اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں، ڈی چوک، فیض آباد اور اس کے اطراف میں بڑی تعداد میں کنٹینرز رکھے جانے کے بعد ایک بار پھر اس اہم مقام کی حساسیت اور شہری آمدورفت پر اس کے ممکنہ اثرات توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ فیض آباد کو اسلام آباد سے لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان آمدورفت کے ساتھ ساتھ مری، شمالی علاقوں اور ملک کے دیگر شہروں کی جانب جانے والے مسافروں کے لیے بھی ایک اہم گزرگاہ تصور کیا جاتا ہے۔
فیض آباد جڑواں شہروں کے درمیان ٹریفک کے ایک بڑے جنکشن کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے روزانہ ہزاروں گاڑیوں میں لاکھوں افراد کا گزر ہوتا ہے۔ راولپنڈی سے اسلام آباد آنے والے شہری ہوں، اسلام آباد سے راولپنڈی جانے والے مسافر، لاہور اور دیگر شہروں کی جانب سفر کرنے والے افراد یا مری اور بالائی علاقوں کا رخ کرنے والے سیاح، مختلف راستوں سے آنے والی ٹریفک کا ایک بڑا حصہ فیض آباد کے مقام سے گزرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: امن و امان کے لیے استعمال ہونے والے کنٹینرز کے مالکان کو کرائے کی ادائیگی کا اعلان
اس تناظر میں فیض آباد چوک پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کے اثرات صرف قریبی علاقوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ جڑواں شہروں کے وسیع حصے میں آمدورفت کا نظام متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ خصوصاً دفتری اوقات، کاروباری سرگرمیوں اور تعلیمی اداروں کے اوقات میں کسی بڑی شاہراہ کی بندش سے شہریوں کو متبادل راستوں پر اضافی سفر، ٹریفک کے دباؤ اور طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
فیض آباد ماضی میں بھی سیاسی اور مذہبی احتجاجی سرگرمیوں کا اہم مرکز رہا ہے۔ مختلف ادوار میں ہونے والے بڑے احتجاج اور دھرنوں کے باعث فیض آباد اور اس سے منسلک شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی کئی مرتبہ متاثر ہوئی۔ ماضی کے بڑے احتجاجی دھرنوں کے دوران فیض آباد چوک کئی روز تک قومی سطح پر خبروں کا مرکز بھی بنا رہا۔
فیض آباد کی اہمیت کی بنیادی وجہ اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔ یہ مقام راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان ایک اہم رابطہ فراہم کرتا ہے اور متعدد بڑی شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں سے منسلک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کسی بھی بڑے اجتماع، احتجاج یا سکیورٹی انتظامات کے نتیجے میں ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کرنا پڑتا ہے، جس کے اثرات اردگرد کے علاقوں تک بھی پھیل سکتے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں اسلام آباد میں احتجاجی سیاست کے حوالے سے ڈی چوک ایک نمایاں مقام کے طور پر سامنے آیا ہے، تاہم اس سے قبل فیض آباد چوک بڑے احتجاجی اجتماعات اور دھرنوں کے لیے نمایاں مقام سمجھا جاتا تھا۔ فیض آباد پر ہونے والے احتجاج نہ صرف راولپنڈی اور اسلام آباد کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے رہے بلکہ ملک بھر میں سیاسی صورتحال کے حوالے سے بھی ان کی اہمیت رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی جماعتوں کے لانگ مارچ: اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت، ڈی چوک پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے
اب ڈی چوک سمیت دارالحکومت کے مختلف حساس مقامات پر احتجاجی سرگرمیوں اور سکیورٹی انتظامات کے تناظر میں فیض آباد کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے، کیونکہ یہ مقام دونوں شہروں کے درمیان آمدورفت کا بنیادی راستہ ہے۔
فیض آباد کے مختلف حصوں میں بڑی تعداد میں کنٹینرز کی موجودگی کے باعث شہریوں میں ٹریفک کی صورتحال کے حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی احتجاج یا سکیورٹی صورتحال کے باعث فیض آباد کی مرکزی شاہراہیں مکمل یا جزوی طور پر بند کی جاتی ہیں تو اس کا براہِ راست اثر روزمرہ سفر کرنے والے ہزاروں شہریوں پر پڑتا ہے۔
خاص طور پر ان افراد کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے جو روزانہ ملازمت، کاروبار، تعلیم یا دیگر ضروری امور کے لیے راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح مری اور دیگر بالائی علاقوں کا رخ کرنے والے مسافروں اور سیاحوں کے لیے بھی فیض آباد ایک اہم راستہ ہے۔
ٹریفک ماہرین کے مطابق کسی بھی بڑے ٹریفک جنکشن کو بند کرنے کی صورت میں صرف مرکزی سڑک پر ٹریفک نہیں رکتی بلکہ متبادل راستوں پر بھی گاڑیوں کا دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس سے سفر کا دورانیہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ دیگر شاہراہوں پر بھی ٹریفک جام کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
فیض آباد کی موجودہ صورتحال میں انتظامیہ کے لیے ایک اہم چیلنج یہ بھی ہے کہ اگر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر راستوں کی بندش ضروری ہو تو شہریوں کو بروقت متبادل راستوں، ٹریفک ڈائیورژن اور سفری صورتحال سے آگاہ رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں احتجاج کی کال: مارگلہ کے دامن میں پھر سے کنٹینرز کے ’پہاڑ‘ کھڑے ہوگئے
شہریوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی احتجاج یا ممکنہ سکیورٹی خطرے سے نمٹنے کے لیے انتظامات اپنی جگہ ضروری ہیں، تاہم ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور عام شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرانے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔
فیض آباد کی اہمیت اس امر سے واضح ہوتی ہے کہ یہ محض ایک عام چوک نہیں بلکہ راولپنڈی، اسلام آباد اور مری سمیت مختلف سمتوں سے آنے جانے والی ٹریفک کے لیے ایک اہم رابطہ مقام ہے۔ چنانچہ یہاں کسی بھی قسم کی بندش یا غیر معمولی ٹریفک انتظامات کا اثر بڑی تعداد میں مسافروں پر پڑ سکتا ہے۔
ماضی کے تجربات بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فیض آباد میں ہونے والی احتجاجی سرگرمیوں کے دوران ٹریفک کا دباؤ وسیع علاقے تک پھیل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں شہریوں کی نظریں انتظامیہ اور پولیس کے ٹریفک پلان، ممکنہ متبادل راستوں اور شاہراہوں کو کھولنے یا بند رکھنے کے فیصلوں پر مرکوز ہیں۔













