لاہور ہائیکورٹ نے رضوان کی این سی سی آئی اے کے نوٹس کے خلاف درخواست مسترد کردی

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائیکورٹ نے قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کی جانب سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے نوٹس کے خلاف دائر درخواست مسترد کردی، عدالت نے رضوان کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ ادارے کے پاس جاکر اپنا مؤقف پیش کریں اور نوٹس کا جواب دیں۔

لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست پر سماعت کی، جس میں رضوان کے وکیل قاضی عمیر علی عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ رضوان پر عائد الزامات بے بنیاد ہیں، انہیں لارڈز ٹیسٹ کے بعد ہوٹل کی لابی میں بلا کر پوچھ گچھ کی گئی اور اس وقت کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: این سی سی آئی اے کی طلبی، محمد رضوان نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

وکیل کے مطابق رضوان کا موبائل فون بھی تحویل میں لے لیا گیا اور اسے تین گھنٹے میں واپس کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم فون تاحال واپس نہیں کیا گیا۔

رضوان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کرپشن سے متعلق الزامات کی تحقیقات کیلئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا اینٹی کرپشن یونٹ متعلقہ فورم ہے، تاہم رضوان سے متعلق کوئی معاملہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کو نہیں بھیجا گیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے وکیل سے استفسار کیا کہ رضوان کو 10 ستمبر کو این سی سی آئی اے نے طلب کیا تھا اور انہوں نے پیش ہوکر ادارے کے ساتھ تعاون کیا، پھر عدالت سے رجوع کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

چیف جسٹس نے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ این سی سی آئی اے کے پاس جائیں، اپنا مؤقف بتائیں اور نوٹس کا جواب جمع کرائیں۔ عدالت نے بعد ازاں رضوان کی درخواست مسترد کردی۔

یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان کا این سی سی آئی اے کو جواب، طلبی کی وجوہات اور موبائل واپسی پر سوالات

این سی سی آئی اے کے نوٹس کے مطابق ادارہ آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق تحقیقات کر رہا ہے۔ رضوان نے نوٹس کو چیلنج کرتے ہوئے ادارے کے دائرہ اختیار اور تحقیقات کی بنیاد پر سوال اٹھایا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ نوٹس میں کوئی مخصوص الزام یا مبینہ غیر قانونی سرگرمی واضح نہیں کی گئی۔

رضوان اور پاکستان کے ٹیسٹ اوپنر امام الحق رواں ماہ لاہور کے جوہر ٹاؤن میں این سی سی آئی اے کے دفتر میں پیش ہوئے تھے۔ جیو نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کھلاڑیوں سے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران پاکستان کے ڈریسنگ روم سے مبینہ معلومات لیک ہونے کی تحقیقات کے سلسلے میں تقریباً دو گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی۔

ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران انگلینڈ میں پریکٹس سیشنز اور میچز کے دوران دونوں کھلاڑیوں کے رابطوں اور ملاقاتوں سے متعلق بھی سوالات کیے گئے، جبکہ این سی سی آئی اے ان کے موبائل فونز کا فرانزک اور تکنیکی تجزیہ کرنے کے ساتھ مالی معاملات اور مشتبہ لین دین کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

این سی سی آئی اے نے تاحال دونوں کھلاڑیوں کے خلاف کوئی حتمی نتیجہ باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا۔ رضوان نے بعد میں ادارے کو تحریری جواب جمع کراتے ہوئے طلبی کی وجوہات واضح کرنے اور اپنا موبائل فون واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: موبائل فون ڈیٹا کی تحقیقات، کرکٹرز امام الحق اور محمد رضوان سائبر کرائم ایجنسی میں پیش

این سی سی آئی اے کی تحقیقات پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں انگلینڈ کے خلاف شکستوں کے بعد ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے بعد سامنے آئیں۔ لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد رضوان اور امام الحق سمیت 7 کھلاڑیوں کو ٹیسٹ اسکواڈ سے ریلیز کردیا گیا تھا، جبکہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلیکشن کمیٹی کے ارکان سے بھی رضوان اور امام الحق کو 2026 کے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کیلئے ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کرنے پر تحریری وضاحت طلب کی تھی۔ بورڈ کے 31 اگست کے نوٹس کے مطابق سلیکشن کمیٹی نے 2 جون کے اجلاس میں دونوں کھلاڑیوں پر غور کرکے ان کی سفارش کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

واٹس ایپ میں پرانے پیغامات تلاش کرنا مزید آسان ہوگیا

آزاد کشمیر کابینہ کا پہلا اجلاس، وزیراعظم کی عام آدمی کو فوری ریلیف، ہنگامی ’شکایات ڈیسک‘ قائم کرنے کی ہدایت

پاکستان نے تھائی لینڈ کو شکست دے کر ایشین گیمز کرکٹ سیمی فائنل میں جگہ بنا لی

حارث کھوکھر کے اپنی بھابھی کے ساتھ ناجائز تعلقات؟ رشتہ تڑوانے میں دشمن کون؟ لڑائی کے بعد ہنی مون کیسا رہا؟ ڈاکٹر نبیحہ کے انکشافات

نیند کی کمی پوری کرنے کا درست طریقہ کیا ہے؟

ویڈیو

حارث کھوکھر کے اپنی بھابھی کے ساتھ ناجائز تعلقات؟ رشتہ تڑوانے میں دشمن کون؟ لڑائی کے بعد ہنی مون کیسا رہا؟ ڈاکٹر نبیحہ کے انکشافات

پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ حرمین کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہے، ارکان پارلیمنٹ کی رائے

حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے بات کی جائےگی، شائستہ پرویز ملک

کالم / تجزیہ

غلطی، معافی، اور نفسیاتی قید

مکہ امت کی ریڈلائن ہے؟

نئے انتظامی یونٹ: پیپلز پارٹی کیوں غصے میں ہے؟