پنجاب میں مونٹیسوری سے جماعت 5 تک نئے نصاب کے تحت کتابیں اپریل 2027 سے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر دستیاب ہوں گی، جبکہ نئے نصاب کے تحت کتابوں کا حجم 25 فیصد کم کرنے کے ساتھ طلبہ کو رٹا لگانے کے بجائے بہتر تعلیمی نتائج پر توجہ دی جائے گی۔
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے نئے نصاب کی منظوری دے دی، جس کے تحت انگریزی، ریاضی، معاشرتی علوم، اردو اور ابتدائی بچپن کی نگہداشت و تعلیم کے نصاب کا جائزہ لیا گیا۔
پنجاب ایجوکیشن کریکولم، ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر موسیٰ علی بخاری نے بتایا کہ اتھارٹی نے ابتدائی بچپن کی نگہداشت و تعلیم سے جماعت 5 تک نیا نصاب تیار کیا، جسے جائزے اور بین الاقوامی نصاب سے موازنے کے لیے کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کو بھیجا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے اسکولوں میں نگرانی کے لیے جدید کمیرے نصب کرنے کا فیصلہ
انہوں نے بتایا کہ کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن دسمبر 2026 میں نصاب کا حتمی مواد فراہم کرے گا، جس کے بعد پنجاب ایجوکیشن کریکولم، ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ اتھارٹی جنوری میں کتابوں کی طباعت شروع کرے گی۔ نئے نصاب کے تحت کتابیں اپریل 2027 سے شروع ہونے والے نئے تعلیمی سال کے لیے دستیاب ہوں گی۔
موسیٰ علی بخاری کے مطابق نئے نصاب کا مقصد کتابوں کی لاگت کم کرنا بھی ہے، کیونکہ کتابوں کے صفحات کی تعداد کم کی جائے گی۔ نئے نصاب کے تحت کتابوں کا حجم 25 فیصد کم ہوگا جبکہ ہر کتاب میں کیو آر کوڈز شامل کیے جائیں گے، جن کے ذریعے طلبہ ویڈیو اسباق تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ نئے نصاب میں یاد کرنے کے بجائے طلبہ کے تعلیمی نتائج بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ نصاب کی تیاری میں شامل کیمبرج کے ماہرین اساتذہ کو نئے نصاب کی تدریس کے لیے تربیت بھی دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں؛ پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کا مضمون لازمی قرار دینے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ آفس کے بیان کے مطابق اجلاس میں ہفتے کا دن پورے پنجاب میں اساتذہ کی تربیت کے لیے مختص کرنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ نئی کتابوں کے مصنفین بھی اساتذہ کے لیے تربیتی نشستیں کریں گے۔
اجلاس میں جماعت 1 سے 12 تک مصنوعی ذہانت کا نصاب حتمی شکل دینے کی ہدایت بھی کی گئی جبکہ نئے نصاب کے ساتھ کمپیوٹر لیبارٹریاں تیار کرنے پر زور دیا گیا۔
اجلاس کے شرکا نے اساتذہ کے لیے ذہنی صحت کی تربیت متعارف کرانے اور ہر ضلع میں وزٹنگ ماہرین نفسیات تعینات کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا۔ طلبہ کے لیے آن لائن مشاورت کی سہولت کی تجویز بھی سامنے آئی۔
اجلاس میں اسکولوں میں جسمانی سزا کے خلاف قانون سازی کی اصولی ضرورت پر اتفاق کیا گیا جبکہ جسمانی سزا کے متبادل کے طور پر کلاس رومز میں ‘ڈسپلن کارنرز’ قائم کرنے کی تجویز دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے نجی اسکولوں میں 10 فیصد مستحق بچوں کو مفت تعلیم لازمی، قائمہ کمیٹی کا سخت حکم
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ اسکولوں میں جسمانی تشدد بچوں پر زندگی بھر اثر ڈال سکتا ہے، اس لیے جسمانی سزا کے بجائے تعمیری تادیبی اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب کے 12 اضلاع کی 31 تحصیلوں میں 35,000 اساتذہ کی انگریزی زبان کی تربیت مکمل کی جاچکی ہے۔














