امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں دونوں عالمی رہنماؤں نے اپنی طاقتور مسابقت کو مؤثر انداز میں سنبھالنے اور مصنوعی ذہانت کو انسانی کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں منعقدہ ایک شاندار تقریب سے جمعرات کو اس دورے کا باقاعدہ آغاز ہوا، جس میں فوجی فلائی پاسٹ، اوول آفس میں اہم مذاکرات اور باضابطہ اسٹیٹ ڈنر شامل ہے۔
🚨 PRESIDENT XI JINPING JUST NOW: “President Trump and I have RESPECT for each other. We have built personal rapport and stayed in touch.”
“I am ready to work with you to steer the giant ship of China-U.S. relationship on a steady course toward the future. We should strengthen…
— American Patriot🇺🇸 (@AmericanPa8e) September 24, 2026
اس سے قبل بدھ کو 80 سالہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوائنٹ بیس اینڈریوز ایئرپورٹ پر خود جا کر 73 سالہ چینی صدر کا استقبال کیا، جو گزشتہ 60 سے زیادہ سالوں میں کسی امریکی صدر کی جانب سے غیر ملکی سربراہِ مملکت کا ایئرپورٹ پر خود استقبال کرنے کا پہلا واقعہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے ان کی صحت سے متعلق تمام تر افواہوں کو رد کیا اور انہیں مکمل طور پر ’صحت مند، متحرک اور فٹ‘ قرار دیا۔
مصنوعی ذہانت اور سپر انٹیلی جنس کا چیلنج
مذاکرات کا بنیادی محور مصنوعی ذہانت (اے آئی ) اور سپر انٹیلی جنس سے پیدا ہونے والے چیلنجز ہیں۔ جہاں صدر ٹرمپ مصنوعی ذہانت کے انسان کے لیے خطرہ ہونے کے خدشات کو مسترد کرتے رہے ہیں، وہیں صدر شی جن پنگ نے اس معاملے پر ایک محتاط اور سنجیدہ موقف اپنایا۔
🚨 President Trump just dropped this line for President Xi at the White House: “Just as our people worked together to WIN that war, President Xi and I will continue working together to forge a better future for both of our nations.”
“President Xi, Madame Peng, thank you once…
— MR X (@TheMrXGuy1) September 24, 2026
وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے چینی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک پر یہ تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انسانی ترقی کو آگے بڑھائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مصنوعی ذہانت کا ارتقا ہمیشہ انسانی کنٹرول میں رہے تاکہ اسے انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ، شی جن پنگ ملاقات سے قبل امریکا اور چین کے درمیان اہم مذاکرات کا آغاز
اس موقع پر انہوں نے امریکی چڑیا گھر کو پانڈاز کی ایک جوڑی دینے کا اعلان بھی کیا، جسے چین کی روایتی ’پانڈا ڈپلومیسی‘ کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
تجارتی جنگ میں عارضی مہلت اور معاشی خدشات
اگرچہ اس دورے سے کسی بہت بڑے معاہدے کی توقع نہیں کی جا رہی، تاہم دونوں ممالک اپنے گہرے معاشی تعلقات کو متوازن رکھنا چاہتے ہیں۔
امریکی خزانے کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے تجارتی جنگ میں 2 ماہ کی توسیع کا اعلان کیا ہے جو کہ نومبر میں ختم ہو رہی تھی۔ اس اقدام کا مقصد ان عالمی ٹیرف تعطل کو روکنا ہے جو گزشتہ سال امریکی صدر کے سخت تجارتی اقدامات کے بعد پیدا ہوئے تھے۔
ایران اور تائیوان پر جاری سفارتی کشیدگی
ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ وہ ایران کے حوالے سے زیر التوا معاملات پر شی جن پنگ سے بات کریں گے۔
یہ تاریخی دورہ جمعہ کی صبح وائٹ ہاؤس میں چائے کی نشست اور امریکی اعلامیہِ آزادی کے حامل ادارے ’نیشنل آرکائیوز‘ کے دورے کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔














