ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بدھ کو مسلسل چھٹے کاروباری سیشن کے دوران تیزی کا رجحان دیکھا گیا، جبکہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سے متعلق ایپلی کیشنز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کو سہارا دیا۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں اضافے کی اطلاعات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید نیچے آگئیں۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی برآمدات بحال ہونے کا امکان ہے۔ سپلائی میں اضافے کی اطلاعات نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا دُنیا معاشی ’زلزلے‘ کی طرف بڑھ رہی ہے، خام تیل کی عالمی قیمتیں کب اور کیوں بے قابو ہوئیں؟
بدھ کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 0.9 فیصد کمی کے بعد 98.37 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 1.3 فیصد کمی کے بعد 89.32 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ نیویارک میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو سخت نتائج کی دھمکی بھی دی۔
Asian shares are mixed and oil prices fall after Trump says US and Iran met at the UN https://t.co/vRIwXJM6Rb pic.twitter.com/IDZgX8TBW7
— The Independent (@Independent) September 23, 2026
ایرانی صدر مسعود پزشکیان بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، جبکہ یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ وہ صدر ٹرمپ سے ملاقات یا مذاکرات کرسکتے ہیں۔
عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ چین اور امریکا کے تعلقات پر بھی مرکوز ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ بدھ کو واشنگٹن پہنچنے والے ہیں، جہاں امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ بندی میں توسیع اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون کے امکانات پر بھی نظر ہے۔
اے آئی ٹیکنالوجی میں تازہ دلچسپی کے باعث جنوبی کوریا کے حصص میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سام سنگ کے حصص 2 فیصد سے زیادہ بڑھے۔
مزید پڑھیں: خام تیل مہنگا، ایشیائی مارکیٹیں دباؤ کا شکار، پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی مندی کی لپیٹ میں
تائیوان کی اسٹاک مارکیٹ بھی 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً ریکارڈ بلند سطح کے قریب پہنچ گئی، جاپانی مارکیٹس تعطیل کے باعث بند رہیں، تاہم نکی کے مستقبل کے سودے نمایاں اضافے کے ساتھ کاروبار کرتے رہے۔
ایشیائی مارکیٹوں کے علاوہ یورپی اور امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی معمولی تیزی دیکھی گئی، ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک فیوچرز معمولی اضافے کے ساتھ رہے، جبکہ یورپ میں یورو اسٹاکس 50، جرمن ڈیکس اور برطانوی ایف ٹی ایس ای کے فیوچرز تقریباً 0.4 فیصد اوپر رہے۔
اے آئی ایجنٹس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے اہم محرک بنی ہوئی ہے، امریکی مارکیٹ میں میٹا کے میوز اے آئی ایجنٹ کی صارفین میں مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران امریکی ایپ ڈاؤن لوڈ چارٹس میں سرفہرست رہا۔
مزید پڑھیں: امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مستحکم، جانیے عالمی کرنسی اور خام تیل کی بھی صورتحال
سرمایہ کار اب گوگل لیبز کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے اسی نوعیت کے اے آئی پروڈکٹ کی صارفین میں پذیرائی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دریں اثنا، امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ ماہ دوبارہ شرح سود بڑھانے کے امکانات بھی عالمی مالیاتی منڈیوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔
فیوچرز مارکیٹ کے مطابق اکتوبر میں شرح سود میں اضافے کے تقریباً 54 فیصد امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل سستا، مگر پاکستان میں پیٹرول مہنگا؟
شرح سود میں اضافے کے خدشات کے باعث امریکی ڈالر کی قدر یورو، برطانوی پاؤنڈ اور کینیڈین ڈالر کے مقابلے میں کئی ہفتوں کی بلند سطح کے قریب پہنچ گئی۔
یورو تقریباً 1.1430 ڈالر پر رہا، جبکہ ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین کی قدر 157.60 تک رہی۔
دوسری جانب سونے کی قیمت میں 0.3 فیصد کمی ہوئی اور یہ تقریباً 4,341 ڈالر فی اونس پر آگیا، جبکہ تانبے کی قیمت ریکارڈ بلند سطح کے قریب پہنچ گئی، رواں سال تانبے کی قیمت میں اب تک تقریباً 18 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔













