چینی دوا سے فالج کے علاج کی مدت چند گھنٹوں سے بڑھ کر 2 دن ہوگئی

جمعہ 25 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چینی طبی ماہرین نے ایسی نئی دوا تیار کی ہے جس کے کلینیکل تجربات میں فالج کے بعد علاج کے لیے دستیاب وقت کو چند گھنٹوں سے بڑھا کر 48 گھنٹے تک کرنے کے نتائج سامنے آئے ہیں۔

مزید پڑھیں:دل کے دورے اور فالج کے علاج میں انقلاب، ننھی گلہری امید کی کرن بن گئی

لُوبیرامیسال نامی اس دوا پر قریباً ایک ہزار مریضوں اور 32 اسپتالوں میں تیسرے مرحلے کا کلینیکل ٹرائل کیا گیا۔ نتائج کے مطابق فالج کے 2 دن کے اندر دوا لینے والے قریباً 70 فیصد مریضوں نے 90 دن بعد مکمل فعال خودمختاری حاصل کی، جو معیاری علاج کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ تھی۔

یہ دوا دماغی خلیوں کو نقصان سے بچانے کے لیے تیار کی گئی ہے، جبکہ روایتی خون پتلا کرنے یا خون کا لوتھڑا گھلانے والے ہنگامی علاج کے لیے عموماً چند گھنٹوں کی محدود مدت دستیاب ہوتی ہے۔ نئے نتائج خاص طور پر ان مریضوں کے لیے اہم ہوسکتے ہیں جو بروقت اسپتال نہیں پہنچ پاتے۔

مزید پڑھیں:20 سے 29 سال کی خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ

مطالعے کے مطابق لُوبیرامیسال استعمال کرنے والے مریضوں میں سنگین مضر اثرات یا اموات کا خطرہ پلیسبو گروپ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ نہیں تھا۔ تاہم دوا کے وسیع پیمانے پر استعمال سے قبل اس کے نتائج کی مزید طبی جانچ اور متعلقہ طبی منظوری اہم ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp