس کے مقابلے میں وہ افراد جو 5 گھنٹے یا اس سے بھی کم سوتے تھے ان میں موت کا خطرہ 65 فیصد زیادہ پایا گیا۔

65 برس سے زیادہ عمر کے افراد میں کم نیند اور موت کے خطرے کے درمیان ایسا تعلق نہیں ملا۔ محققین کے خیال میں اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ انسان کی نیند کی ضرورت کم ہوجاتی ہے۔

لیکن اس تحقیق میں ایک دلچسپ بات سامنے آئی۔

جن افراد کی ہفتے کے دوران نیند صرف 5 گھنٹے یا اس سے کم تھی اگر وہ ہفتے کے آخر میں اپنی نیند پوری کرلیتے تھے تو ان میں موت کا اضافی خطرہ ختم ہوتا دکھائی دیا۔ اعداد و شمار کے لحاظ سے ایسے افراد میں موت کا خطرہ ان لوگوں سے زیادہ نہیں تھا جو پورے ہفتے مناسب مقدار میں سوتے تھے۔

دیگر تحقیقات سے بھی معلوم ہوا ہے کہ اگرچہ اضافی نیند بعض اوقات کم نیند کے تمام منفی اثرات ختم نہیں کرتی لیکن وہ ان اثرات کو کم ضرور کرسکتی ہے۔

جنوبی کوریا میں تقریباً 2 ہزار 800 بالغ افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں عادتاً کم نیند لینے والے افراد میں بلند فشار خون کا خطرہ تقریباً 73 فیصد زیادہ پایا گیا۔ تاہم ہفتے کے آخر میں ہر ایک گھنٹہ اضافی نیند لینے کے ساتھ اس خطرے میں تقریباً 17 فیصد کمی دیکھی گئی۔

دیگر تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ہفتے کے دوران کم سونے اور ہفتے کے آخر میں اضافی نیند لینے والے افراد میں دماغی کمزوری اور یادداشت سے متعلق بیماریوں کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

اسی طرح ان میں میٹابولک سنڈروم کا خطرہ بھی کم پایا گیا جو ایسی طبی کیفیتوں کا مجموعہ ہے جو ذیابیطس کی قسم دوم اور دل کی بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: زیادہ اور کم نیند دونوں خطرناک، ماہرین نے بہترین دورانیہ بتادیا

تاہم تمام تحقیقات نے ہفتے کے آخر میں اضافی نیند کے فوائد کی تصدیق نہیں کی۔ برطانیہ میں ہونے والی ایک بڑی تحقیق میں اضافی نیند اور موت یا دل کی بیماری کے خطرے کے درمیان کوئی واضح تعلق نہیں ملا۔ تاہم اس تحقیق میں یہ بھی نہیں پایا گیا کہ ہفتے کے آخر میں دیر تک سونا نقصان دہ ہے۔

ان تمام نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر روز حتیٰ کہ ہفتے کے آخر میں بھی ایک ہی وقت پر اٹھنے کی پابندی بعض افراد کے لیے الٹا نقصان دہ ہوسکتی ہے۔

جرمنی کی لڈوگ میکسیملین یونیورسٹی میونخ کے ادارہ برائے طبی نفسیات سے وابستہ حیاتیاتی اوقات کے ماہر پروفیسر ٹل رون برگ کے مطابق کچھ ماہرین یہاں تک کہتے ہیں کہ ہفتے کے آخر میں بھی الارم لگا کر اسی وقت اٹھنا چاہیے۔

تاہم وہ اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے۔

ان کے مطابق اگر نیند کی کمی ہوئی ہے تو اسے پورا کرنا ضروری ہے کیونکہ نیند ہماری زندگی کے اہم ترین جسمانی افعال میں سے ایک ہے۔

بے خوابی کے شکار افراد کے لیے معاملہ مختلف ہے

البتہ ایسے افراد جنہیں بے خوابی کا مسئلہ ہے ان کے لیے صورتحال مختلف ہوسکتی ہے۔

بے خوابی کے عمومی علاج میں افراد کو معمول سے پہلے بستر پر جانے اور صبح دیر تک سونے دونوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کیا اسمارٹ فون کی نیلی روشنی واقعی آپ کی نیند خراب کرتی ہے؟

یہاں تک کہ اگر کسی رات نیند بہت کم آئی ہو تب بھی زیادہ دیر تک سونے سے گریز کرنے کا کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے جسم کی حیاتیاتی گھڑی متاثر ہوسکتی ہے اور مستقبل میں نیند لینا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔

کتنی اضافی نیند بہتر ہے؟

اب اہم سوال یہ ہے کہ نیند کی کمی پوری کرنے کے لیے کتنی اضافی نیند لی جائے تاکہ اس کے فوائد زیادہ اور نقصانات کم ہوں؟

تحقیق سے اس بات کے شواہد بڑھ رہے ہیں کہ زیادہ تر افراد کے لیے ایک سے 2 گھنٹے کی اضافی نیند ایک مناسب حد ہوسکتی ہے۔

امریکا اور جنوبی کوریا میں ہونے والی تحقیقات میں ہفتے کے آخر میں ایک سے 2 گھنٹے اضافی نیند لینے کو ڈپریشن کے کم خطرے سے جوڑا گیا ہے۔

اسی طرح عادتاً کم نیند لینے والے بالغ افراد میں اضافی نیند کو جسم میں سوزش کی کم سطح سے بھی جوڑا گیا ہے۔ نوجوان افراد میں بھی ایسا ہی رجحان دیکھا گیا اور ان میں بے چینی اور ڈپریشن کا خطرہ کم پایا گیا۔

لہٰذا اگر ہفتے کے دوران نیند پوری نہیں ہو پائی تو ہفتے کے آخر میں ایک یا 2 گھنٹے اضافی سونا فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوپہر تک بستر میں پڑے رہنا نیند کی کمی پوری کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

مزید پڑھیں: وہ حیرت انگیز غذائیں جو نیند کو بہتر بناتی ہیں!

اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ معمول کی نیند کا دورانیہ بہتر بنایا جائے اور اضافی نیند کو مستقل کم نیند کا متبادل بنانے کے بجائے ضرورت کے وقت استعمال کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

واٹس ایپ میں پرانے پیغامات تلاش کرنا مزید آسان ہوگیا

آزاد کشمیر کابینہ کا پہلا اجلاس، وزیراعظم کی عام آدمی کو فوری ریلیف، ہنگامی ’شکایات ڈیسک‘ قائم کرنے کی ہدایت

پاکستان نے تھائی لینڈ کو شکست دے کر ایشین گیمز کرکٹ سیمی فائنل میں جگہ بنا لی

حارث کھوکھر کے اپنی بھابھی کے ساتھ ناجائز تعلقات؟ رشتہ تڑوانے میں دشمن کون؟ لڑائی کے بعد ہنی مون کیسا رہا؟ ڈاکٹر نبیحہ کے انکشافات

اداکارہ کرن خان نے نازیہ حسن کے سابق شوہر سے دوسری شادی کرلی

ویڈیو

حارث کھوکھر کے اپنی بھابھی کے ساتھ ناجائز تعلقات؟ رشتہ تڑوانے میں دشمن کون؟ لڑائی کے بعد ہنی مون کیسا رہا؟ ڈاکٹر نبیحہ کے انکشافات

پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ حرمین کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہے، ارکان پارلیمنٹ کی رائے

حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے بات کی جائےگی، شائستہ پرویز ملک

کالم / تجزیہ

غلطی، معافی، اور نفسیاتی قید

مکہ امت کی ریڈلائن ہے؟

نئے انتظامی یونٹ: پیپلز پارٹی کیوں غصے میں ہے؟