وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے مطالبات میں پیٹرول کی قیمت کم کرنا، مہنگائی کم کرنا، عام آدمی کی زندگی آسان بنانا اور دہشتگردی کا خاتمہ شامل نہیں، ان کے مطالبات میں پاکستان کے لوگوں کا کوئی مسئلہ نہیں بلکہ مسئلہ صرف ان کے لیڈر کا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ کنٹینرز سے ابھی تک کوئی بھی راستہ بند نہیں کیا گیا، کنٹینرز اس لیے رکھے گئے ہیں کیونکہ اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے، یہاں اعلیٰ دفاتر اور سفارتخانے ہیں جبکہ بیرون ملک سے آنے والے لوگ بھی موجود ہیں، اس لیے سیکیورٹی ہماری ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا، ہم نے کبھی ایسا نہیں کیا، جس طرح پی ٹی آئی پرتشدد ہے، ہم نے بانی پی ٹی آئی کا سول مارشل لا بھی دیکھا ہے، پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ ریاست کو انتشار سے بیک فٹ پر جانے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی طریقہ کار سے آگے بڑھنا نہیں چاہتی، اگر چاہتی تو اسمبلیاں نہ توڑتی، 9 مئی اور اب پھر اسلام آباد کو سومنات بنانے کی باتیں کی جارہی ہیں، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی تحریک میں بہت فرق ہے، اسی وجہ سے اتنے سیکیورٹی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلی کوشش یہ ہے کہ بغیر کسی مارچ اور بغیر کسی ایسی چیز کے جس کا نہ ملک کو کوئی فائدہ ہے، نہ پی ٹی آئی کو اور نہ ان کی قیادت کو، مسئلہ حل ہوجائے، وزارت داخلہ ہلکا پھلکا دم بھی کرلیتی ہے اور پھر ایک دم کرنا پڑے تو ہم چیزیں کردیتے ہیں، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ بات چیت سے مسئلہ حل ہوجائے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ بیرسٹر گوہر سے پوچھیں کہ کون سا ایسا قانونی حق ہے جو انہیں ہم نہیں دے رہے، سہیل آفریدی سے پوچھ لیں کہ آپ کس وجہ سے اسلام آباد آرہے ہیں، کیا لینا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی جو کچھ کررہی ہے اس سے عمران خان کو فائدے کے بجائے نقصان ہوگا، طلال چوہدری
طلال چوہدری کے مطابق پی ٹی آئی کے مطالبات میں پیٹرول کی قیمت کم کرنا، مہنگائی کم کرنا، عام آدمی کی زندگی آسان بنانا اور دہشتگردی کا خاتمہ شامل نہیں، ان کے مطالبات میں پاکستان کے لوگوں کا کوئی مسئلہ نہیں، مسئلہ صرف ان کے لیڈر کا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں ٹی ایل پی ہو یا پی ٹی آئی ہو، ریاست کو آپ ڈکٹیٹ نہیں کرسکتے، یعنی کوئی یہ کہے کہ میری ملاقات کرواؤ، میں چاہوں تو یہ کروں گا، روڈ بند کردوں گا، مارچ لے آؤں گا، تمہاری ایسی کی تیسی، میں نے یہ کرنا ہے، ایسے نہیں ہوسکتا، جو طریقہ کار قانون میں دیا گیا ہے وہی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے بھی ملاقاتیں ہوتی ہیں، لیکن اگر اس طرح یہ ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو میرے خیال میں یہ نہیں ہوسکتا۔














