جنوبی افریقہ کے امریکا میں نئے سفیر روئلف میئر نے کہا ہے کہ ملک میں سفید فام افریقی نسل کی اجتماعی نسل کشی کا کوئی وجود نہیں اور اس حوالے سے کیے جانے والے دعوے حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق روئلف میئر خود افریقی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور جنوبی افریقہ میں نسل پرستانہ نظام کے خاتمے کے لیے 1990 کی دہائی میں ہونے والے مذاکرات میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔ انہیں رواں سال اپریل میں امریکا میں جنوبی افریقہ کا سفیر مقرر کیا گیا تھا۔
میئر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود ایک ’پیدائشی افریقی‘ ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی میں سفید فام افریقیوں کے خلاف اس نوعیت کی اجتماعی کارروائی نہیں دیکھی۔
South African white genocide does not exist, new ambassador to US tells BBC https://t.co/wGJH6eCDi9
— BBC News (World) (@BBCWorld) September 25, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ سال جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا سے ملاقات کے دوران ملک میں سفید فام افراد کے خلاف ’نسل کشی‘ کا دعویٰ کرچکے ہیں۔ امریکی حکومت نے اس کے بعد سفید فام افریقیوں کے لیے خصوصی پناہ گزین پروگرام بھی شروع کیا۔
تاہم جنوبی افریقہ کی مختلف سیاسی جماعتیں، جن میں افریقی نسل کی نمائندگی کرنے والی جماعتیں بھی شامل ہیں، سفید فام افراد کی نسل کشی کے دعوے کو مسترد کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ اور افریقہ کا حجم برابر؟ دنیا کے نقشے کی پرانی تصویر پر سوالات
رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ میں جرائم اور فارموں پر حملے ایک حقیقی مسئلہ ہیں، تاہم پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں جرائم کا شکار ہونے والوں کی اکثریت سیاہ فام افراد پر مشتمل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فارموں پر ہونے والے حملوں کو مجموعی طور پر سفید فام افراد کی منظم نسل کشی یا نسلی بنیاد پر ظلم قرار دینا درست نہیں۔
دوسری جانب بعض سفید فام افریقی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ فارموں پر حملوں اور جرائم کے باعث خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ ایک شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے گھر پر متعدد بار لوگ داخل ہوئے، اگرچہ کوئی سامان چوری نہیں ہوا۔
‘The mainstream media don’t want to cover stories of white people being killed.’
Host of the Warwick Report, Jade Wawrick, discusses the significance of a memorial for murdered South African farmers in Washington, DC, as the White Cross Project displays 3,000 white crosses. pic.twitter.com/DyEYUy1FG9
— GB News (@GBNEWS) September 26, 2026
رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت آئندہ 12 ماہ کے دوران مزید 17 ہزار 500 سفید فام افریقیوں کو پناہ گزین کی حیثیت سے امریکا میں داخل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
میئر نے امریکا پر زور دیا کہ جنوبی افریقہ میں جرائم سے نمٹنے کے لیے پابندیوں کے بجائے ملک کو وسائل اور دیگر عملی مدد فراہم کی جائے۔














