گرین لینڈ اور افریقہ کا حجم برابر؟ دنیا کے نقشے کی پرانی تصویر پر سوالات

منگل 22 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں نسلوں سے استعمال ہونے والے نقشوں میں افریقہ کی حقیقی جسامت کو کم کرکے دکھائے جانے کا معاملہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نقشے کی اس تاریخی مسخ شدہ عکاسی کو درست کرنے سے متعلق قرارداد کی منظوری کے بعد دنیا کو نقشوں میں دکھانے کے طریقہ کار پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ نے دنیا کا نیا نقشہ منظور کرلیا، افریقہ کو زیادہ بڑا دکھایا جائے گا

معاملے کے مرکز میں مرکیٹر پروجیکشن ہے، جسے فلیمش ماہرِ نقشہ سازی جیرارڈس مرکیٹر نے 1569 میں تیار کیا تھا۔

یہ نقشہ بنیادی طور پر سمندری سفر اور جہاز رانی کے لیے بنایا گیا تھا اور سمتوں کو درست رکھنے کی خصوصیت کے باعث ملاحوں کے لیے انتہائی مفید رہا۔

تاہم مرکیٹر پروجیکشن میں خطِ استوا سے دور اور قطبی علاقوں کے قریب واقع خطوں کا حجم حقیقت سے کہیں زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے، جبکہ خطِ استوا کے قریب واقع براعظم نسبتاً چھوٹے نظر آتے ہیں۔

اس کا نمایاں نتیجہ یہ ہے کہ روایتی مرکیٹر نقشے پر گرین لینڈ اور افریقہ تقریباً ایک ہی حجم کے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ حقیقی دنیا میں افریقہ کا رقبہ گرین لینڈ سے تقریباً 14 گنا زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کے عالمی نقشے کی تائید کیوں بھارت کے گلے پڑگئی؟

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے رواں ماہ میں ’کریکٹ دی میپ‘ کے عنوان سے قرارداد منظور کی، جس کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا۔

فرانس اور برطانیہ سمیت بڑی تعداد میں ممالک نے قرارداد کی حمایت کی، جبکہ امریکا واحد ملک تھا جس نے مخالفت میں ووٹ دیا اور 6 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

قرارداد ٹوگو نے پیش کی تھی جبکہ اسے افریقی یونین کی حمایت بھی حاصل تھی۔ قرارداد کے حامیوں نے ’ایکوئیل ارتھ‘ یعنی مساوی ارض جیسے مساوی رقبے والے نقشہ جاتی طریقوں کو زیادہ موزوں قرار دیا ہے۔

ایکوئیل ارتھ پروجیکشن 2018 میں متعارف کرایا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق زمین کی گول شکل کے باعث کسی بھی نقشے پر پوری دنیا کو مکمل طور پر درست انداز میں پیش کرنا ممکن نہیں۔ تاہم ایکوئیل ایریا پروجیکشن زمین کے مختلف خطوں کے حقیقی رقبے کو ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ درست انداز میں ظاہر کرتے ہیں۔

مرکیٹر نقشہ کیا ہے؟

مرکیٹر پروجیکشن دنیا کا نقشہ بنانے کا ایک طریقہ ہے جسے فلیمش ماہرِ نقشہ سازی جیرارڈس مرکیٹر نے 1569 میں تیار کیا تھا، یہ آج بھی دنیا کے سب سے معروف نقشوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس طریقے میں زمین کی تین جہتی، گول سطح کو ریاضیاتی انداز میں ایک ہموار دو جہتی سطح پر منتقل کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: افریقی یونین نے ’نقشہ صحیح کرو‘ مہم کیوں شروع کی؟

اس مقصد کے لیے زمین کو ایک سلنڈر تصور کیا جاتا ہے جسے بعد میں کھول کر نقشے کی شکل دی جاتی ہے، اسی لیے اسے سلنڈریکل پروجیکشن بھی کہا جاتا ہے۔

مرکیٹر نقشہ سمتوں کی درست نمائندگی کے لیے خاص طور پر مفید ہے، تاہم اس میں زمین کے مختلف حصوں کے حقیقی رقبے کا تناسب برقرار نہیں رہتا، جس کے باعث قطبی علاقوں کے قریب موجود خطے حقیقت سے کہیں بڑے دکھائی دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp