چینی طبی ماہرین نے ایسی نئی دوا تیار کی ہے جس کے کلینیکل تجربات میں فالج کے بعد علاج کے لیے دستیاب وقت کو چند گھنٹوں سے بڑھا کر 48 گھنٹے تک کرنے کے نتائج سامنے آئے ہیں۔
مزید پڑھیں:دل کے دورے اور فالج کے علاج میں انقلاب، ننھی گلہری امید کی کرن بن گئی
لُوبیرامیسال نامی اس دوا پر قریباً ایک ہزار مریضوں اور 32 اسپتالوں میں تیسرے مرحلے کا کلینیکل ٹرائل کیا گیا۔ نتائج کے مطابق فالج کے 2 دن کے اندر دوا لینے والے قریباً 70 فیصد مریضوں نے 90 دن بعد مکمل فعال خودمختاری حاصل کی، جو معیاری علاج کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ تھی۔
NewsBaba: “China 🇨🇳 has had a number of medical breakthroughs in recent years including the latest one boosting the critical window in which stroke victims can be saved from max damage from 6 hours to 48 hours! We touch on how the USA, where most medical breakthroughs have taken… pic.twitter.com/3AE0LceUfQ
— DeSota (@desota) September 24, 2026
یہ دوا دماغی خلیوں کو نقصان سے بچانے کے لیے تیار کی گئی ہے، جبکہ روایتی خون پتلا کرنے یا خون کا لوتھڑا گھلانے والے ہنگامی علاج کے لیے عموماً چند گھنٹوں کی محدود مدت دستیاب ہوتی ہے۔ نئے نتائج خاص طور پر ان مریضوں کے لیے اہم ہوسکتے ہیں جو بروقت اسپتال نہیں پہنچ پاتے۔
مزید پڑھیں:20 سے 29 سال کی خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ
مطالعے کے مطابق لُوبیرامیسال استعمال کرنے والے مریضوں میں سنگین مضر اثرات یا اموات کا خطرہ پلیسبو گروپ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ نہیں تھا۔ تاہم دوا کے وسیع پیمانے پر استعمال سے قبل اس کے نتائج کی مزید طبی جانچ اور متعلقہ طبی منظوری اہم ہوگی۔













