باب خیبر: جدید دور کی یادگار، صدیوں پرانی تاریخ کا دروازہ

بدھ 23 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

درہ خیبر کے داخلی راستے پر قائم بابِ خیبر اگرچہ جدید دور کی ایک یادگار ہے لیکن جس تاریخی گزرگاہ کی علامت یہ دروازہ ہے اس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ یہ تاریخی دروازہ پشاور سے تقریباً 17 کلومیٹر مغرب کی جانب جمرود میں واقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روات قلعے سے وادی کیلاش تک: پاکستان کے کونسے 12 تاریخی ورثے عالمی شناخت کی دوڑ میں شامل ہیں؟

بابِ خیبر کی تعمیر سنہ 1963 میں ہوئی اور اس وقت کے صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان نے اس کا افتتاح کیا۔ اس یادگار کی تعمیر کا مقصد درہ خیبر کی تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔

تاریخی روایت کے مطابق 1962-63ء میں کمشنر پشاور جی اے مدنی نے درہ خیبر کا دورہ کیا اور جمرود کے قریب تاریخی طرز کا ایک گیٹ وے تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے اس حوالے سے پولیٹیکل انتظامیہ کو ہدایات بھی جاری کیں۔

بعض مقامی تاریخی حوالوں میں اس یادگار کی تعمیر کرنے والے کاریگروں کے طور پر اٹک سے تعلق رکھنے والے گاما مستری اور ان کے بھتیجے صادق مستری کے نام ملتے ہیں۔ باب خیبر کا ڈیزائن روایتی خیبری اور قبائلی شناخت، محرابی دروازے اور مقامی تعمیراتی عناصر کو سامنے رکھتے ہوئے بنایا گیا۔

درہ خیبر، تاریخ کی قدیم گزرگاہ

درہ خیبر قدیم زمانے سے وسطی ایشیا اور برصغیر کے درمیان ایک اہم گزرگاہ رہا ہے۔ مختلف ادوار میں تاجروں، مسافروں، فاتحین اور فوجی لشکروں نے اس راستے کو استعمال کیا جس کے باعث خیبر کو خطے کی سیاسی، عسکری، تجارتی اور تہذیبی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل رہا۔

مزید پڑھیے: پاکستان کے مقامات جو 2025 میں دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ رہے ہیں

بابِ خیبر کے قریب موجود قلعہ جمرود بھی خطے کی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اسے سکھ دور میں جنرل ہری سنگھ نلوہ نے سنہ 1836 میں تعمیر کرایا تھا تاکہ درہ خیبر کے راستے کی نگرانی اور دفاع کیا جا سکے۔

باب خیبر کے مقام سے آگے تاریخی درہ خیبر طورخم تک جاتا ہے جہاں پاکستان اور افغانستان کی سرحد واقع ہے۔ اسی وجہ سے یہ راستہ آج بھی تجارت، آمدورفت اور پاک افغان تعلقات کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔

آریائی ہجرت سے برطانوی دور تک

آریائی ہجرت، یونانی عہد اور بعد ازاں غزنوی، مغل، افغان، سکھ اور برطانوی ادوار کے حوالے سے بھی اس خطے کی تاریخ میں خیبر کو نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔

محمود غزنوی کی ہندوستانی مہمات، احمد شاہ ابدالی کی ہندوستان کی جانب پیش قدمی اور سنہ 1761 کی پانی پت کی تیسری جنگ جیسے واقعات بھی اس وسیع تاریخی خطے سے جڑے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں سیاحتی مقامات کے لیے ہیلی کاپٹر سروس کا آغاز، کرایہ کتنا ہوگا؟

19ویں صدی میں سکھ سلطنت نے پشاور اور خیبر کے علاقے میں اپنا اثر قائم کیا۔ سنہ 1837 کی جنگِ جمرود میں سکھ فوج کے معروف جرنیل ہری سنگھ نلوہ مارے گئے۔

سوویت افغان جنگ کے دوران بھی پشاور اور خیبر کا خطہ افغانستان جانے والے مجاہدین اور غیر ملکی رضاکاروں کی آمدورفت کے حوالے سے اہم رہا۔

ایک خاموش گواہ اور اس کا استقلال

یوں باب خیبر خود اگرچہ سنہ 1963 میں تعمیر ہونے والی ایک جدید یادگار ہے مگر اس کے پیچھے موجود درہ خیبر کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ یہ یادگار آج بھی اس تاریخی راستے کی علامت ہے جس نے برصغیر اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت، ہجرت، جنگوں اور تہذیبی روابط میں اہم کردار ادا کیا۔

باب خیبر کے قیام کے پیچھے یہ خیال بھی کارفرما تھا کہ پشاور سے درہ خیبر میں داخل ہونے والا ہر شخص سب سے پہلے اس خطے کی تاریخ اور قبائلی شناخت کی اس علامت کو دیکھے۔

یہ بھی پڑھیے: صاحب سیف و قلم خوشحال خان خٹک کی مزاحمتی زندگی

صدیاں گزر گئیں، سلطنتیں بدل گئیں، فاتحین آئے اور واپس چلے گئے مگر درہ خیبر آج بھی تاریخ کے ان تمام ادوار کا خاموش گواہ بن کر اسی مقام پر کھڑا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp