فرانسیسی حکام نے خفیہ ریکارڈنگ، پرائیویسی کی خلاف ورزیوں اور ڈیجیٹل ہراسانی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان کیمرے سے لیس اسمارٹ گلاسز کی قانونی اور ریگولیٹری نگرانی تیز کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسمارٹ چشمے، جدید سہولت یا خفیہ نگرانی کا نیا ذریعہ؟
پیرس پراسیکیوٹر آفس نے جنسی ہراسانی کے شبہ پر شکایات موصول ہونے کے بعد کم از کم ایک فوجداری تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔
یہ کیسز ایک وائرل سوشل میڈیا ٹرینڈ سے جڑے ہیں جہاں افراد اسمارٹ گلاسز کا استعمال کرتے ہوئے خواتین کو سڑک پر بغیر ان کی رضامندی کے خفیہ طور پر فلم بنا کر فوٹیج آن لائن شائع کرتے ہیں۔
پیرس پراسیکیوٹر آفس کے سائبر کرائم ڈویژن نے یہ سمجھنے کے لیے کہ ان پہننے جانے والی ٹیکنالوجیز کو غیر قانونی کاموں کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے حال ہی میں ان ڈیوائسز پر تکنیکی ٹیسٹ کیے ہیں۔
فرانس کی ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی نے پیشہ ورانہ ماحول میں اسمارٹ گلاسز کے استعمال کے حوالے سے شکایات کی ایک چھوٹی تعداد موصول ہونے کی اطلاع دی ہے۔
ریگولیٹر کو کاروباری اداروں کی جانب سے رہنمائی کے لیے پوچھ گچھ میں بھی اضافے کا سامنا ہے کہ کیا وہ ملازمین کو کام پر ان ڈیوائسز کے پہننے پر قانونی طور پر پابندی لگا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: اسمارٹ چشمے اور خواتین کی پرائیویسی: پاکستان میں ایک نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ نیا خطرہ؟
رپورٹس کے مطابق فرانس میں بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال خفیہ طور پر ریکارڈنگ کرنے والے پہننے کے قابل آلات کے خلاف وسیع تر بین الاقوامی ردعمل کی عکاسی کرتی ہے۔
میٹا کے اے آئی سے چلنے والے اسمارٹ گلاسز جیسی مصنوعات کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے عالمی مارکیٹ میں غالب حصہ حاصل کر لیا ہے۔
اگرچہ مینوفیکچررز کا کہنا ہے کہ چھوٹی انڈیکیٹر لائٹس جیسے پرائیویسی فیچرز ہارڈ ویئر میں بنیادی طور پر شامل کیے گئے ہیں لیکن ناقدین اور پرائیویسی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ حفاظتی اقدامات اکثر ناکافی ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کا اسمارٹ چشموں پر تشویش کا اظہار، نئے رازداری قوانین بنانے پر زور
عالمی سطح پر حکومتیں اور ادارے اس کے خلاف اقدامات شروع کر رہے ہیں اور آسٹریلیا جیسی دیگر ریاستیں سرکاری دفاتر میں کیمرے سے لیس گلاسز پر پابندی پر غور کر رہی ہیں۔ علاوہ ازیں جرمنی جیسے ممالک میں صارفین کے تحفظ کے گروپس نے پرائیویسی کمپلائنس پر ٹیک کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے۔














