صوابی کے سرکاری اسکول کی تکمیل میں تاخیر، پی ٹی آئی کی ترجیحات پر سوالات

جمعہ 18 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گورنمنٹ ہائی اسکول جامرہ بر کلے کی تعمیر مکمل نہ ہونے پر پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور مقامی سیاسی قیادت کی ترجیحات پر سوالات اٹھا دیے گئے ہیں، جبکہ سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ خیبر پختونخوا میں تعلیمی اداروں کی صورتحال بہتر بنانے پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو احتجاجی سرگرمیوں کے ساتھ خیبر پختونخوا کے اسکولوں پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ جلسوں اور احتجاج کی تاریخیں تو سامنے آجاتی ہیں، لیکن صوابی کے گورنمنٹ ہائی اسکول جامرہ کی تکمیل کی تاریخ کب آئے گی۔

ناقدین نے دعویٰ کیا ہے کہ تعلیم کے لیے بجٹ مختص ہونے کے باوجود اگر بچے مکمل درس گاہ سے محروم رہیں تو حکومت سے اس بارے میں سوال ہونا چاہیے۔ صوابی کے اسکول کی صورتحال کو سیاسی دعووں اور زمینی حالات کے درمیان فرق کی مثال بھی قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:2022 سے زیر تعمیر اسکول 2026 میں بھی نامکمل، کمروں میں جانور بندھے ہونے کا انکشاف

بیان میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اسلام آباد میں ریاست سے حساب کا مطالبہ کرتے ہیں، تاہم صوابی کے گاؤں جامرہ بر کلے کا سرکاری اسکول بھی ان کی سیاسی قیادت سے اپنے علاقے میں بنیادی تعلیمی سہولیات کی فراہمی کا حساب مانگ رہا ہے۔

مزید کہا گیا کہ اسد قیصر 3 مرتبہ رکن قومی اسمبلی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر رہ چکے ہیں، اس لیے صوابی کے اسکول کی صورتحال کو محض ایک خستہ عمارت کا معاملہ نہیں سمجھا جاسکتا بلکہ یہ برسوں سے کیے جانے والے سیاسی دعووں اور زمینی ترجیحات کے درمیان ایک سوال ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ جو سیاست عوامی حقوق کے نام پر وفاق سے جواب طلب کرتی ہے، اسے اپنے سیاسی حلقوں میں بھی تعلیم، محفوظ عمارت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے جواب دینا ہوگا۔

خیال رہے کہ گورنمنٹ ہائی اسکول جامرہ بر کلے کی زیر تعمیر عمارت سے متعلق تصاویر بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں، جن میں مبینہ طور پر اسکول کے کمروں میں جانور بندھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اسکول کی تعمیر، منظور شدہ لاگت، فنڈز کے اجرا اور منصوبے میں تاخیر سے متعلق سرکاری حکام کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp