ایران کی زیر زمین جوہری تنصیب سے متعلق نئی سیٹلائٹ تصاویر میں ٹنل کے داخلی راستوں پر اضافی مٹی ڈالے جانے اور تنصیب کے دفاع کو مزید مضبوط کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق خدشات ایک بار پھر سامنے آئے ہیں۔
فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق نئی سیٹلائٹ تصاویر میں نطنز کے قریب ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کے مغربی ٹنل راستوں کی جانب جانے والی سڑکوں پر مٹی کی رکاوٹیں موجود ہیں۔ انسٹیٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی نے 11 ستمبر کی سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محدود رسائی سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تنصیب فی الوقت معمول کی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہو رہی، تاہم قیمتی آلات یا مواد وہاں موجود ہو سکتے ہیں۔
Iran adds new defenses at deeply buried nuclear site after Trump warns Islamic State not to 'get cute' https://t.co/68CZ860uh5 pic.twitter.com/1QI7hA0Gk3
— New York Post (@nypost) September 18, 2026
رپورٹ کے مطابق ایک مغربی ٹنل کے داخلی راستے اور قریب موجود ان راستوں پر بھی اضافی مٹی ڈالی گئی ہے جو 2007 میں تعمیر کیے گئے تھے۔ ادارے کے مطابق مٹی کی اضافی تہہ داخلی راستوں کو مزید زمین کے نیچے محفوظ بناتی اور فضائی حملوں کے خلاف تحفظ بڑھاتی ہے۔
یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پک ایکس ماؤنٹین کے حوالے سے تازہ انتباہ کے تقریباً ایک ہفتے بعد سامنے آئی ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ انہیں پک ایکس کے مقام پر کچھ سرگرمی نظر آرہی ہے اور ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ ’زیادہ ہوشیاری نہ دکھائے‘ کیونکہ امریکا کو سخت کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نیوکلیئر مذاکرات کے لیے تیار، میزائل پروگرام پر ’کوئی بات نہیں کرے گا‘
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پک ایکس ماؤنٹین نطنز جوہری کمپلیکس سے تقریباً 2 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس میں متعدد ٹنل داخلی راستے موجود ہیں۔ تعمیر کا آغاز 2020 میں نطنز میں تخریب کاری کے ایک واقعے کے بعد ہوا تھا۔ ایرانی حکام نے بعد میں کہا تھا کہ جدید سینٹری فیوجز کی تیاری کے لیے زیر زمین متبادل تنصیب تعمیر کی جا رہی ہے، تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس مقام پر جوہری سرگرمی نہیں ہو رہی۔
دوسری جانب ادارے نے تہران کے جنوب مشرق میں پرچین کے فوجی کمپلیکس میں ’طالقان 2‘ تنصیب کی تعمیر نو کی بھی نشاندہی کی ہے، جہاں سیٹلائٹ تصاویر میں تعمیراتی سرگرمیاں، کرینیں، بلڈوزر اور کنکریٹ کا سامان دیکھا گیا ہے۔












