پاکستان نے عالمی یومِ امن کے موقع پر عالمی امن و سلامتی کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور تنازعات کے پرامن حل کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی یومِ امن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پائیدار امن کے حصول کا واحد راستہ مذاکرات، سفارت کاری اور اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کی پاسداری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’مقبوضہ کشمیر و فلسطین انسانی المیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا‘ عالمی یوم امن پر صدر و وزیراعظم کے پیغامات
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مؤثر، جامع اور کثیرالجہتی عالمی نظام کے قیام کے عزم پر قائم ہے، جس کے مرکز میں اقوام متحدہ ہو۔
’عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری، بین الاقوامی قانون کا احترام اور تنازعات کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے پرامن ذرائع اختیار کرنے کی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔‘
🔈 PR No. 2️⃣5️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Message of the Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 on the International Day of Peace
(21 September 2026)🔗⬇️ pic.twitter.com/qYTlEai10U
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 21, 2026
پیغام میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں طویل عرصے سے نمایاں فوجی دستے فراہم کرنے والے ملک کی حیثیت سے پاکستان عالمی امن و سلامتی کے قیام کے لیے اپنے عزم کا عملی مظاہرہ کرتا رہا ہے۔
’پاکستان تنازعات کی روک تھام اور حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر مبنی جامع حکمت عملی کی مسلسل حمایت کرتا ہے۔‘
مزید پڑھیں: عالمی یومِ امن: پاکستان کا پُرامن بقائے باہمی، سفارتکاری اور عالمی قانون کی پاسداری کے عزم کا اعادہ
اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی سمیت تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے سفارتی اقدامات اسی عزم کا اظہار ہیں۔
ان کے مطابق گزشتہ سال سلامتی کونسل کی پاکستانی صدارت کے دوران پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کا متفقہ طور پر منظور ہونا بھی تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سلامتی کونسل کے عزم کی اہم تجدید ہے۔
مزید پڑھیں: صدرِ پاکستان کا عالمی یومِ امن محافظین پر اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں کو خراجِ تحسین
پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ حل طلب تنازعات علاقائی اور عالمی عدم تحفظ کو بڑھاوا دیتے ہیں، جبکہ پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام کے حقِ خودارادیت سے انکار جاری رہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہو۔
نائب وزیراعظم کے مطابق یہ صورتحال بالخصوص غیر ملکی قبضے کے معاملات میں نمایاں ہے، جن میں بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال شامل ہے۔
پاکستان نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ ایک پرامن اور خوشحال دنیا کے مشترکہ مقاصد کے فروغ کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔














